پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا آغاز
- جاز ، زونگ اور یوفون سمیت 3 ٹیلی کام آپریٹرز اس نیلامی میں حصہ لے رہے ہیں
وفاقی حکومت نے منگل کو طویل عرصے سے زیرِ التوا فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز کردیا جو ملک میں اگلی نسل کی موبائل خدمات کے آغاز اور تیز تر ڈیجیٹل رابطوں کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
نیلامی کا یہ عمل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیرِ انتظام جاری ہے جس میں بولی لگانے کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کے ہمراہ مشترکہ طور پر نیلامی کا افتتاح کیا۔
حکام کے مطابق بولی کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ ہوگا جس میں تین ٹیلی کام آپریٹرز، جن میں جاز، زونگ اور یوفون شامل ہیں، نیلامی میں حصہ لے رہے ہیں۔
نیلامی میں مختلف فریکوئنسی بینڈز کا اسپیکٹرم شامل ہے جس کا مقصد موبائل براڈ بینڈ کی صلاحیت میں اضافہ اور 5 جی سروسز کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ زیرِ غور اہم بینڈز میں 700 میگا ہرٹز شامل ہے جو دیہی علاقوں میں وسیع کوریج کے لیے استعمال ہوگا، 2.6 گیگا ہرٹز جو 4 جی سروسز کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا جبکہ 3.5 گیگا ہرٹز کو 5 جی نیٹ ورک کی تعیناتی کے لیے بنیادی بینڈ قرار دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی سروس کے معیار کو بہتر بنانے، اسپیکٹرم کی کمی کو دور کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں تیزی لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) سمیت دیگر اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمان نے کہا کہ طویل انتظار کے بعد بالآخر یہ دن آگیا ہے۔ انہوں نے ایف اے بی اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اضافی اسپیکٹرم دستیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم کی کمی طویل عرصے سے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل رابطے کو ڈیجیٹل ہائی وے اور پاکستان کی معیشت کا انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نیلامی کے آغاز کے ساتھ ہی ملک ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو رہا ہے۔
حفیظ الرحمان نے ایک اہم پالیسی اقدام کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے رائٹ آف وے چارجز ختم کردیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیس جو پہلے 36 ہزار روپے فی کلومیٹر تھی، اسے صفر کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی توسیع اور فائبر نیٹ ورک بچھانے کے عمل کو آسان بنایا جاسکے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فائیو جی کی نیلامی کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم (سازگار ماحول) تشکیل دے دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی متعدد شعبوں میں استعمال کے قابل ہو گی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو معاونت فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافہ ہوگا جبکہ وزیرِاعظم ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے کو فعال طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔
دریں اثنا وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اس دن کو پاکستان کی تکنیکی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی تکنیکی انقلاب سے پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 2013-14 میں 3 جی اور 4 جی کے دور میں داخل ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی نیلامی نہ صرف 5 جی سروسز متعارف کرائے گی بلکہ 4 جی کے معیار میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان فی الحال 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے، جبکہ موجودہ نیلامی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صارفین 4 سے 5 ماہ کے اندر 4 جی سروسز میں بہتری محسوس کریں گے جبکہ 5 جی سروسز متوقع طور پر 6 ماہ کے اندر بڑے شہروں میں لانچ کی جائیں گی۔
تقریب کے دوران عامر شہزاد نے شرکاء کو بریف کیا کہ حکومت نے 5 جی نیلامی کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور ایک بین الاقوامی مشیر کو بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مشیر کی رپورٹ کے بعد حکومت نے پالیسی ہدایات جاری کیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نیلامی کے لیے انفارمیشن میمورینڈم جاری کیا۔