معاشی نمو کی بحالی کیلئے ایکسپورٹ ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے، احسن اقبال
- معیشت بحالی کی علامات دکھا رہی ہے، جس میں کم ہوتی مہنگائی، بڑھتی صنعتی پیداوار، برآمدات میں اضافہ اور مضبوط ترسیلات زر شامل ہیں، وزیر مںصوبہ بندی
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پیر کو حکومت سے درخواست کی کہ وہ تجارتی بحالی اور برآمدات کی بنیاد پر معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے ایکسپورٹ ایمرجنسی کا اعلان کرے۔ ماہانہ ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی علامات دکھا رہی ہے، جس میں کم ہوتی مہنگائی، بڑھتی صنعتی پیداوار، برآمدات میں اضافہ اور مضبوط ترسیلات زر شامل ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے تجویز دی کہ برآمد کنندگان کی مدد کے لیے ہاٹ لائن قائم کی جائے اور برآمد کنندگان کی ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی 3.7 فیصد نمو کے ساتھ بڑھا، جبکہ صنعتی شعبہ 9.4 فیصد بڑھا اور زراعت و خدمات کے شعبے مستحکم رہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ مہنگائی جولائی میں 7.2 فیصد سے کم ہو کر دسمبر میں 5.2 فیصد تک پہنچ گئی، اور جولائی تا نومبر مالی سال 2026 میں برآمدات 1 فیصد بڑھ کر 16.6 ارب ڈالر ہو گئیں۔ انہوں نے ترقیاتی اخراجات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پہلے چھ ماہ میں 356 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 210 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں، اور حالیہ منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں سے ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار براہِ راست اور 64,500 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ممالک ہیں جہاں پولیو ابھی موجود ہے اور اس کا خاتمہ قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے 2027 تک مضبوط بنیاد قائم کرنا ضروری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026