ڈسکوز نے بجلی 1.34 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کردی
- اس کے ذریعے تین ماہ کے دوران 23 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد اضافی رقم وصول کی جائے گی
ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے لیے بجلی صارفین سے 1.34 روپے فی یونٹ مثبت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) وصول کرنے کی درخواست کردی ہے، جس کے ذریعے تین ماہ کے دوران 23 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد اضافی رقم وصول کی جائے گی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے درخواستوں کا جائزہ لینے اور قابل قبول ایڈجسٹمنٹ کا تعین کرنے کے لیے 17 نومبر 2026 کو عوامی سماعت مقرر کردی ہے۔ مجوزہ اضافی وصولیاں دسمبر 2026، جنوری 2027 اور فروری 2027 کے بجلی بلوں میں کی جائیں گی۔
درخواست کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کپیسٹی چارجز، ٹرانسمیشن اخراجات، متغیر آپریشنز اینڈ مینٹیننس اخراجات، اضافی بجلی کے یونٹس اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات شامل ہیں۔
ڈسکوز نے مجموعی طور پر 23.326 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ طلب کی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ 38.917 ارب روپے کے کپیسٹی چارجز کا ہے، جبکہ متغیر آپریشنز اینڈ مینٹیننس اخراجات کی مد میں 5.597 ارب روپے اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ پر ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اثرات کی مد میں 7.790 ارب روپے مانگے گئے ہیں۔
تاہم اضافی بجلی کے یونٹس کے اثرات منفی 29.252 ارب روپے ظاہر کیے گئے ہیں، جس کے باعث مجموعی خالص ایڈجسٹمنٹ 23.326 ارب روپے رہ گئی ہے۔
کمپنیوں میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے 10.535 ارب روپے اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے 10.462 ارب روپے کی خالص ایڈجسٹمنٹ طلب کی ہے۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے 6.978 ارب روپے، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے 3.366 ارب روپے اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 2.995 ارب روپے مانگے ہیں۔
نیپرا کے مطابق وفاقی حکومت کی یکساں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق پالیسی ہدایات کے تحت منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔
واضح رہے کہ ڈسکوز کی جانب سے مانگی گئی رقم حتمی نہیں اور نیپرا عوامی سماعت کے بعد دعوؤں کا جائزہ لے کر قابل وصول رقم کا تعین کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments