سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے پیر کو کہا کہ جنوبی اور مغربی شہروں خمیس مشیط، ابہا، طائف اور نجران کے لیے الرٹ جاری کرنے کے کچھ ہی دیر بعد خطرہ ٹل گیا تھا۔ یہ پیشرفت یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے جاری بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی۔
یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بعد ازاں بتایا کہ اس نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو راستے میں ہی روک کر تباہ کردیا۔
یمن کی سرحد سے متصل سعودی عرب کے جنوبی علاقے کو حوثی باغیوں کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے بار بار حملوں کا سامنا رہا ہے جن میں فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں جازان بھی شامل ہے، جہاں بحیرہ احمر کے ساحل پر روزانہ 4 لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی آئل ریفائنری واقع ہے۔
سعودی عرب نے بھی یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، کیونکہ تازہ جھڑپوں کے باعث مملکت کی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔
حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن اور ینبع میں تیل برآمد کرنے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ینبع بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ ہے جہاں سے سعودی خام تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔























Comments