اوپیک پلس کا تیل کی پیداواری حدود برقرار رکھنے کا امکان
- اوپیک پلس میں تنظیم برائے ممالکِ برآمد کنندگانِ تیل (اوپیک) اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے رکن ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں دسمبر کے لیے تیل کی پیداواری حدود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کے سات بنیادی ارکان اصولی طور پر اگلے ماہ پیداوار موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ توقع ہے کہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں آئندہ سال تک مؤخر رہیں گی۔
اتوار کو ہونے والے آن لائن اجلاس میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شرکت کریں گے۔ خلیجی ممالک تنازع کے باعث کئی ماہ سے متاثر ہونے والی تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم بیشتر ممالک اب بھی مقررہ پیداواری اہداف سے کم تیل نکال رہے ہیں۔
اوپیک پلس میں تنظیم برائے ممالکِ برآمد کنندگانِ تیل (اوپیک) اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں۔
گروپ نے 2026 کے بیشتر عرصے میں پیداواری اہداف میں اضافہ کیا اور ستمبر میں یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل کی سپلائی کٹوتی مرحلہ وار ختم کردی، جس پر 2023 میں اتفاق کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور نومبر کے لیے بھی پیداواری اہداف برقرار رکھے گئے تھے۔
رائٹرز نے جولائی میں رپورٹ کیا تھا کہ اوپیک پلس چوتھی سہ ماہی میں پیداواری اہداف میں تبدیلی نہیں کرے گا اور اس کی توجہ 2027 کے پیداواری کوٹے پر مذاکرات پر مرکوز رہے گی۔
گروپ کے بیشتر ارکان کے لیے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل کی اضافی پیداواری کٹوتی بھی 2026 کے اختتام تک برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق اوپیک پلس کو چوتھی سہ ماہی میں رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ مکمل کرنا ہے، جس کے بعد 2027 کے بنیادی پیداواری اہداف طے کیے جائیں گے۔ یہی اہداف مستقبل کے کوٹے اور موجودہ پیداواری کٹوتیوں میں کمی کے منصوبوں کی بنیاد بنیں گے۔


Comments