ایس ای سی پی نے 39,704 کمپنیوں کو ان ایکٹو بائے رجسٹرار قرار دے دیا
- غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور کی 13,927، اسلام آباد کی 13,859، کراچی کی 4,868، پشاور کی 2,031، ملتان کی 1,861، فیصل آباد کی 1,384، گلگت کی 1,102، کوئٹہ کی 436 اور سکھر کی 236 کمپنیاں شامل ہیں
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مسلسل چار سال تک سالانہ گوشوارے اور مالیاتی بیانات جمع نہ کرانے پر 39 ہزار 704 کمپنیوں کو رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال قرار دے دیا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان کمپنیوں کی حیثیت ادارے کے ریکارڈ میں ظاہر ہوگی، جس تک بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی رسائی حاصل ہوگی۔ غیر فعال کمپنیوں کے لیے نئے بینک اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی ہوگی، جبکہ موجودہ اکاؤنٹس بھی واجب الادا دستاویزات جمع کرانے اور دوبارہ فعال حیثیت حاصل کرنے تک منجمد رہیں گے۔ یہ کمپنیاں مالیاتی خدمات سے استفادہ کرنے اور ڈائریکٹرز کی تبدیلی کے اندراج کی بھی اہل نہیں ہوں گی۔
غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور کی 13,927، اسلام آباد کی 13,859، کراچی کی 4,868، پشاور کی 2,031، ملتان کی 1,861، فیصل آباد کی 1,384، گلگت کی 1,102، کوئٹہ کی 436 اور سکھر کی 236 کمپنیاں شامل ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ گوشوارے اور حسبِ ضرورت مالیاتی بیانات جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ ان دستاویزات کے ذریعے کمپنیوں کی ملکیت اور انتظامی امور سے متعلق معلومات اپ ڈیٹ رہتی ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک دستاویزات جمع نہ کرانے سے کارپوریٹ ریکارڈ کی شفافیت متاثر ہوتی ہے اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی کوششوں میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

























Comments