پاکستان کا 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ
- فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری کا عمل جاری، حیدرآباد اور سکھر کی کمپنیوں کی نجکاری دوسرے مرحلے میں مکمل ہونے کا امکان
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان تین کمپنیوں میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) شامل ہیں۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محمد علی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ تینوں کمپنیوں کی جانچ پڑتال کا عمل پہلے ہی جاری ہے، جبکہ ممکنہ سرمایہ کاروں نے پیچیدہ نوعیت کے ان سودوں کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر دسمبر میں بولیاں طلب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم اس عمل میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے اور اب اسے آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر بھی کام شروع کردیا ہے، جن کے سودے 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیاں بھی حکومت کے نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں، جن کا عمل 2027 کے دوسرے نصف میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
محمد علی نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بلند لاگت صنعتی مسابقت، برآمدات اور معاشی ترقی کو متاثر کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بجلی کے نرخ کم کرنے اور بجلی کی فراہمی کے شعبے میں مسابقت متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین اور صنعتیں قومی بجلی نظام سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں۔
کے الیکٹرک کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ سرمایہ کاروں نے ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال، بجلی کے نرخوں میں ردوبدل اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان خدشات دور کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر کام کررہی ہے، جن میں بولیاں طلب کرنے سے قبل سرمایہ کاری کے منصوبوں اور کثیر سالہ نرخوں کو حتمی شکل دینا بھی شامل ہے۔
محمد علی کے مطابق نجکاری کے بعد بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اسمارٹ میٹرنگ، ٹیکنالوجی کے استعمال، بجلی کے نقصانات میں کمی، وصولیوں میں بہتری، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانا لازمی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والے سرمایہ کاروں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے، جبکہ بہتر کارکردگی اور نقصانات میں کمی پر انعامات دیے جائیں گے۔ کارکردگی میں بہتری کے ثمرات صارفین تک بھی پہنچائے جائیں گے۔
نجکاری کمیشن نے نرخوں کے ڈھانچے، سرمایہ کاری کے منصوبوں، کاروباری سرگرمیوں اور مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام سے متعلق اصلاحاتی دستاویز تیار کرلی ہے۔
محمد علی نے بتایا کہ متعلقہ اداروں، وزیراعظم اور اسٹیئرنگ کمیٹی سے مشاورت کے بعد حکومت نومبر کے وسط تک اصلاحاتی تجاویز عوام کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت یکساں بجلی نرخوں کے نظام سے بتدریج مرحلہ وار گریز کرتے ہوئے مسابقتی بجلی فراہم کنندگان کا نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے، تاہم ایسے صارفین کے لیے آخری متبادل کے طور پر ایک بجلی فراہم کنندہ برقرار رکھا جائے گا جنہیں مسابقتی فراہم کنندگان تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
محمد علی نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں دیا جائے گا، جبکہ اس کا تعین مہنگائی سے منسلک بنیادوں اور کیپیٹل ایسٹ پرائسنگ ماڈل کے تحت کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کو ان کی سرمایہ کاری پر منصفانہ منافع ملنا چاہیے، تاہم حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ کارکردگی میں بہتری کے فوائد صارفین تک پہنچیں۔
ملازمین کے تحفظات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور ایک مخصوص مدت مقرر کرے گی جس کے دوران سرمایہ کاروں کو ملازمین کے خلاف کوئی منفی کارروائی کرنے یا ان کی ملازمت کی شرائط تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔























Comments