حوثی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 86 سینٹ یا 0.75 فیصد اضافے سے 115.74 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعے کو ابتدائی کاروبار کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت کے بعد تیل کی رسد سے متعلق خدشات ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے ماہ اضافے کی جانب گامزن ہیں، جبکہ جولائی کے بعد ماہانہ بنیادوں پر سب سے بڑا اضافہ متوقع ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 86 سینٹ یا 0.75 فیصد اضافے سے 115.74 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ 72 سینٹ یا 0.71 فیصد بڑھ کر 102.72 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
ماہانہ بنیادوں پر برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے نرخوں میں 15 فیصد اضافے کی توقع ہے، جس کے بعد یہ اپریل کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں گے۔
جمعرات کو حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ، رابغ ریفائنری اور آرامکو کی ابقیق تنصیب شامل ہیں۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کے مغربی علاقے کی طرف داغا گیا کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
ایم ایس ٹی مارکی کے سربراہ برائے توانائی تحقیق سول کاوونک کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف مسلسل فوجی کارروائیوں اور سفارتی حل کے امکانات پر شکوک کے باعث تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، کیونکہ آنے والے ہفتوں میں تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے طبی سامان کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران کو وینس کا خط موصول ہوگیا ہے، تاہم اس نے تاحال جواب نہیں دیا۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں تین آئل ٹینکرز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔
علاقائی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایکسون موبل اور شیورون نے متحدہ عرب امارات میں آئندہ ہفتے ہونے والی تیل کی بڑی نمائش میں اپنے اعلیٰ عہدیداروں کی شرکت منسوخ کردی ہے۔























Comments