دہشت گردی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں
- سرحد پار اتنی بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کی موجودگی افغان طالبان انتظامیہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی آمادگی اور صلاحیت کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھاتی ہے
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ انتباہات کو نئی اہمیت حاصل ہوگئی ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے رپورٹ کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اندازاً 6 ہزار جنگجو افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان حکام کے ساتھ حالیہ رابطے میں اس رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، جس میں اس گروہ کے لیے طالبان کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان نتائج پر عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے بارہا اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ اسے ایسی شورش کے انسانی اور معاشی نتائج بھی مسلسل بھگتنا پڑ رہے ہیں جس میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں جا چکی ہیں اور قومی وسائل پر غیر معمولی دباؤ پڑا ہے۔
سرحد پار اتنی بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کی موجودگی افغان طالبان انتظامیہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی آمادگی اور صلاحیت کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔ پاکستان مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے شہریوں کے خلاف حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جائے۔ کابل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتا ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کے ایک آزاد نگرانی کے نظام کی یہ رپورٹ اسلام آباد کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے اور اس مسئلے کو مسلسل مسترد کرنا ناقابلِ جواز بناتا جا رہا ہے۔ طالبان حکام کو قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ گاہیں، رسد اور معاونت اور کارروائیاں کرنے کی آزادی فراہم نہیں کی جا رہی۔
پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ دہشت گردی کے تشدد نے قیمتی جانیں لی ہیں، معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے اور ریاست کو اس خطرے پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی اور سکیورٹی وسائل مختص کرنے پر مجبور کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی آبادی بار بار عدم تحفظ کا سامنا کرتی رہی ہے، جبکہ کاروباری ادارے اور عام شہری بھی اس کے وسیع تر نتائج بھگت رہے ہیں۔ ان اخراجات کا دائرہ فوری جانی نقصان یا بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلسل تشدد سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، ترقیاتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے اور عوامی وسائل کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی خدمات سے ہٹا کر سکیورٹی کے مسائل پر صرف کرنے کا سبب بنتا ہے۔
افغانستان میں ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی دستیابی اس صورت حال میں ایک اور تشویش ناک پہلو کا اضافہ کرتی ہے۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امریکی مالی معاونت سے حاصل کیا گیا بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان رہ گیا تھا، جس کا بیشتر حصہ پہلے افغان حکومت کی افواج کو فراہم کیا گیا تھا۔ پاکستان نے بارہا اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی ساختہ جدید ہتھیار ان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں نظر آ رہے ہیں جو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔ مخصوص ہتھیاروں کی اصل اور ان کی منتقلی کے راستوں کا تعین کرنے کے لیے قابلِ اعتماد سراغ رسانی اور تحقیقات ضروری ہیں، تاہم فوجی سازوسامان کے غیر محفوظ ذخائر سے پیدا ہونے والے وسیع تر خطرے کو عالمی سطح پر جانچنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے سکیورٹی ماحول کے ذمہ دار عناصر اس امکان کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ایسا سازوسامان اس کی سرحدوں سے باہر عسکریت پسندوں کے تشدد کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
لہٰذا ٹی ٹی پی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کو تسلیم کرنے اور اسے عملی بین الاقوامی حمایت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے نتائج کو کابل کے ساتھ مضبوط سفارتی رابطوں، عسکریت پسندوں کی مالی معاونت اور رسدی نیٹ ورکس کو توڑنے کی مربوط کوششوں اور انسداد دہشت گردی کے وعدوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے مؤثر طریقہ کار کو فروغ دینے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کو قابلِ پیمائش نتائج پر اصرار کرنا چاہیے، جن میں تربیتی مراکز، قیادت کے ڈھانچوں اور سرحد پار کارروائیوں کے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ کابل کی جانب سے یقین دہانیوں پر اسی وقت اعتبار کیا جاسکتا ہے جب ان کے ساتھ زمینی سطح پر قابلِ مشاہدہ تبدیلیاں بھی سامنے آئیں۔
دریں اثنا، اسلام آباد کو ایک مربوط حکمت عملی برقرار رکھنی چاہیے، جس میں مؤثر ملکی انسداد دہشت گردی کارروائیاں، انٹیلی جنس کے شعبے میں رابطہ کاری، سرحدی انتظام اور سفارتی دباؤ شامل ہوں۔ سرحد پار کیے جانے والے کسی بھی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے تحفظ کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری بھی ضروری ہے، کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام کے خطرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس سے وسیع تر خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔
افغان طالبان حکام کے پاس اب بھی تصادم کے بجائے تعاون کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کا موقع موجود ہے۔ افغان سرزمین کو دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ان کی ذمہ داری پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی قابلِ اعتماد بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اب خطرے کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تشویش کو عملی شکل دیتے ہوئے طالبان حکام پر معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کے لیے بامعنی دباؤ ڈالنا چاہیے۔
پاکستان کے لیے مسلسل عدم کارروائی کی قیمت انسانی جانوں کے ضیاع، معاشی مواقع کے نقصان اور ایسے وسائل کے ضیاع کی صورت میں سامنے آ رہی ہے جنہیں خرچ کرنے کی ملک بمشکل استطاعت رکھتا ہے۔ عسکریت پسندوں کو سرحد پار پناہ گاہیں مل گئی ہوں گی، لیکن ان کے متاثرین کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026




















Comments