پاکستان کا قطر سے مذاکرات میں جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط کا مطالبہ
- پاکستان نے قطر پر زور دیا کہ وہ جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے میں تعاون کرے
وزارتِ تجارت نے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر جلد دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستانی مصنوعات کے لیے منڈیوں تک زیادہ رسائی اور اہم شعبوں میں قطری سرمایہ کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارتی امور ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے 24 اکتوبر کو پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ٹاسک فورس (جے ٹی ایف) کے دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کا جائزہ لیا گیا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے گئے۔
پاکستان نے قطر پر زور دیا کہ وہ جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے میں تعاون کرے۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ پاکستان معاہدے کی منظوری سے متعلق اپنا داخلی عمل مکمل کر چکا ہے اور منظور شدہ معاہدے کا متن 31 دسمبر 2025 کو جی سی سی سیکریٹریٹ کو بھجوا دیا گیا تھا۔
پاکستانی وفد نے قطر کو ہڈی والے گوشت کی برآمد پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس حوالے سے پاکستان نے بتایا کہ جانوروں کی صحت اور خوراک کے تحفظ سے متعلق تقاضوں پر مشتمل تکنیکی دستاویزات قطری حکام کو فراہم کی جا چکی ہیں۔
اجلاس میں زراعت، غذائی تحفظ، صنعتی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) اور قطر کی کمپنی حصاد فوڈ کے درمیان پاکستانی چاول کی فراہمی کے لیے حکومت سے حکومت کی سطح پر مجوزہ معاہدے کو بھی اجاگر کیا۔ یہ تجویز وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
پاکستان نے قطر کو اناج ذخیرہ کرنے، سائلوز، سرد خانوں، جدید زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
صنعتی شعبے میں پاکستان نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور برقی گاڑیوں کی تیاری، مشترکہ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شراکت داری کے مواقع پیش کیے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل خدمات میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی اجاگر کیے گئے۔
پاکستان نے بحری جہاز رانی کے شعبے میں تیل بردار جہازوں، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہازوں اور کنٹینر بردار جہازوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کی۔ اس کے علاوہ مجوزہ کراچی۔حیدرآباد موٹروے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی، جس کا مقصد بندرگاہوں، قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک اور علاقائی تجارتی راستوں، بالخصوص وسطی ایشیا، کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستانی وفد نے بنیادی ڈھانچے، زراعت، صنعتی ترقی اور دیگر ترجیحی شعبوں میں قطری سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا تصور بھی پیش کیا۔
دونوں ممالک نے 11 تکنیکی ورکنگ گروپس کو فعال بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان گروپس میں رسد و نقل و حمل، ہوا بازی، جدید مینوفیکچرنگ، کان کنی و معدنیات، زراعت، سیاحت، مالیاتی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نئے کاروبار جیسے شعبے شامل ہیں۔
پاکستان نے بتایا کہ وہ ورکنگ گروپس کی تشکیل سے متعلق تفصیلات قطر کے ساتھ شیئر کر چکا ہے اور قطر پر زور دیا کہ وہ اپنے نمائندے نامزد کرے تاکہ تیسرے اجلاس سے قبل تجارت و سرمایہ کاری کے ٹھوس مواقع کی نشاندہی شروع کی جا سکے۔ مشترکہ ٹاسک فورس کا تیسرا اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں وزرا نے پاکستان۔قطر مشترکہ ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کی کارروائی کی روداد پر دستخط کیے۔
علاوہ ازیں، جام کمال خان نے دوحہ میں ورلڈ انویسٹمنٹ فورم کی سربراہ نین لی کولنز سے بھی ملاقات کی۔ وزارتِ تجارت کے مطابق، ملاقات میں عالمی معیشت کو درپیش نئے چیلنجز کے تناظر میں علاقائی اقتصادی انضمام، رابطوں کے فروغ اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



















Comments