دبئی انویسٹمنٹس کی ذیلی کمپنی ڈی آئی پی ہولڈنگ کے 20 فیصد حصص فروخت کرنے کا منصوبہ
- اس پیشکش میں ایک ارب 74 کروڑ حصص شامل ہوں گے
دبئی انویسٹمنٹس نے اپنی ذیلی کمپنی ڈی آئی پی ہولڈنگ کے 20 فیصد حصص فروخت کے لیے پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ڈی آئی پی ہولڈنگ، دبئی انویسٹمنٹس پارک کے رئیل اسٹیٹ کاروبار کی مالک ہے۔ ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے میں آئی پی اوز کی سرگرمیاں محدود رہنے کے دوران یہ رواں سال متحدہ عرب امارات میں پہلی ابتدائی عوامی پیشکش ہوگی۔
ڈی آئی پی ہولڈنگ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ اس پیشکش میں ایک ارب 74 کروڑ حصص شامل ہوں گے جنہیں چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
حصص کی فروخت 27 اکتوبر سے 3 نومبر تک جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ دبئی فنانشل مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی خرید و فروخت کا آغاز تقریباً 11 نومبر کو ہوسکتا ہے۔
دبئی انویسٹمنٹس پارک 2 کروڑ 30 لاکھ مربع میٹر پر محیط ایک ترقیاتی منصوبہ ہے جس میں صنعتی، تجارتی اور رہائشی مقامات شامل ہیں۔ اس میں دفاتر، ہوٹل اور رہائشی عمارتیں بھی موجود ہیں جہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں جبکہ تقریباً ایک ہزار کرایہ دار کاروبار کررہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث رواں سال خلیجی خطے میں آئی پی اوز کی سرگرمیاں نمایاں طور پر سست پڑ گئی ہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور افریقا میں حصص کے اجرا کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم 2.3 ارب ڈالر رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 79 فیصد کم اور 2017 کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔
پیش کیے جانے والے تمام حصص موجودہ حصص ہیں، جنہیں سرمایہ کاری کمپنی دبئی انویسٹمنٹس فروخت کرے گی۔ کمپنی کے مطابق ڈی آئی پی ہولڈنگ کو آئی پی او سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوگی۔
ڈی آئی پی ہولڈنگ کو توقع ہے کہ وہ رواں مالی سال میں سالانہ بنیاد پر 70 کروڑ درہم (19 کروڑ 6 لاکھ ڈالر) کے منافعِ حصص ادا کرے گی جبکہ 2027 اور 2028 میں بالترتیب 72 کروڑ 50 لاکھ درہم اور 75 کروڑ درہم کے منافعِ حصص کی ادائیگی متوقع ہے۔
اس پیشکش کے لیے سٹی، ایمریٹس این بی ڈی اور ایچ ایس بی سی مشترکہ عالمی رابطہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
رائٹرز نے گزشتہ سال رپورٹ کیا تھا کہ دبئی انویسٹمنٹس، دبئی انویسٹمنٹس پارک کے کاروبار کو اسٹاک مارکیٹ میں پیش کرنے کے ممکنہ منصوبے پر بینکوں سے بات چیت کر رہی ہے۔





















Comments