گورنر اسٹیٹ بینک کا ملکی معیشت اور بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری کا دعویٰ
- زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے، مالی سال 2027 میں معاشی ترقی 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے عالمی سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال اور بیرونی مالیاتی ذخائر بہتر ہوئے ہیں، جس سے معیشت کو ملکی و عالمی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جمیل احمد نے 12 سے 17 اکتوبر تک تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر غیر ملکی سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
گورنر نے کہا کہ محتاط معاشی پالیسیوں اور اصلاحات سے ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ مالی سال 2026 میں مہنگائی نمایاں طور پر کم ہوکر ہدف کی حدود کے قریب آگئی، جبکہ معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے کم کی سطح کے مقابلے میں 9 اکتوبر 2026 تک بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی آئندہ ادائیگیوں کی ذمہ داریاں 5.7 ارب ڈالر سے زائد سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر سے نیچے آگئیں۔
گورنر کے مطابق مالی سال 2026 میں بنیادی بجٹ سرپلس مسلسل تیسرے سال حاصل کیا گیا، جبکہ آئی ایم ایف کے قرض پروگراموں کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا اور پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر ہوئی۔























Comments