ڈچ سرمایہ کاروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سرمایہ کاری کی دعوت
- ڈچ کاروباری وفد کے اعزاز میں ظہرانہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری تجارت کی شرکت
پاکستان نے ڈچ سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے، خصوصاً سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو برآمدات پر مبنی ترقی، نجی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے میں تبدیل کرنا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فاؤنڈرز کاربن نیٹ ورک (ایف سی این) کی قیادت میں پاکستان آنے والے ڈچ کاروباری وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ وفد کے ہمراہ پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ بھی تھے۔ ظہرانے میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکریٹری تجارت اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں ڈچ وفد کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، باہمی تفہیم کو فروغ دینے اور دوطرفہ اقتصادی تعاون مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیدرلینڈز کی کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل رابطوں سے تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، شراکت داریوں کے قیام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ معاشی استحکام سے حاصل ہونے والے فوائد کو پیداواری سرمایہ کاری، سرمائے کی تشکیل، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے اگلے مرحلے میں برآمدات کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دینا ہوگی جس کے لیے مسلسل ساختی اصلاحات اور نجی سرمائے کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا ناگزیر ہے۔
حکومت کی معاشی ترجیحات بیان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے معاشی استحکام کو مستحکم کرنے، مالیاتی اور بیرونی شعبوں میں معیشت کی مضبوطی بڑھانے، پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت اور ساختی اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا،ایس ایم ایز، زراعت، رہائش اور مالی سہولتوں سے محروم طبقات کے لیے قرضوں اور مالی وسائل تک رسائی وسیع کرنا جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے پاکستان کو نئی معیشت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کی مستحکم ہوتی ہوئی بیرونی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان فوائد کو برقرار رکھنا اور بیرونی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی قوتِ مزاحمت بڑھانا سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے تیز رفتار آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کو درپیش دو وجودی چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اثرات معاشی پائیداری، انسانی ترقی اور طویل مدتی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ اور مربوط اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اہم شعبوں میں ڈچ مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو نجی سرمایہ متحرک کرنے، خصوصی مہارت سے استفادہ کرنے اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کو تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے نجکاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے معیشت میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، سرمایہ کاری راغب کرنا اور تجارتی سرگرمیوں میں نجی کاروباروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے معاشی استحکام برقرار رکھنے، بیرونی شعبے کی قوتِ مزاحمت بڑھانے اور مالیاتی شعبے کی اصلاحات کو پیداواری معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سہولت کاری بورڈ رکاوٹیں دور کرنے اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈچ وفد کے ارکان نے پاکستان کے کاروباری ماحول اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
بات چیت میں کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی اور پاکستانی و ڈچ کمپنیوں کے درمیان تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل شراکت داریاں قائم کرنے کے مواقع اجاگر کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کی مستحکم ہوتی ہوئی بیرونی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان فوائد کو برقرار رکھنا اور بیرونی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی قوتِ مزاحمت بڑھانا سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے تیز رفتار آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کو درپیش دو وجودی چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اثرات معاشی پائیداری، انسانی ترقی اور طویل مدتی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ اور مربوط اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا کہ اہم شعبوں میں ڈچ مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو نجی سرمایہ متحرک کرنے، خصوصی مہارت سے استفادہ کرنے اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کو تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے نجکاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے معیشت میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، سرمایہ کاری راغب کرنا اور تجارتی سرگرمیوں میں نجی کاروباروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھنے، بیرونی شعبے کی قوتِ مزاحمت بڑھانے اور مالیاتی شعبے کی اصلاحات کو پیداواری معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سہولت کاری بورڈ رکاوٹیں دور کرنے اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈچ وفد کے ارکان نے پاکستان کے کاروباری ماحول اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
بات چیت میں کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی اور پاکستانی و ڈچ کمپنیوں کے درمیان تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل شراکت داریاں قائم کرنے کے مواقع اجاگر کیے گئے۔























Comments