BR100 Increased By (1.91%)
BR30 Increased By (2.79%)
KSE100 Increased By (1.56%)
KSE30 Increased By (1.67%)
BAFL 56.76 Increased By ▲ 0.71 (1.27%)
BIPL 24.71 Increased By ▲ 0.21 (0.86%)
BOP 29.72 Increased By ▲ 0.83 (2.87%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.72 (5.9%)
DFML 16.91 Increased By ▲ 0.20 (1.2%)
DGKC 186.97 Increased By ▲ 3.97 (2.17%)
FABL 93.53 Increased By ▲ 1.19 (1.29%)
FCCL 51.85 Increased By ▲ 1.85 (3.7%)
FFL 13.99 Increased By ▲ 0.17 (1.23%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.59 (3.16%)
HBL 302.83 Increased By ▲ 7.62 (2.58%)
HUBC 201.33 Increased By ▲ 5.76 (2.95%)
HUMNL 9.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.72 Increased By ▲ 0.42 (1.66%)
MLCF 91.29 Increased By ▲ 3.05 (3.46%)
OGDC 317.05 Increased By ▲ 6.71 (2.16%)
PAEL 33.98 Increased By ▲ 0.97 (2.94%)
PIBTL 13.57 Increased By ▲ 0.38 (2.88%)
PIOC 236.64 Increased By ▲ 5.63 (2.44%)
PPL 221.12 Increased By ▲ 4.64 (2.14%)
PRL 94.38 Increased By ▲ 6.96 (7.96%)
SNGP 90.69 Increased By ▲ 2.62 (2.97%)
SSGC 23.07 Increased By ▲ 0.59 (2.62%)
TELE 7.24 Increased By ▲ 0.27 (3.87%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 55.34 Increased By ▲ 3.89 (7.56%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
دنیا

بھارت میں انتخابی سربراہ کے خلاف احتجاج پر اپوزیشن ارکان گرفتار

  • ووٹر فہرستوں میں متنازع تبدیلیوں اور مبینہ جانبداری پر نئی دہلی میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی پولیس نے منگل کو دارالحکومت نئی دہلی میں متعدد اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا، جو انتخابی سربراہ کے استعفے کے مطالبے کے لیے نکالی گئی احتجاجی ریلی کے دوران رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے ووٹر فہرستوں میں متنازع نظرثانی کے خلاف احتجاج کیا۔

یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران ان کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ چند ماہ قبل بھی اسی نوعیت کے احتجاج کے نتیجے میں امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر ان کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

مودی حکومت کی مخالف جماعتوں اور ’کاکروچ‘ نوجوان تحریک کے ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔ گزشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس نے انتخابی ادارے میں اختلافات کی رپورٹ دی تھی۔

ووٹر فہرستوں اور ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار پر سامنے آنے والے اختلافات کے باعث مودی حکومت کے مقرر کردہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیشن کی غیر جانب داری پر خدشات پیدا ہوئے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے احتجاجی مارچ شروع ہونے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہے۔ ہم اپنی جمہوریت کو بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور پرچم اٹھائے نعرے لگائے

ارکان پارلیمنٹ نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، قومی پرچم لہرائے اور کمار کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پارلیمنٹ سے دہلی کے مرکز سے گزرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر تک تقریباً ایک کلومیٹر طویل مارچ کیا۔

کچھ مظاہرین کے پلے کارڈز پر کمار کو غدار قرار دیا گیا تھا جبکہ بی جے پی پر ووٹ دینے کا حق چھیننے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ مظاہرین الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سڑک پر بیٹھ گئے اور گیانیش کمار سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی اور کئی دیگر رہنما پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں پر کھڑے ہو کر قومی پرچم لہراتے اور گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے۔

سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے، جن میں بعض نے فسادات سے نمٹنے والا حفاظتی سامان پہن رکھا تھا اور لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں، راہول گاندھی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

پولیس نے فوری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بی جے پی کا کہنا ہے احتجاج سے انتشار کو ہوا مل رہی ہے

بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے منگل کے احتجاج سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارہا ناکامی کے بعد کانگریس رہنماؤں نے ملک میں انتشار پھیلانے اور اداروں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹی وی چینلز کے مطابق راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی بھی مختصر وقت کے لیے حراست میں لیے جانے والوں میں شامل تھے، تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔

چینلز کے مطابق دونوں نے احتجاجی مقام سے ملحق ریاستی ریڈیو کے دفتر کے احاطے سے داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم راستہ بند ہونے کے بعد وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر احتجاج کرنے لگے۔

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ ووٹر فہرستوں سے مودی اور ان کی جماعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ گیانیش کمار نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم الیکشن کمیشن اور مودی کی جماعت بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

منگل کا احتجاج طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور ’کاکروچ‘ تحریک کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے تقریباً روزانہ کے مظاہروں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن کی ووٹر مہم اور اس کے سربراہ کے طرز عمل سے متعلق الزامات میں مداخلت کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی۔

عدالت نے سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کے بعد کہا کہ اگر قانون کے خلاف فیصلے کیے گئے ہیں تو ہم اس کا خیال رکھیں گے۔

Comments

200 حروف