امریکی ایکسِم بینک کیا ہے اور پاکستان نے اب اس سے رجوع کیوں کیا؟
- پاکستان بڑے منصوبوں کی فنانسنگ کے لیے امریکی ایکسِم بینک سے رجوع کر رہا ہے، جس نے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ منظور کر رکھی ہے، جبکہ پی آئی اے کے لیے بوئنگ طیاروں کی خریداری بھی اسی ذریعے سے فنانسنگ حاصل کرنے کی کوششوں میں شامل ہے
پاکستان کے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسِم) کے ساتھ حالیہ مذاکرات نے بڑے منصوبوں کے لیے فنانسنگ کا ایک نیا راستہ کھول دیا ہے، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے مجوزہ بوئنگ طیاروں کی خریداری سے لے کر ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور ریکوڈک کان کنی منصوبے تک شامل ہیں۔
لیکن امریکی ایکسِم بینک آخر ہے کیا، پاکستان نے اچانک اس سے بات چیت کیوں شروع کی ہے اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے وسیع تر معاشی تعلقات میں اس کا کیا کردار ہے؟
امریکی ایکسِم بینک کیا ہے؟
امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک امریکا کی سرکاری ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی ہے۔ اس کا مقصد نجی شعبے کے قرض دہندگان کی جانب سے مطلوبہ فنانسنگ فراہم نہ کرنے یا اس پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں مالی معاونت، قرضوں کی ضمانت اور انشورنس فراہم کرکے امریکی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
سادہ الفاظ میں، ایکسِم غیرملکی خریداروں کو امریکی اشیا، آلات اور خدمات کی خریداری کے لیے فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے عالمی کاروباری مسابقت آسان ہوجاتی ہے۔
اسی لیے بوئنگ طیاروں کا معاملہ اہم ہے۔ اگر پی آئی اے بوئنگ طیارے خریدنا چاہتی ہے تو ایکسِم ممکنہ طور پر اس لین دین کے لیے فنانسنگ فراہم کرسکتا ہے کیونکہ یہ طیارے امریکی برآمدات ہیں۔ فنانسنگ کو خود طیاروں کو بنیاد بنا کر ترتیب دیا جاسکتا ہے، جبکہ بینک ایئرلائن یا لیز پر لینے والے ادارے کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لے گا۔
امریکی ایکسِم بینک کو پاکستان کے اپنے ایکسِم بینک سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں مختلف ممالک کے الگ الگ ادارے ہیں۔ پاکستان کا ایکسِم بینک پاکستانی برآمدات کی معاونت اور فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے، جبکہ امریکی ایکسِم بینک کا مینڈیٹ امریکی برآمدات اور امریکی روزگار کو فروغ دینا ہے۔
تو پاکستان اب اس سے بات کیوں کررہا ہے؟
یہ مذاکرات پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور بڑے پاکستانی منصوبوں میں امریکی فنانسنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
جولائی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان پانچ سال میں امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو دگنا کرکے 20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ تجارت 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے امریکا کو پاکستان کی سب سے بڑی واحد ملکی برآمدی منڈی قرار دیتے ہوئے ٹیکنالوجی، معدنیات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا تھا۔
لہٰذا ایکسِم کے ساتھ مذاکرات محض ایک اور قرض حاصل کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ تجارت، سرمایہ کاری، امریکی سپلائرز اور منصوبوں کی فنانسنگ کو زیادہ مربوط بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کی الگ درخواست کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق یہ روایتی قرض یا کریڈٹ لائن نہیں بلکہ زرمبادلہ کے استحکام کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو مارکیٹ پر مبنی فنانسنگ کی جانب بڑھنے میں مدد دینے کے لیے مطلوب ہے۔ ان کے بیان کے وقت تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
پی آئی اے کے معاملے میں کیا ہورہا ہے؟
پاکستان نے پی آئی اے کے مجوزہ طیاروں، بالخصوص بوئنگ 787 ڈریم لائنرز کی خریداری کے لیے امریکی ایکسِم بینک سے فنانسنگ طلب کی ہے، جس میں طیاروں اور انجنوں کی فنانسنگ بھی شامل ہے۔
اورنگزیب نے گراؤنڈ کیے گئے بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ سروس میں لانے کے لیے اسپئیر پارٹس کی ضرورت بھی اجاگر کی ہے۔
دونوں فریقوں نے تعاون کے وسیع تر فریم ورک پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ممکنہ طور پر طیاروں کی پری ڈیلیوری ادائیگیوں سمیت مخصوص لین دین کے لیے فنانسنگ کو ترجیح دی جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ حکومت خود طیارے خرید نہیں رہی۔ وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق کسی خودمختار حکومتی ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسے سے حکومتی قرض کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ممکنہ طور پر ایکسِم طیاروں کے لیے براہِ راست فنانسنگ فراہم کرے گا اور پی آئی اے یا اسے لیز پر لینے والے ادارے کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لے گا، جس کا مطلب ہے کہ خودمختار حکومتی ضمانت لازمی نہیں ہوگی۔
ریفائنریوں کا کیا معاملہ ہے؟
ریفائنریوں کی جدید کاری بھی ان شعبوں میں شامل ہے جہاں پاکستان امریکی ایکسِم بینک سے ممکنہ معاونت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
مذاکرات میں ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے، تاہم ریکوڈک کے برعکس یہ معاملہ ابھی امکانات تلاش کرنے کے مرحلے میں ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فنانسنگ پیکیج طے نہیں ہوا۔
ریکوڈک معاملہ اس سے آگے بڑھ چکا ہے
اب تک سب سے واضح پیش رفت ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی جانب سے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری ہے۔
پاکستان نے اس فنانسنگ کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ وزیر خزانہ اورنگزیب نے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان کی مستقبل کی برآمدات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے میں تاخیر کی لاگت پر بھی زور دیا ہے۔
اب تک کیا طے ہوا ہے؟
منظور شدہ: ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ۔
زیرِ غور: پی آئی اے کے بوئنگ طیاروں اور انجنوں کی فنانسنگ، ممکنہ پری ڈیلیوری ادائیگیاں، بوئنگ 777 کے اسپئیر پارٹس اور ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن۔
وسیع تر منصوبہ: پاکستان اور امریکی ایکسِم بینک ایک ایسے وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر کام کررہے ہیں جس کے ذریعے ایسے منصوبوں کی فہرست تیار کی جاسکے گی جو امریکی فنانسنگ کے اہل ہوں۔
لہٰذا یہ پاکستان کو دیا جانے والا کوئی ایک نیا امریکی قرض نہیں بلکہ فنانسنگ کا ایک ایسا راستہ تیار کرنے کی کوشش ہے جو پاکستانی منصوبوں کو امریکی کمپنیوں، آلات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ سے جوڑ سکے۔ ساتھ ہی یہ اسلام آباد کی واشنگٹن کے ساتھ تجارت اور معاشی تعلقات کو وسعت دینے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔




















Comments