BR100 Increased By (1.46%)
BR30 Increased By (2.26%)
KSE100 Increased By (1.16%)
KSE30 Increased By (1.23%)
BAFL 56.38 Increased By ▲ 0.33 (0.59%)
BIPL 24.74 Increased By ▲ 0.24 (0.98%)
BOP 29.58 Increased By ▲ 0.69 (2.39%)
CNERGY 12.81 Increased By ▲ 0.60 (4.91%)
DFML 16.95 Increased By ▲ 0.24 (1.44%)
DGKC 186.60 Increased By ▲ 3.60 (1.97%)
FABL 93.30 Increased By ▲ 0.96 (1.04%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 1.67 (3.34%)
FFL 14.00 Increased By ▲ 0.18 (1.3%)
GGL 19.34 Increased By ▲ 0.67 (3.59%)
HBL 301.50 Increased By ▲ 6.29 (2.13%)
HUBC 200.50 Increased By ▲ 4.93 (2.52%)
HUMNL 9.39 Increased By ▲ 0.10 (1.08%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.70 Increased By ▲ 0.40 (1.58%)
MLCF 91.15 Increased By ▲ 2.91 (3.3%)
OGDC 316.00 Increased By ▲ 5.66 (1.82%)
PAEL 33.65 Increased By ▲ 0.64 (1.94%)
PIBTL 13.60 Increased By ▲ 0.41 (3.11%)
PIOC 236.00 Increased By ▲ 4.99 (2.16%)
PPL 220.05 Increased By ▲ 3.57 (1.65%)
PRL 91.20 Increased By ▲ 3.78 (4.32%)
SNGP 89.40 Increased By ▲ 1.33 (1.51%)
SSGC 23.00 Increased By ▲ 0.52 (2.31%)
TELE 7.22 Increased By ▲ 0.25 (3.59%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 53.52 Increased By ▲ 2.07 (4.02%)
UNITY 7.74 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
کاروبار اور معیشت

ایس ای سی پی کا کمپنیوں کو 28 اکتوبر تک اے جی ایمز منعقد کرنے کا مشورہ

  • کمپنیوں کو اپنے سالانہ یو بی او سے متعلق تقاضے بھی مکمل کرنا ہوں گے
شائع اپ ڈیٹ

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ان کمپنیوں کو جن کا مالی سال 30 جون 2026 کو ختم ہوا مشورہ دیا ہے کہ وہ 28 اکتوبر 2026 تک اپنی سالانہ جنرل میٹنگ منعقد کریں اور اپنے سالانہ ریٹرن اور حتمی حقیقی ملکیت (یو بی او) کی فائلنگ کو مکمل کریں۔

ریگولیٹر نے منگل کو بتایا کہ ان کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مالی سال کے اختتام کے 120 دن کے اندر سالانہ جنرل میٹنگز (اے جی ایمز) منعقد کریں۔

انہوں نے کہا کہ اے جی ایم کے بعد کمپنیوں کو ایسی صورت میں فارم اے جمع کرانا ہوگا جب تفصیلات میں کوئی تبدیلی ہوئی ہو جب کہ اگر گزشتہ سالانہ ریٹرن (اے آر) کے مقابلے میں تفصیلات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو تو فارم 24 جمع کرانا ضروری ہوگا۔

ریگولیٹر نے بتایا کہ سنگل ممبر کمپنیوں اور 30 لاکھ روپے سے زیادہ ادا شدہ سرمائے نہ رکھنے والی نجی کمپنیوں کو سالانہ ریٹرن جمع کرانے سے استثنیٰ ہے بشرطیکہ ان کے گزشتہ ریٹرن میں درج تفصیلات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کو اپنے سالانہ یو بی او سے متعلق تقاضے بھی مکمل کرنا ہوں گے جن میں مطلوبہ نوٹسز جاری کرنا، ڈیکلیئریشنز اور تازہ ترین معلومات حاصل کرنا، یو بی او رجسٹر برقرار رکھنا اور اپنے سالانہ ریٹرن (آر) کے ساتھ رجسٹرار کو فارم 19 جمع کرانا شامل ہے جہاں سالانہ ریٹرن (اے آر) جمع کرانا ضروری نہ ہو وہاں فارم 19 کیلنڈر سال کے اختتام کے 30 دن کے اندر جمع کرانا ہوگا۔

ایس ای سی پی نے کمپنیوں کو یہ بھی ترغیب دی کہ وہ اپنے ریکارڈ کا جائزہ لیں اور بروقت تعمیل کو یقینی بنانے اور کارپوریٹ معلومات کو تازہ رکھنے کے لیے مطلوبہ فائلنگز پہلے سے تیار کریں۔

Comments

200 حروف