مصنوعی ذہانت اور نقل کا کھیل
- ’’ماریہ، میں فوزیہ ہوں۔ اس وقت احمد سے رابطہ کرنے میں مجھے دشواری ہورہی ہے، اس لیے براہِ کرم میری بھیجی ہوئی لنک پر...
’’ماریہ، میں فوزیہ ہوں۔ اس وقت احمد سے رابطہ کرنے میں مجھے دشواری ہورہی ہے، اس لیے براہِ کرم میری بھیجی ہوئی لنک پر کلک کرکے مجھے 50 ہزار روپے منتقل کردیں۔ یہ بہت ضروری ہے!‘‘
ساٹھ سالہ ماریہ فوراً رقم ’’منتقل‘‘ کردیتی ہے اور ایک منٹ بعد فوزیہ کو فون کرکے بتاتی ہے کہ اس نے ابھی رقم بھیجی ہے، لیکن اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بہن نے آج اسے فون ہی نہیں کیا تھا۔
اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے، وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے آواز کی نقل تیار کرنے والے فراڈ کرنے والوں کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔
بظاہر یہ ایک انتہائی غیرمعمولی صورتِ حال لگتی ہے۔
تاہم، مائیکروسافٹ کے اے آئی معاون ’کوپائلٹ‘ کی جانب سے صارفین کی آواز کی نقل تیار کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، سی این این نے ایک ایسی خاتون سے بات کی جس نے دعویٰ کیا کہ اسے ہزاروں ڈالر کا فراڈ اس وقت کیا گیا جب اسے فون کرکے بتایا گیا کہ اس کی بیٹی کو اغوا کرلیا گیا ہے اور فون پر اسے وہ آواز سنائی دی جسے اس نے اپنی بیٹی کی آواز سمجھا۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ’الیون لیبز‘ جیسی ایپس پر اپنی صرف 10 سیکنڈ کی آڈیو ریکارڈنگ اپ لوڈ کرکے آواز کی نقل تیار کی جاسکتی ہے، جہاں ’انسٹنٹ وائس کلوننگ‘ فی الحال ماہانہ صرف 6 ڈالر کی ابتدائی ادائیگی والی سہولت کے طور پر دستیاب ہے۔ ذرا تصور کریں کہ سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر موجود کسی ویڈیو سے حاصل کی گئی 10 سیکنڈ کی آواز کیا کچھ کرسکتی ہے۔
بین الاقوامی شخصیات اس کا پہلا نشانہ بنی ہیں اور متعدد نے اپنی آوازوں کی غیرمجاز نقل تیار کیے جانے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق، برطانیہ میں مقیم ایک وائس اوور آرٹسٹ کی آواز امریکی اے آئی کمپنی ’فش آڈیو‘ پر اس کی اجازت کے بغیر 900 سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی گئی۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں ایک غیرمتوقع مثبت پہلو یہ ہوسکتا ہے کہ اگرچہ اے آئی کے معاملے میں ہم پیچھے ہیں، لیکن شاید ایک فائدہ یہ ہے کہ دیگر ممالک کے تجربات سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ مناسب قانون سازی اور نگرانی نہ ہونے کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تاہم زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اے آئی سے متعلق بکھرے ہوئے اور غیرمربوط قوانین کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
کمزور طبقات کو نشانہ بنانا
یہ صورتحال بالخصوص بزرگ آبادی کے لیے تشویش ناک ہے۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی پروفیسر ثانیہ سبزواری اور یونیورسٹی آف آرکنساس فار میڈیکل سائنسز کے پروفیسر گوہر اظہر کے تحقیقی مقالے کے مطابق برین ڈرین کے باعث پاکستان میں تنہا رہنے والے بزرگ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ ان کے مشاہدات کے مطابق تقریباً 6 سے 7 فیصد مریض اس زمرے میں آتے ہیں۔
بزرگ شہریوں کو عموماً اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر انہیں آسان ہدف سمجھتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ وہ اے آئی سے تیار کردہ آوازوں سے ناواقف ہوسکتے ہیں۔ سماجی تنہائی اور انجانے میں دوسروں پر اعتماد کرنا بھی ایسے عوامل ہیں جو اس طبقے کو سب سے زیادہ غیرمحفوظ بناتے ہیں۔
ایک اور بڑا طبقہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ناواقف افراد کا ہے، خصوصاً وہ لوگ جو ایزی پیسہ جیسی ڈیجیٹل بینکاری خدمات استعمال کرتے ہیں، بیرون ملک مقیم رشتہ داروں سے ملنے والی مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں یا واٹس ایپ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی آوازیں فراڈ کے لیے آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہیں یا وہ آواز کی نقل تیار کیے جانے کے امکان سے ناواقف ہوسکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیشتر بینک اب بھی شناخت کی تصدیق یا اہم مالی معاملات پر گفتگو کے لیے فون کالز کا استعمال کرتے ہیں۔
شناخت کا بحران
بدقسمتی سے آواز ان چند اہم حیاتیاتی شناختی خصوصیات میں سے صرف ایک ہے جن کی اب نقل تیار کی جاسکتی ہے۔ جنریٹو اے آئی نے انتہائی حقیقت سے قریب تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنا ممکن بنا دیا ہے، جس کے باعث کسی شخص کے چہرے اور حلیے کو اس کے حقیقی اعمال سے الگ کرکے پیش کیا جاسکتا ہے۔ دستخطوں کی جعل سازی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اے آئی نے اس کے لیے زیادہ پیچیدہ ذرائع پیدا کردیے ہیں، جبکہ آپ کی تحریر کے کافی نمونے کسی کو آپ کے تحریری انداز کی نقل تیار کرنے کے قابل بھی بنا سکتے ہیں۔
روایتی طور پر شناخت ان خصوصیات کے ذریعے قائم کی جاتی رہی ہے جن کی نقل تیار کرنا مشکل سمجھا جاتا تھا، لیکن اے آئی نے ہر چیز کو قابلِ نقل بنا دیا ہے۔ اے آئی کا خطرہ محض یہ نہیں کہ مشینیں ہماری نقالی کرسکتی ہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ وہ خصوصیات جن کے ذریعے ہم ایک انسان کو دوسرے سے الگ پہچانتے ہیں—ہمارا چہرہ، آواز، دست خط، الفاظ اور اندازِ عمل—اب تیزی سے قابلِ نقل بنتی جارہی ہیں۔
اگر میری آواز، چہرہ، دست خط، تحریری انداز اور شخصیت سب کی نقل تیار کی جاسکتی ہے تو پھر آخر ایسی کیا چیز باقی رہ جاتی ہے جو یہ ثابت کرے کہ میں ہی ’میں‘ ہوں؟
بالآخر ہم بار بار اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے آئی کے لیے مضبوط تر قانون سازی ضروری ہے۔ عوام کو آگاہ کرنا بھی پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور استحصال کے امکانات خاصے وسیع دکھائی دیتے ہیں۔
مضمون میں بیان کردہ خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتے ہوں۔


















Comments