اسحاق ڈار کا مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں پر اجتماعی ردعمل پر زور
- مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مسجدِ اقصی/الحرام الشریف کی مسلسل پامالیوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف ایک اجتماعی اور مسلسل ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
یروشلم کے حوالے سے عرب لیگ اور گروپ آف 4 اسلامی ممالک (پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا)کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور اس کے لیے مربوط ردعمل ضروری ہے۔
یہ اجلاس اردن کی جانب سے بلایا گیا تھا اور یہ 5 اگست 2026 کو عمان میں منعقدہ یروشلم کے وزارتی اجلاس کا فالو اپ تھا۔ پاکستان نے مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر مؤقف میں ہم آہنگی کی کوششوں کے تحت گزشتہ اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات پر ہاشمی سرپرستی کے لیے پاکستان کے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔
انہوں نے مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کے حوالے سے محکمہ اوقافِ بیت المقدس و امور مسجد اقصیٰ کے دائرہ اختیار کی حمایت بھی دوبارہ واضح کی۔
نائب وزیراعظم نے بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے عالمی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ شہر کی نوعیت، شناخت یا حیثیت تبدیل کرنے کے مقصد سے کیے جانے والے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کریں۔
انہوں نے بیت المقدس کی صورتحال پر عالمی سطح پر مسلسل توجہ دینے اور طے شدہ حیثیت کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں بروقت اجتماعی ردعمل پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے اردن کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ایمن صفدی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور اردن کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
























Comments