کشیدگی کے خدشات کے باوجود مذاکرات، ٹرمپ کی شی جن پنگ کے لیے شاندار تقریب کی تیاری
- ٹرمپ اور شی جن پنگ کی واشنگٹن میں تین روزہ ملاقات، تجارت، ٹیکنالوجی اور ایران پر اہم مذاکرات، بڑی پیش رفت کی توقعات محدود
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چینی صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن میں تین روزہ دورے پر استقبال کریں گے، جہاں تجارت، ٹیکنالوجی اور ایران کے حوالے سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا اظہار ایک شاندار اور پروقار سرکاری ماحول میں ہوگا۔
چینی رہنما تقریباً تین سال بعد پہلی مرتبہ امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ بدھ کی شام جب شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ میری لینڈ کے اس فوجی اڈے پر پہنچیں گے جہاں ایئر فورس ون موجود رہتا ہے، تو ٹرمپ رن وے پر ان کا استقبال کریں گے۔
استقبالی تقریبات میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی اہم شخصیات کے ہمراہ سرکاری عشائیہ، وائٹ ہاؤس میں طیاروں کی پروازوں سمیت فوجی تقریب اور نیشنل آرکائیوز کا دورہ شامل ہوگا، جہاں اعلانِ آزادی اور آئین کی اصل دستاویزات محفوظ ہیں۔
گہرے اختلافات کے باوجود دونوں ممالک نے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر پیش رفت جاری رکھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس کا مقصد دنیا کی سب سے بڑی صنعتی معیشت اور سب سے بڑے صارف کے درمیان تعلقات میں استحکام کا تاثر دینا ہے۔
شی جن پنگ کے دورے کے دوران کسی بڑی پیش رفت کی توقعات محدود ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان 11 ماہ کی تجارتی جنگ بندی نومبر میں ختم ہوجائے گی، تاہم دونوں فریق تائیوان، منشیات اور نایاب ارضی دھاتوں سمیت مختلف امور پر اختلافات کا شکار ہیں۔
منصوبہ بندی سے واقف افراد نے بتایا کہ شی جن پنگ توقع ہے کہ تائیوان پر بیجنگ کے دعوے کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے، جس سے واشنگٹن گریز کرنا چاہے گا، جبکہ ٹرمپ توقع ہے کہ شی جن پنگ کے اعتراضات کے باوجود امریکی برآمدی پابندیوں پر سختی سے قائم رہیں گے۔
تاہم جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں بعض مخصوص شعبوں میں محصولات کم کرنے، منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں تعاون اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطوں کو وسعت دینے کے معاہدے طے پاسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ چین میں زیرحراست بعض امریکی شہریوں اور دیگر افراد کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھانے کی توقع ہے۔
دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید مذاکرات پر بھی اتفاق کرسکتے ہیں، جہاں دونوں کے درمیان شدید مسابقت جاری ہے، تاہم وہ اس ٹیکنالوجی سے وابستہ بڑھتے ہوئے خطرات سے بھی آگاہ ہیں۔
یہ ملاقات ٹرمپ کے لیے ایک مشکل وقت میں ہورہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ پر عوامی بے چینی بڑھنے کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے۔ شی جن پنگ کو بھی اندرونِ ملک چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ان کی آمد بظاہر مضبوط پوزیشن میں ہورہی ہے کیونکہ چین کی تجارتی سرگرمیاں بھرپور رفتار سے جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ممکن ہے کہ دونوں رہنماؤں کو خود بھی سمجھوتے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ وائٹ ہاؤس کے سابق عہدیدار ایڈگارڈ کیگن نے کہا، ’’صدر کا پختہ یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ امریکی معیشت ترقی کرے گی اور امریکا مزید مضبوط ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میرے خیال میں جب شی جن پنگ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھیں گے تو ان کا پختہ یقین ہوگا کہ امریکا تیزی سے زوال کی جانب جارہا ہے اور وقت چین کے حق میں ہے۔‘‘
مصنوعی ذہانت کے سربراہان کے ہمراہ سرکاری عشائیہ
جمعرات کو ہونے والے سرکاری عشائیے میں دونوں ممالک کی منڈیوں میں اہم کردار ادا کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے، جن میں ایپل کے ٹِم کُک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین شامل ہیں۔
2025 سے اب تک ہونے والی اپنی گزشتہ دو ملاقاتوں کی طرح دونوں رہنما ایک انتہائی منظم اور پہلے سے طے شدہ عوامی منظرنامے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس یا مشترکہ بیان کے بجائے توقع ہے کہ دونوں ممالک الگ الگ اعلانات جاری کریں گے، جن میں ہر فریق اپنی ملکی عوام تک وہ پیغام پہنچانے پر زور دے گا جو وہ دینا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کے لیے یہ دورہ ایک ہفتے پر محیط سفارتی سرگرمیوں کا اختتام ہوگا، جس کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں دو روزہ قیام سے ہوا تھا۔ ایران کے ساتھ تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے باعث امریکا میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نومبر میں ہونے والے کانگریسی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی بیرونی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ملک کو کمزور گھریلو کھپت اور پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا سامنا ہے۔ فوج میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور نظم و ضبط کے خلاف کارروائیوں نے شی جن پنگ کی طاقت کو مزید مستحکم کیا ہے، تاہم ان اقدامات سے پیپلز لبریشن آرمی کی جنگی تیاریوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے ہیں۔
اس سال ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ایک اور ملاقات متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر نومبر میں چین میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سربراہی کانفرنس یا دسمبر میں امریکا میں ہونے والے گروپ 20 اجلاس کے موقع پر ہوسکتی ہے۔
ایران، انتخابات اور تائیوان سمیت کشیدگی کے اہم معاملات
گزشتہ سال چینی درآمدات پر تین ہندسوں پر مشتمل محصولات عائد کرنے کے بعد ٹرمپ نے چین سے متعلق اپنی پالیسی اور بیان بازی میں نرمی اختیار کی ہے۔ تاہم جولائی میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں انہوں نے ایک بار پھر یہ الزام عائد کیا کہ بیجنگ امریکی انتخابات میں مداخلت کرتا ہے، جس کی چین تردید کرتا ہے۔
مذاکرات میں ایران کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ بیجنگ کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا چین ٹرمپ کو تنازع میں تعطل ختم کرنے میں مدد دے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے، تاہم ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ انہیں چین کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ چین جنگ شروع ہونے کے بعد طلب میں کمی اور اپنے تزویراتی ذخائر جاری کرکے خام تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دے چکا ہے۔ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ شروع کرنے کی دھمکی دینے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے چین کے بڑے بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا، حالانکہ چین تہران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
شی جن پنگ سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ ٹرمپ پر زور دیں گے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کم کی جائے، جیسا کہ انہوں نے بیجنگ میں گزشتہ ملاقات کے دوران بھی کیا تھا۔ دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جو اب تک کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہے۔ تاہم تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کا دوسرا پیکیج کئی ماہ سے زیر التوا ہے۔ ٹرمپ نے ان ہتھیاروں کی فروخت کو ’’بہت اچھا مذاکراتی حربہ‘‘ قرار دیا ہے۔
























Comments