ایندھن سبسڈی اسکیم کا دائرہ انٹرنیٹ سے محروم علاقوں تک بڑھا دیا گیا، ایس ایم ایس کے ذریعے سبسڈی وصول کی جاسکے گی
- اسٹیٹ بینک نے ادائیگی کے دعووں کی اسی دن سیٹلمنٹ کی رپورٹ دی ہے
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتہ کو وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایندھن سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان بھر میں ایندھن فراہم کرنے والے اسٹیشنز کی بھاری اکثریت اب نظام میں مکمل طور پر ضم ہوچکی ہے، جبکہ شہری فعال طور پر اپنے فیول ٹوکنز سے سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔ اسکیم کے لیے ملک بھر میں رجسٹریشن ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر بدستور جاری ہے۔
مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کمیٹی نے ان علاقوں کے پٹرول پمپس کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعے فیول ٹوکن کی ریڈیمپشن کی منظوری دی جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہونے والے پٹرول پمپس کی فہرستیں جمع کرائیں تاکہ انہیں فوری طور پر نیٹ ورک میں شامل کیا جاسکے۔
مالی ادائیگیوں سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بتایا کہ گزشتہ تین روز کے دوران جمع کرائے گئے تمام ادائیگی کے دعووں کو روزانہ کی بنیاد پر اسی روز مکمل طور پر نمٹا دیا گیا۔
ڈپٹی وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ ہر فعال پٹرول پمپ کو نیٹ ورک میں شامل کیا جائے، جبکہ مستقل طور پر بند پٹرول پمپس یا صرف ڈیزل فروخت کرنے والے پمپس کی نشاندہی کرکے انہیں نظام سے خارج کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد اسکیم کے ڈیٹا بیس کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
صوبائی انتظامیہ اور مرکزی بینک کے درمیان رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ڈار نے زور دیا کہ ریلیف مستحق افراد تک بلا تاخیر پہنچتا رہنا چاہیے۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزرائے پٹرولیم، اقتصادی امور، اطلاعات اور آئی ٹی، ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر، اوگرا اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین، وفاقی سیکریٹریز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور آئی سی ٹی، اے جے کے، جی بی اور بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
























Comments