قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے آن ارائیول ویزا جاری کرنا بند کردیا ہے جبکہ ویب پورٹل حیا پر جمع کرائی گئی ویزا درخواستیں کئی ماہ سے زیرِ التوا ہیں اور ان پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
نمائندے کو متعدد پاکستانی درخواست گزاروں کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنی شکایات کے ازالے کے لیے دفترِ خارجہ سے رجوع کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
قطر کی جانب سے ویزا پابندیوں کے باعث فن لینڈ کے رہائشی اجازت نامے کے حصول کے خواہشمند پاکستانی شہری بھی متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان کے لیے قطر کے شہر دوحہ میں وی ایف ایس گلوبل ویزا درخواست مرکز پر ذاتی طور پر شناخت اور بائیومیٹرک تصدیق کرانا ضروری ہے۔
پاکستان دفترِ خارجہ نے ویزوں کے اجرا پر پابندیوں سے متعلق متعدد رپورٹس موصول ہونے کے باوجود تاحال کوئی باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی۔
دفترِ خارجہ کے ذرائع نے استفسار پر بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان کو قطری حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی، لہٰذا اس مرحلے پر اسلام آباد کی جانب سے مبینہ پابندیوں کو باضابطہ طور پر مطلع کردہ ویزا پابندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم سینئر حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مبینہ پابندیوں کی اصل نوعیت یا ویزا پراسیسنگ میں کسی عارضی تبدیلی کی تصدیق کے لیے یہ معاملہ سفارتی ذرائع کے ذریعے قطری حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
گزشتہ دفترِ خارجہ کی بریفنگ کے دوران ترجمان سجاد حیدر خان نے پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندی عائد کیے جانے کی تردید کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممالک اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویزوں کے اجرا کا فیصلہ کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے قطر کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔
انہوں نے قطر میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستانی شہری نہ صرف نجی شعبے بلکہ مختلف سرکاری محکموں میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر دوحہ میں پاکستانی سفارتخانے اور اسلام آباد میں قطری سفارتی مشن کے حکام نے اس رپورٹ کے فائل ہونے تک کوئی جواب نہیں دیا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ جمعرات (10 ستمبر) کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندی عائد کیے جانے کی بات دستیاب اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران سالانہ اوسطاً 7 ہزار سے 8 ہزار پاکستانی متحدہ عرب امارات سے واپس بھیجے گئے جبکہ تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار پاکستانی ہر سال یو اے ای کا سفر کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای جانے والے پاکستانیوں کی تعداد وہاں سے واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ رہی۔
























Comments