نجکاری کمیشن نے یوفون کی مجوزہ ’e&‘ ری برانڈنگ روک دی، بین الحکومتی منظوری لازم قرار
نجکاری کمیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو یوفون کی مجوزہ ری برانڈنگ ’’e&‘‘ کے نام سے کرنے کی منظوری دینے سے روک دیا اور کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکومتوں کے درمیان زیرِ غور معاملہ ہے جس کی منظوری صرف دونوں حکومتیں ہی دے سکتی ہیں۔
پی ٹی اے کے چیئرمین نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ کمیشن نے ریگولیٹر کو ہدایت کی ہے کہ یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد یوفون کے برانڈ نام میں مجوزہ تبدیلی کی منظوری کے عمل کو آگے نہ بڑھایا جائے۔
چیئرمین نے کہا کہ یہ معاملہ دونوں حکومتوں کے درمیان کمٹمنٹ سے متعلق ہے، اس لیے اس کا فیصلہ صرف ریگولیٹری سطح پر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے یوفون کو ’’e&‘‘ کے نام سے ری برانڈ کرنے کی مجوزہ تجویز پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا جبکہ متعلقہ حکام کے درمیان مشاورت کا عمل بدستور جاری ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کام نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ نے یوفون کا برانڈ نام تبدیل کرکے ’’e&‘‘ رکھنے کی اجازت کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رجوع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت مشاورت کے مرحلے میں ہے جبکہ مجوزہ تبدیلی کے حوالے سے مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔
سیکریٹری نے کہا کہ یوفون کے برانڈ نام کی تبدیلی سے متعلق مشاورت کا عمل جاری ہے، حکومت اس معاملے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب تک یوفون کے معروف برانڈ کو ’’e&‘‘ سے تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے تناظر میں مجوزہ ری برانڈنگ پر تبادلہ خیال کیا اور یوفون کے موجودہ برانڈ نام میں تبدیلی کے لیے درکار ریگولیٹری عمل کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔
سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ معاملہ زیرِ غور ہے اور حتمی فیصلہ کیے جانے سے قبل مزید مشاورت کی جائے گی۔
کمیٹی نے مجوزہ ری برانڈنگ کے ریگولیٹری اور پالیسی سے متعلق مضمرات کے ساتھ ساتھ آپریٹر کے موجودہ برانڈ نام میں کسی بھی تبدیلی کی منظوری دینے کے طریقۂ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
























Comments