خصوصی اقتصادی و برآمدی زونز: اصلاحات، پسپائی نہیں
- ای پی زیڈز اور ایس ای زیڈز ختم کرنے کے بجائے ان میں اصلاحات کی جائیں، کیونکہ صنعتی مسابقت حاصل کرنے سے پہلے ان کا خاتمہ معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) اور اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈز) کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز نے کاروباری برادری میں بجا طور پر تشویش پیدا کردی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس انتظام پر دوبارہ مذاکرات کرے، کیونکہ خدشہ ہے کہ مراعاتی ڈھانچے کے خاتمے سے سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ یہ مراعات قومی خزانے پر مالی بوجھ ڈالتی ہیں، زونز کے اندر اور باہر کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مسابقت میں عدم توازن پیدا کرتی ہیں اور مساوی مسابقت کے اصول کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کا تجویز کردہ حل یہ ہے کہ منافع پر مبنی مراعات، مثلاً ٹیکس ہالیڈے، کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات دی جائیں، جیسے سرمایہ کاری پر تیز رفتار یا فوری فرسودگی کی اجازت۔
آئی ایم ایف کی منطق قابلِ فہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس نظام میں متعدد استثنیٰ اور مراعات موجود ہیں جو مسابقت کو متاثر، ٹیکس سے بچنے کے راستے پیدا اور ٹیکس بیس کو محدود کرسکتی ہیں۔
ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت مقصد ایک یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت اور منافع پر مبنی مراعات کا بتدریج خاتمہ ہے، جبکہ جہاں مناسب ہو وہاں ان کی جگہ تیز رفتار فرسودگی جیسی لاگت پر مبنی مراعات متعارف کرانا ہے۔
وسیع تر اور غیر جانب دار ٹیکس بیس کے اصول سے اختلاف مشکل ہے، لیکن اسی اصول کو ایس ای زیڈز اور ای پی زیڈز پر من و عن لاگو کرنا ایک سنگین پالیسی غلطی ثابت ہوسکتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ٹیکس ہالیڈے غیر معینہ مدت تک جاری رہنے چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سرمایہ کاروں کو اضافی خطرات اور کاروباری لاگت کے عوض کسی نہ کسی قسم کی مراعات دیے بغیر سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہے؟
ٹیکس میں غیر جانب داری، صنعتی شعبے میں غیر جانب داری کے مترادف نہیں
پاکستان میں فیکٹری لگانے والا سرمایہ کار اس کا موازنہ بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور دیگر ابھرتی ہوئی صنعتی منڈیوں سے کرتا ہے۔ اس کے فیصلے پر بجلی، زمین، لاجسٹکس، کسٹمز، ٹیکس، قواعد و ضوابط میں پالیسی کا تسلسل، ہنرمند افرادی قوت اور منظوریوں کے حصول میں آسانی جیسے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔
ٹیکس ہالیڈے زون کے اندر اور باہر کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مسابقت کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن مناسب انداز میں تشکیل دیا گیا ایس ای زیڈ محض ٹیکس سے بچنے کی جگہ نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد ایسا صنعتی ماحول فراہم کرنا ہے جہاں بنیادی ڈھانچے، یوٹیلیٹیز، کسٹمز، لاجسٹکس اور انتظامی خدمات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں تاکہ انہیں زیادہ مؤثر بنایا جاسکے۔
اگر پاکستان پہلے ہی ملک بھر میں قابلِ اعتماد توانائی، مؤثر لاجسٹکس، عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ اور حقیقی معنوں میں ون ونڈو ریگولیٹری نظام فراہم کررہا ہوتا تو خصوصی اقتصادی زونز کے ٹیکس مراعات ختم کرنے کے حق میں زیادہ مضبوط دلائل موجود ہوتے۔
بدقسمتی سے زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پاکستان کی ای پی زیڈ اور ایس ای زیڈ پالیسیوں کو ناکافی بنیادی ڈھانچے، یوٹیلیٹی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر، بیوروکریٹک مداخلت، منتشر ضابطہ کاری اور کمزور عمل درآمد کا سامنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد صوبائی سرکاری اداروں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ہراساں کیے جانے کا مسئلہ بھی موجود ہے، جو من گھڑت اور بے بنیاد دعووں کے ذریعے ان سے رقم بٹورنے کے درپے رہتے ہیں۔ یہ تمام عوامل کاروبار کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں اور سرمایہ کاروں کے لیے منصفانہ کاروباری بنیادوں پر سرگرمیاں جاری رکھنا ایک چیلنج بنا دیتے ہیں۔
ون ونڈو آپریشن کا وعدہ بھی اکثر کاغذوں تک محدود رہا ہے۔ ایس ای زیڈ میں آنے والے سرمایہ کار کو زمین، تعمیرات، ماحولیات، بجلی، گیس، محنت، کسٹمز اور ٹیکس سے متعلق معاملات کے لیے الگ الگ محکموں کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔ زون اتھارٹی کو حکومت کے ساتھ رابطے کے لیے حقیقی معنوں میں ایک واحد ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہیے۔
اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکامی زونز کو ختم کرنے کے بجائے ان میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
صنعتی سرمایہ کاری ایک طویل المدت عزم ہوتی ہے۔ اگر ایس ای زیڈز سے متعلق پالیسی فریم ورک کو بتدریج ختم کیا جاتا رہا تو ممکنہ سرمایہ کار لازماً پاکستان کی سرمایہ کاری مراعات اور پالیسی وعدوں کے پائیدار ہونے پر سوال اٹھائیں گے۔
اس کے نتیجے میں پاکستان کی ملکی اور غیر ملکی صنعتی سرمایہ کاری کے حصول کی صلاحیت کمزور ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات محض ٹیکس رعایت کے خاتمے تک محدود نہیں ہوں گے۔
نئے صنعتی یونٹس کارخانے، سپلائی چین، ہنر، ٹیکنالوجی اور روزگار پیدا کرتے ہیں، جبکہ مینوفیکچرنگ شعبہ ٹرانسپورٹ، پیکیجنگ، انجینئرنگ، دیکھ بھال اور مقامی سپلائرز کے ذریعے معیشت پر کئی گنا اثرات مرتب کرتا ہے۔
اس لیے معاملہ محض ٹیکس کا نہیں بلکہ برآمدات، روزگار اور صنعتی ترقی کا بھی ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کا سبق
بھارت اور بنگلہ دیش اس حوالے سے ایک مختلف سبق پیش کرتے ہیں۔
بھارت نے ٹیکس سمیت متعدد مراعات پر مبنی ایس ای زیڈ ماڈل کو ترک نہیں کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فعال ایس ای زیڈز سے برآمدات مالی سال 2024-25 میں 172.27 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 2005-06 میں 5.16 ارب ڈالر تھیں۔ بھارت نے وقت کے ساتھ ٹیکس مراعات میں تبدیلیاں ضرور کی ہیں، تاہم ایس ای زیڈز اب بھی اس کے برآمدی اور سرمایہ کاری کے نظام کا اہم حصہ ہیں۔
بنگلہ دیش اس حوالے سے مزید موزوں مثال ہے، کیونکہ وہ محنت پر مبنی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں پاکستان کا براہِ راست حریف ہے۔
مالی سال 2024-25 میں بنگلہ دیش ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی (بیپزا) کے زیر انتظام زونز میں کام کرنے والے اداروں نے 8.22 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جو ملک کی مجموعی برآمدات کا 17.03 فیصد بنتی ہیں، جبکہ ان زونز میں 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد روزگار سے وابستہ تھے۔ اسی سال 33 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ مالی سال 2025-26 میں ان زونز سے برآمدات مزید بڑھ کر 8.41 ارب ڈالر ہوگئیں، جو بنگلہ دیش کی مجموعی برآمدات کا 17.51 فیصد تھیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مؤثر انداز میں چلائے جانے والے اقتصادی زونز برآمدات، روزگار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اہم پلیٹ فارم بن سکتے ہیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش کا سبق یہ نہیں کہ ٹیکس ہالیڈے ہمیشہ جاری رہنے چاہئیں۔ سبق یہ ہے کہ کامیاب زونز میں مالی مراعات کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ، انتظامی سہولت، سرمایہ کاری کا فروغ اور برآمدات پر توجہ بھی شامل ہوتی ہے۔
لہٰذا پاکستان کو غیر مؤثر انداز میں دی جانے والی ٹیکس مراعات کے حوالے سے آئی ایم ایف کے جائز تشویش کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن اسی مقصد کے حصول کے لیے ایک بہتر راستے پر مذاکرات کرنے چاہئیں۔
تمام ای پی زیڈز کے ٹیکس مراعاتی نظام کو یک دم کمزور کرنے کے بجائے ایک متبادل کاروباری ماڈل مرحلہ وار متعارف کرایا جاسکتا ہے، جس کے تحت منافع پر مبنی ٹیکس استثنیٰ کو بتدریج کارکردگی اور سرمایہ کاری پر مبنی مراعات سے تبدیل کیا جائے۔ یہ مراعات حقیقی سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن سے منسلک ہونی چاہئیں۔
جو کمپنی ٹیکس ہالیڈے حاصل کرے لیکن نہ سرمایہ کاری کرے اور نہ برآمدات بڑھائے، اسے بہت کم فائدہ ملنا چاہیے۔ اس کے برعکس جو کمپنی فیکٹری قائم کرے، روزگار پیدا کرے، برآمدات کرے اور پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی لائے، اسے بامعنی معاونت ملنی چاہیے۔
یہ محض ٹیکس رعایت نہیں بلکہ صنعتی پالیسی ہے۔
لہٰذا 2035 کی آخری تاریخ کو زونز کے خاتمے کے بجائے ان کی تبدیلی اور اصلاح کے ہدف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایسی سطح تک پہنچنے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے جہاں سرمایہ کار بنیادی طور پر ٹیکس ہالیڈے کی وجہ سے نہیں بلکہ مسابقتی توانائی، مؤثر لاجسٹکس، بہتر بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت اور آسان و سادہ ضابطہ کاری کی وجہ سے پاکستان کا رخ کریں۔
ای پی زیڈز اور ایس ای زیڈز منزل نہیں بلکہ صنعتی ترقی کی جانب جانے والی سیڑھی ہیں۔
پاکستان کو اس سیڑھی میں اصلاحات لانی چاہئیں، کاروباری لاگت اور کاروبار کرنے میں آسانی کے حوالے سے ریلیف فراہم کرنا چاہیے، اس کی کارکردگی جانچنی چاہیے اور جو زینے کام نہیں کرتے انہیں ہٹا دینا چاہیے۔ لیکن صنعتی مسابقت حاصل کرنے سے پہلے ہی اس سیڑھی کو گرا دینا معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
بلاشبہ تمام سطحوں پر فیصلہ ساز اور پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن عملی اقدام کے لیے درکار عزم اور وسائل کا فقدان ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments