سیچوان: بجٹ کارکردگی کو بنیاد بنا کر سائنسی مالیاتی انتظام میں بہتری
- سیچوان نے کارکردگی کے انتظام کو بنیادی ستون بنا کر انتظامی مسائل کا منظم انداز میں حل نکالا ہے
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے بجٹ کارکردگی کے جامع انتظام سے متعلق اہم فیصلوں اور پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اور مالیاتی نظام حکمرانی اور انتظامی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے سیچوان کے محکمہ خزانہ نے ’’ہر اخراجات کے لیے جواب دہی اور ناقص کارکردگی پر ذمہ داری‘‘ کے بنیادی اصول کو اپناتے ہوئے بجٹ کارکردگی کے انتظام کو سائنسی مالیاتی نظم و نسق کو مزید مستحکم کرنے کا بنیادی ذریعہ بنایا ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل بہتری اور جدت کے بعد محکمہ خزانہ نے بجٹ کارکردگی کے انتظام کا ایک جامع، پورے عمل کا احاطہ کرنے والا اور ہمہ گیر جدید نظام تشکیل دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے صوبے میں مالی وسائل کی مؤثر تقسیم اور سرکاری فنڈز کے استعمال کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ نئے دور میں سیچوان کے مالیاتی شعبے کی معیاری اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے مضبوط انتظامی بنیاد بھی فراہم ہوئی ہے۔
اول: ادارہ جاتی نظام میں مسلسل بہتری اور مربوط و جامع انتظامی نظام کی تشکیل
سیچوان میں بجٹ کارکردگی کے انتظام کا آغاز 2004 میں پائلٹ منصوبے اور عملی نفاذ سے ہوا اور موجودہ مربوط مرحلے میں داخل ہونے سے قبل یہ تین اہم ادوار سے گزرا: تجربات و آزمائش، دائرہ کار میں توسیع اور مرحلہ وار نفاذ، اور مکمل نفاذ۔ 2024 میں یہ باضابطہ طور پر ’’نظام کا انضمام اور مجموعی صورتحال کے لیے خدمات‘‘ کے مرحلے میں داخل ہوا، جس کے نتیجے میں کارکردگی کے محض ایک جائزہ طریقۂ کار سے جامع مالیاتی نظم و نسق کے آلے کی جانب بنیادی تبدیلی آئی۔
سیچوان کی صوبائی کمیٹی اور صوبائی حکومت نے 2019 میں بجٹ کارکردگی کے انتظام کے مکمل نفاذ سے متعلق آراء اور 2022 میں بجٹ کارکردگی کے انتظام پر مزید مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے نوٹس جاری کیا، جن میں پورے صوبے میں اصلاحات کے لیے ٹائم لائن اور لائحہ عمل واضح کیا گیا۔ 2025 میں سیچوان کے محکمہ خزانہ نے مالیاتی کارکردگی کی نگرانی اور انتظامی نظام میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کے لیے عملی منصوبہ مرتب کرنے میں حصہ لیا اور اسی دوران کارکردگی کے انتظام سے متعلق مقامی قانون سازی کے عمل کو بھی منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ محکمہ نے مالیاتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ’’تین کنٹرولز اور تین لازمی تقاضوں‘‘ سے متعلق معاون اقدامات بھی جاری کیے، جبکہ کارکردگی کے جائزے، اہداف کے تعین، نگرانی، تشخیص اور نتائج کے اطلاق کے حوالے سے انتظامی اقدامات کے پانچ بنیادی پیکیجز متعارف کرائے۔
اس طرح ’’ابتدائی مرحلے میں جانچ کے ذریعے اخراجات پر کنٹرول، عمل درآمد کے دوران نگرانی کے ذریعے بروقت اصلاح، اور بعد ازاں جائزے کے ذریعے مؤثر پابندی‘‘ پر مشتمل ایک مکمل بند چکر کا نظام قائم کیا گیا۔ اس نظام نے ماضی کے کارکردگی سے متعلق بکھرے ہوئے انتظامی طریقوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کارکردگی کے تقاضوں کو تمام مالیاتی اداروں کے لیے لازمی انتظامی قواعد میں تبدیل کردیا۔
دوم: بنیادی مسائل پر توجہ اور وسائل کی بہترین تقسیم کے لیے اہم راستے ہموار کرنا
روایتی بجٹ سازی کے مسائل، جن میں وسائل کا منتشر ہونا، سابقہ بجٹ اعداد و شمار کی سخت پابندی اور ذمہ داریوں کا غیر واضح ہونا شامل ہیں، دور کرنے کے لیے سیچوان نے کارکردگی کے انتظام کو بنیادی ستون بنا کر انتظامی مسائل کا منظم انداز میں حل نکالا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک جدید ’’کارکردگی کوایفیشنٹ‘‘ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت محکموں کی مجموعی کارکردگی کے نتائج—جن کی بنیاد صوبائی محکموں کے بجٹ کی تیاری کے معیار، عمومی اخراجات پر کنٹرول اور اثاثوں کو دوبارہ بروئے کار لانے کی شرح جیسے مقداری اشاریوں پر ہوتی ہے—کو اگلے سال محکمے کے بجٹ کی تخصیص سے براہ راست منسلک کردیا گیا ہے۔
اس اقدام سے محدود مالی وسائل کو صوبائی سطح کی اہم حکمت عملیوں اور بہتر کارکردگی والے شعبوں میں مرکوز کرنے میں مدد ملی ہے، جس سے ’’اچھی کارکردگی والوں کو زیادہ وسائل اور کم کارکردگی والوں کے لیے وسائل میں گنجائش کم‘‘ کا اصول عملاً نافذ ہوا۔ کارکردگی کے تصور کو صفر سے شروع ہونے والے بجٹ سازی کے پورے عمل میں شامل کردیا گیا ہے، جہاں ’’اخراجات کی ضرورت اور وسائل کے استعمال کے نتیجے‘‘ کو کارکردگی جانچنے کا معیار بنا کر طویل عرصے سے رائج ’’بنیادی رقم + اضافہ‘‘ کے سخت بجٹ سازی کے طریقۂ کار کو ختم کیا گیا اور بجٹ کی تقسیم کا ایسا نیا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس میں ’’ضروری اخراجات کی ضمانت، ترجیحی شعبوں کو نمایاں کرنا اور کارکردگی کو مقدم رکھنا‘‘ بنیادی اصول ہیں۔
مالیاتی کارکردگی کی نگرانی کے ’’تین انتظامات اور تین لازمی تقاضوں‘‘ کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی جاری کیے گئے، جن میں ذمہ داری کی حدود واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’فنڈز، منصوبوں اور پالیسیوں کا انتظام کرنے کے ساتھ کارکردگی اور نگرانی کا انتظام بھی لازمی ہے‘‘۔
ان اقدامات کے ذریعے بالترتیب محکمہ خزانہ کی قیادت اور رابطہ کاری، متعلقہ محکمے کی شعبہ جاتی انتظامی ذمہ داری اور منصوبے پر عمل درآمد کرنے والے ادارے کی براہ راست ذمہ داری کو مستحکم کیا گیا، یوں اس غلط تصور کا خاتمہ کیا گیا کہ ’’کارکردگی کا انتظام صرف محکمہ خزانہ کی ذمہ داری ہے‘‘۔
سوم: عملی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا اور کارکردگی کے انتظام کے مجموعی فوائد کو بروئے کار لانا
گزشتہ تین برسوں کے دوران صوبے میں صوبائی محکموں کے ذریعے 7 ہزار سے زائد منصوبوں کی خود تشخیصی رپورٹس مکمل کرائی گئیں، 529 اہم منصوبوں کی مالیاتی جانچ کی گئی اور 6.3 ارب یوآن کی غیر معقول بجٹ درخواستیں براہ راست مسترد یا کم کی گئیں، جس سے غیر مؤثر انداز میں فنڈز مختص ہونے کا راستہ ابتدا ہی میں روک دیا گیا۔
صوبائی سطح پر 100 سے زائد محکموں اور 30 خصوصی منصوبوں کے بنیادی کارکردگی اشاریوں کو معیاری شکل دی گئی۔ صوبائی محکموں اور خصوصی منصوبوں کے کارکردگی اہداف صوبائی عوامی کانگریس کو جائزے کے لیے پیش کیے گئے، جس سے عوامی نمائندوں اور عوام کی نگرانی کو فعال طور پر قبول کیا گیا۔
18 ہزار سے زائد صوبائی محکمانہ منصوبوں کو معمول کی کارکردگی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا گیا۔ مربوط بجٹ انتظامی نظام کے تحت ایسے منصوبوں کے اشاریے خودکار طور پر منجمد کردیے جاتے ہیں جو ابتدائی وارننگ کے طریقۂ کار مکمل نہیں کرتے۔ اس عمل کے ذریعے 1.127 ارب یوآن کے غیر استعمال شدہ، غیر مؤثر اور ناقص کارکردگی والے فنڈز واپس حاصل کیے گئے۔
صوبے کی اہم حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 82 خصوصی منصوبوں، 8 اخراجاتی پالیسیوں اور 70 صوبائی محکموں کی مالیاتی کارکردگی کا جائزہ مکمل کیا گیا، جن میں ایک ٹریلین یوآن سے زائد کے فنڈز شامل تھے۔ جائزے کا دائرہ صوبے کے 21 شہروں و خودمختار اضلاع اور 183 کاؤنٹیز، شہروں اور اضلاع تک پھیلا ہوا تھا۔
کارکردگی کے نتائج کو بروئے کار لانے کے لیے ’’تین ربط اور ایک اصلاح‘‘ پر مبنی نظام قائم کیا گیا۔ گزشتہ تین برسوں میں 44 صوبائی محکموں کے ابتدائی بجٹ میں اضافہ جبکہ 50 محکموں کے بجٹ میں کمی کی گئی۔
5 خصوصی منصوبوں کے بجٹ کا حجم کم کیا گیا، جبکہ نچلی سطح کے لیے صوبائی منتقلی ادائیگیوں کی تقسیم کو بہتر بناتے ہوئے 27.9 ارب یوآن کی رقم کو زیادہ مؤثر انداز میں مختص کیا گیا۔ 77 صوبائی محکموں اور 94 خصوصی منصوبوں میں سامنے آنے والی خامیوں کی اصلاح کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے منصوبوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی سمیت 37 صوبائی خصوصی فنڈز کے انتظامی طریقۂ کار میں نظرثانی اور بہتری کے لیے کارکردگی کے جائزوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو بنیادی حوالہ بنایا گیا۔
کارکردگی سے متعلق پابندیوں نے صوبے کے مالیاتی نظم و نسق کے سائنسی اور مؤثر طریقۂ کار کو ایک نئی سطح تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
























Comments