BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.5%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.17 Decreased By ▼ -0.18 (-0.59%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.35 Decreased By ▼ -4.10 (-2.13%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.29 Decreased By ▼ -0.50 (-0.95%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.26 Decreased By ▼ -0.20 (-0.76%)
MLCF 91.69 Decreased By ▼ -1.47 (-1.58%)
OGDC 314.75 Decreased By ▼ -1.98 (-0.63%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.01 Decreased By ▼ -4.20 (-1.73%)
PPL 222.30 Decreased By ▼ -4.61 (-2.03%)
PRL 92.08 Decreased By ▼ -0.94 (-1.01%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.69 Decreased By ▼ -0.11 (-1.41%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.36 (-2.78%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پارلیمانی فورم کا مہنگے طویل مدتی توانائی معاہدوں سے گریز کا مطالبہ

شمسی توانائی میں تیزی سے اضافے کے باعث پاکستان کو اپنے توانائی مکس اور ریگولیٹری فریم ورک پر نظرثانی کرنا ہوگی، نفیسہ شاہ
شائع اپ ڈیٹ

پارلیمانی فورم برائے توانائی اور معیشت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ایسے طویل مدتی توانائی معاہدوں سے گریز کیا جائے جو پاکستان کو مہنگی ٹیک یا پے‘ ذمہ داریوں میں جکڑ کر گردشی قرضے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ فورم نے تیزی سے بڑھتی شمسی توانائی کے تناظر میں ایل این جی اور دیگر ایندھن کی درآمد کے لیے زیادہ لچکدار حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔

اس حوالے سے ’’دی سن اینڈ دی پائپ لائن: انرجی کنٹریکٹس اِن این ایرا آف سولر ڈسرپشن اِن پاکستان‘‘ کے عنوان سے گول میز اجلاس ہوا، جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی سمیت ملکی و بین الاقوامی توانائی ماہرین نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان کی بدلتی آر ایل این جی ضروریات، جغرافیائی سیاسی خطرات، عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور صارفین کے تحفظ کے لیے پالیسی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان نے چند ہی برسوں میں یوٹیلیٹی اسکیل، نیٹ میٹرنگ، زرعی، آف گرڈ اور بیہائنڈ دی میٹر نظاموں سمیت تقریباً 50 گیگاواٹ شمسی صلاحیت نصب کی ہے، جس کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری سبسڈی بھی استعمال نہیں ہوئی۔ یہ صلاحیت سالانہ تقریباً 54.75 ٹیرا واٹ آورز بجلی پیدا کر سکتی ہے، جو مجموعی توانائی کی بنیاد پر تقریباً 1,279 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سے بجلی پیدا کرنے کے مساوی ہے۔

پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ شمسی توانائی میں تیزی سے اضافے کے باعث پاکستان کو اپنے توانائی مکس اور ریگولیٹری فریم ورک پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توانائی پالیسیوں کو نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ عوام کو طویل مدتی ’ٹیک یا پے‘ معاہدوں کے باعث مہنگی بجلی کے بوجھ سے نجات مل سکے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات اور فورم کے سیکریٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ بحث کو شمسی توانائی اور گیس کو ایک دوسرے کے متبادل سمجھنے سے آگے بڑھانا ہوگا۔ ان کے مطابق سوال یہ ہونا چاہیے کہ سورج، پائپ لائن، گرڈ اور نئی ٹیکنالوجیز مل کر کس طرح سستی، قابل اعتماد اور محفوظ توانائی فراہم کر سکتی ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ شمسی توانائی نے ایل این جی کی ضرورت ختم نہیں کی بلکہ اس کی طلب کے وقت، مقدار اور مطلوبہ ایل این جی پورٹ فولیو کو تبدیل کردیا ہے۔

شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ توانائی کے بدلتے منظرنامے کے باعث موجودہ ایل این جی خریداری حکمت عملی اور طویل مدتی معاہدوں پر نظرثانی ضروری ہے، جبکہ لچک، سستی توانائی، اسٹوریج اور قابل تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف