ہاؤسنگ منصوبے : سینیٹ کی کمیٹی نے عمل درآمد رپورٹس اور پیش رفت کا جائزہ لیا
- کُری روڈ منصوبے کی رسائی سڑک تین ماہ میں مکمل کرنے، سرکاری رہائش 24 گھنٹے میں الاٹ افسر کے حوالے کرنے کی ہدایت
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ناصر محمود کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن اور وفاقی حکومت کے ملازمین کی ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیرِ انتظام طویل عرصے سے جاری رہائشی منصوبوں پر عمل درآمد اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو پی ایچ اے ایف آفیسرز ریزیڈینشیا کُری روڈ منصوبے میں پانی کی فراہمی، بارش کے پانی کی نکاسی، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر شہری سہولیات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر پلاننگ ایم عمیر نے یقین دہانی کرائی کہ رسائی سڑک کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو تین ماہ میں سڑک کی تعمیر مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے گرین انکلیو-I اور اسکائی گارڈنز سے متعلق زیرِ التوا تحقیقات اور عدالتی معاملات کا بھی جائزہ لیا۔ نیب حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تحقیقات 2018 سے جاری ہیں۔
کمیٹی نے گریڈ 20 کے ایک سینیٹ افسر کو الاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہ کا قبضہ نہ ملنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ ہاؤسنگ اور ورکس اور اسٹیٹ آفس کو 24 گھنٹے میں رہائش گاہ خالی کراکے افسر کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments