BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-1%)
KSE100 Decreased By (-0.44%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.36%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.29 Decreased By ▼ -4.16 (-2.16%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.52 Decreased By ▼ -0.58 (-0.19%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.32 Decreased By ▼ -0.14 (-0.53%)
MLCF 91.68 Decreased By ▼ -1.48 (-1.59%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 223.00 Decreased By ▼ -3.91 (-1.72%)
PRL 91.50 Decreased By ▼ -1.52 (-1.63%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.39 Decreased By ▼ -0.42 (-1.76%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.66 Decreased By ▼ -0.31 (-2.39%)
TRG 56.44 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

رائی کا پہاڑ بنانا

  • حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے اور ان کی تنہائی ختم کرنے کے معاملے سے جس بھونڈے انداز میں نمٹا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رائی کا پہاڑ بن گیا اور حکومت کے حصے میں بدنامی اور منفی تاثر کے سوا کچھ نہ آیا۔
شائع اپ ڈیٹ

قید سابق وزیراعظم عمران خان کے نجی اسپتال (شفا اسپتال) میں طبی معائنے اور علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم پر پیدا ہونے والی ہنگامہ خیزی بظاہر ایک غیر محفوظ ’ہائبرڈ‘ یعنی اسٹیبلشمنٹ کے غلبے والی حکومت کی جانب سے معاملے کو ضرورت سے کہیں زیادہ طول دینے کے مترادف ہے۔

اگر حکومت کے اس مؤقف میں کسی حد تک وزن تسلیم بھی کرلیا جائے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے دیگر تمام ایسے قیدیوں کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی طبی سہولتوں کے مطالبات کی راہ کھل سکتی ہے جنہیں طبی امداد درکار ہے، تب بھی اس معاملے کو سپریم کورٹ کے حکم کی روح اور الفاظ کی خلاف ورزی کیے بغیر کہیں بہتر انداز میں نمٹایا جاسکتا تھا۔

اگر عمران خان کو سرکاری اسپتال (پمز) منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے کا نتیجہ وہی نکلا جو سامنے آیا، یعنی وہ صحت مند پائے گئے اور یوں انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا، تو یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہیں ہوگا کہ شفا اسپتال میں نجی طبی معائنے کا نتیجہ بھی شاید یہی نکلتا اور حکومت کو ممکنہ طور پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بالخصوص اس لیے کہ یکم اگست کو تجویز کردہ کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرافی (سی ٹی اے) بھی نہیں کرائی گئی۔

موجودہ صورت حال میں، اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کے طبی معائنے کے بعد اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان کے بھائی خیریت سے ہیں، حکومت کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے بلاوجہ خود کو سبکی سے دوچار کیا۔ اپنے ہی ہاتھوں اپنے لیے ایسی غیر ضروری مشکلات پیدا کرنا حکومت کے مؤقف کو کسی طور فائدہ نہیں پہنچاتا۔

احترام کے ساتھ عرض ہے کہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم میں بھی عجلت کا ایک تاثر نمایاں تھا، جسے بعد کے طبی معائنے نے زائل کردیا۔

یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی کئی ماہ سے جاری تنہائی نے ان کی صحت پر اثر ڈالا ہوگا، جس میں بلند فشارِ خون، ذہنی اذیت اور دائیں آنکھ کے مسئلے سے پیدا ہونے والی پریشانی بھی شامل ہے۔ تاہم عدالت بظاہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عمران خان کی طبی حالت جانچنے، ان کی تنہائی ختم کرنے، اہل خانہ سے ملاقاتوں اور بیٹوں سے فون پر گفتگو کی اجازت کے لیے دائر کی جانے والی بار بار کی درخواستوں پر کارروائی میں اپنی سابقہ سست روی کا ازالہ کرنے کے لیے بے چین نظر آئی۔

عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت، جیسا کہ پی ٹی آئی کی بار بار کی درخواستوں میں بھی مطالبہ کیا گیا تھا، بظاہر دوسرے قیدیوں پر اس کے ممکنہ اثرات کو مدنظر نہیں رکھتی تھی، جو اسی نوعیت کی سہولتوں کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک تین قیدی اسی بنیاد پر عدالت سے رجوع کرچکے ہیں اور ممکن ہے یہ سلسلہ یہیں نہ رکے۔

پاکستان میں سیاسی حیثیت رکھنے والے اہم قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا ریکارڈ اچھا نہیں۔ اس دلیل کو ثابت کرنے کے لیے صرف نواز شریف کے ساتھ ہونے والے سلوک کو یاد کرنا کافی ہے، جو ستم ظریفی سے عمران خان کی حکومت نے روا رکھا تھا۔ انہیں اپنی بیمار اہلیہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ ان سے ملے بغیر ہی انتقال کرگئیں۔ بعدازاں جب طبی معائنے سے ان کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد سے متعلق سنگین پیچیدگیاں سامنے آئیں تو اربابِ اختیار نے انہیں لندن جانے اور علاج کرانے کی اجازت دے دی۔

ایسے تجربے سے گزرنے کے بعد توقع کی جاتی تھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) قید میں موجود سیاسی رہنماؤں کے صحت کے مسائل پر کہیں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرے گی۔ مزید برآں، پورے معاملے پر حکومتی صفوں میں بھی بظاہر کچھ ابہام پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اب وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

عمران خان کے طبی معائنے اور ان کی تنہائی ختم کرنے کے معاملے سے حکومت نے جس بھونڈے انداز میں نمٹا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تل کا پہاڑ بن گیا اور حکومت کے حصے میں بدنامی اور منفی تاثر کے سوا کچھ نہ آیا۔ حکمرانوں کے لیے کہیں بہتر ہوتا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ساتھ ہی نظرثانی کی درخواست دائر کرتے تاکہ ہزاروں قیدیوں کی جانب سے مساوی سلوک کے مطالبات کا سیلاب روکا جاسکتا۔ کم از کم اس صورت میں حکومت ’ظالم‘، ’بے حس‘ اور، معذرت کے ساتھ، ’احمق‘ نظر نہ آتی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف