ای سی سی کا کسٹمز بانڈڈ آئل اسٹوریج کے ذریعے درآمدات کی نظرثانی شدہ پالیسی پر غور
- حکومت نے 26 جون 2023 کو اس حوالے سے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی
وزیر خزانہ کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) آج پیر کو غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ آئل اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات سے متعلق نظرثانی شدہ پالیسی گائیڈ لائنز پر غور کرے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے 26 جون 2023 کو اس حوالے سے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی، تاہم اب تک کسی غیر ملکی سپلائر نے اس پالیسی کے تحت بانڈڈ اسٹوریج سہولت قائم نہیں کی۔
آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کے باعث ملکی انرجی سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے پیش نظر پٹرولیم ڈویژن نے آئل اور گیس سیکٹر میں انرجی سیکیورٹی مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس میں مقامی پیداوار، اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز (ایس پی آر) کی تیاری اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کا فروغ شامل ہے۔
پٹرولیم وزیر نے 7 مئی 2026 کو موجودہ پالیسی کا جائزہ لینے اور اسے فعال بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی نے بڑے پٹرولیم ٹریڈرز اور سپلائرز سے تجاویز لینے کے بعد نظرثانی شدہ مسودہ تیار کیا، جس پر مختلف متعلقہ اداروں سے رائے حاصل کی گئی۔
مجوزہ پالیسی کے تحت خام تیل، موٹر اسپرٹ بشمول پریمیم پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی)، جیٹ فیول، فرنس آئل، ایل پی جی اور ایل این جی کی کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کے ذریعے درآمد کی اجازت ہوگی۔ تاہم پاکستان پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے تابع اشیا اور امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی نیگیٹو لسٹ میں شامل مصنوعات اس سہولت سے مستثنیٰ ہوں گی۔
غیر ملکی سپلائرز مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریوں کو فروخت کے لیے پورٹ قاسم، کے پی ٹی/کیماڑی، حب، گوادر، محمود کوٹ اور ماچھی کے، شیخوپورہ سمیت منظور شدہ مقامات پر بانڈڈ انوینٹری رکھ سکیں گے۔
پٹرولیم مصنوعات کو پورٹ سے اندرون ملک منظور شدہ اسٹوریج مقامات تک منتقل کرنے کے لیے نیشنل پٹرولیم پائپ لائن نیٹ ورک بھی استعمال کیا جاسکے گا، جبکہ بانڈڈ نظام کے تحت موجود مصنوعات پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس عائد نہیں ہوں گے۔
مجوزہ پالیسی میں ایمرجنسی کی صورت میں حکومت کو بانڈڈ اسٹاک کا محدود حصہ حاصل کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ جنگ، مسلح تنازع، بڑی قدرتی آفت یا ملکی سپلائی کے مکمل اور دستاویزی تعطل کو ایمرجنسی تصور کیا جائے گا، جبکہ حاصل کیے گئے اسٹاک کی قیمت عالمی مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا کی جائے گی۔
اوگرا مصنوعات اور مقامات کے لیے سیفٹی، انشورنس، کنٹینمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس پروٹوکولز کی منظوری دے گا۔ بانڈڈ اسٹاک کی روزانہ بنیاد پر مصنوعات اور مقام کے لحاظ سے رپورٹنگ بھی اوگرا کو کرنا ہوگی، جبکہ ایف بی آر اوگرا کو اپنے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز تک رسائی فراہم کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments