پاکستان اور گوگل میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوگئے۔
جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس تعاون کا مقصد پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو 2030ء تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
معاہدے میں مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے جن میں مہارتوں کی ترقی، مصنوعی ذہانت، حکومتی خدمات، زراعت، ڈیجیٹل ادائیگیاں، ایپ ڈیولپمنٹ اور گیمنگ انڈسٹری شامل ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا اور ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی امور اور پبلک پالیسی ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کے حوالے سے آج ایک اہم دن ہے، جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی سے گزر رہا ہے، ہماری نوجوان آبادی ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت گوگل نے 2026 میں پاکستانی نوجوانوں کو 1 لاکھ 50 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ آئندہ برسوں میں اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا امکان ہے۔
ان سرٹیفکیٹس کا مقصد نوجوانوں کو زیادہ طلب والے تکنیکی شعبوں میں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع تک ان کی رسائی بہتر بنانا ہے۔
کمپنی طلبہ کو جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز فراہم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی جن میں تعلیمی اور تحقیقی کاموں میں معاونت کے لیے گوگل اے آئی پلس اور جیمنی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی بھی شامل ہے۔
اسلام آباد میں گوگل اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا جہاں نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے معیار پر پورا اترنے کے لیے انسانی وسائل تیار کیے جائیں گے۔
معاہدے میں حکومتی امور میں مصنوعی ذہانت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ایف بی آر کے اصلاحاتی منصوبے کے تحت گوگل ٹیکس اتھارٹی کو اے آئی کے استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو جدید بنانے، انتظامی امور کو مؤثر بنانے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کرے گا۔
زراعت کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا جن میں فصلوں کی نگرانی، پیداوار کی پیش گوئی اور پائیدار کاشت کاری شامل ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
دونوں فریقین نے مقامی ایپ ڈویلپرز اور گیمنگ اسٹوڈیوز کی معاونت کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت، گوگل اور صنعت کے اہم فریقوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور دستیاب مواقع کی نشاندہی کرے گی۔
وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور آئی ٹی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھرپور کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد دے گی جس کے تحت ملک کی نوجوان نسل کو اہم مہارتوں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز اور ایسی ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جائے گا جو پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے کے لیے ضروری ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments