پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ سہولت مانگ لی، وزیر خزانہ کی تصدیق
- امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں ، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ سہولت باقاعدہ طور پر طلب کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد روایتی قرض یا کریڈٹ لائن حاصل کرنا نہیں بلکہ زرمبادلہ کے استحکام کو تقویت دینا اور عالمی کیپٹل مارکیٹ کو مثبت پیغام دینا ہے۔
وزیر خزانہ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست کی تصدیق کی اور بتایا کہ امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
بعد ازاں پاکستان کی فنانسنگ حکمتِ عملی کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسلام آباد موجودہ مالیاتی انتظامات سے بتدریج نکلنے کے حوالے سے بھی بات چیت کر رہا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ ستمبر کے اختتام تک ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) یا امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے اس حوالے سے ردعمل یا رائے سامنے آ جائے گی۔ حکومت کا مقصد بار بار ہونے والی دوطرفہ قرض رول اوور سہولتوں سے نکل کر مارکیٹ پر مبنی فنانسنگ کی جانب بڑھنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ’’مکمل کوشش‘‘ مارکیٹ پر مبنی میچورٹیز کی جانب بڑھنے کی ہے اور اس سلسلے میں تمام موجودہ اقدامات بھی اسی سمت میں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’کچھ اقدامات کامیاب ہوں گے، جبکہ کچھ میں مسائل بھی پیش آسکتے ہیں،‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اس مقصد پر واضح ہے کہ قلیل مدتی دوطرفہ قرض رول اوور انتظامات پر انحصار کم کیا جائے اور طویل مدتی مارکیٹ فنانسنگ کی جانب بڑھا جائے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی، بالخصوص گزشتہ تین برسوں کے دوران مدد فراہم کرنے والے اپنے دوطرفہ شراکت داروں کا شکر گزار ہے، تاہم اب ملک کی فنانسنگ حکمتِ عملی میں ازسرنو توازن پیدا کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا، ’’ہماری کوشش اور خواہش، الحمدللہ، یہ ہے کہ اب ہم ایک ریٹنگ اسٹیٹس حاصل کرچکے ہیں۔ ہم کم از کم بی پلس ریٹنگ کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، جو ان کے بقول 2003-04 سے ایک ہی سطح پر رکی ہوئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے پانچ، سات اور حتیٰ کہ 10 سال کی طویل مدت کے لیے فنانسنگ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہم اس سمت بڑھتے ہیں تو مارکیٹ میں ہمارے پاس میچورٹیز کو پانچ، سات یا 10 سال تک بڑھانے کے مواقع ہوں گے، تاکہ آپ کو بار بار یہ سوال نہ پوچھنا پڑے،‘‘ بظاہر ان کا اشارہ پاکستان کی جانب سے بار بار دوطرفہ قرض رول اوور حاصل کرنے کی ضرورت کی طرف تھا۔
10 ارب ڈالر کی مجوزہ امریکی سہولت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ یہ محض ایک اور فنانسنگ لائن ہے۔
انہوں نے کہا، ’’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ مارکیٹ کے لیے ایک سگنل ہے۔‘‘
اورنگزیب کے مطابق مجوزہ سہولت کا بنیادی مقصد پاکستان کی کرنسی اور زرمبادلہ کے استحکام کے حوالے سے مثبت اشارہ دینا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی کیپٹل مارکیٹوں تک ملک کی رسائی مزید بہتر ہوسکے گی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ کسی کریڈٹ لائن، قرض یا اس نوعیت کی کسی سہولت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہماری کرنسی کے استحکام اور زرمبادلہ کے استحکام کا اشارہ ہے، اور اس کے نتیجے میں ہمیں مارکیٹ سے فنانسنگ حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔‘‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی قرض مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی کے لیے پہلے ہی تیاری شروع کردی ہے اور اس عمل کے تحت تین ارینجرز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے حالیہ عرصے میں پاکستان کی جانب سے مختلف قرض سکیورٹیز کے اجرا، جن میں یورو بانڈ، اسلامی سکوک اور ڈالر میں سیٹل ہونے والا روپے سے منسلک بانڈ شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات عالمی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کی حکومتی کوششوں کا ثبوت ہیں۔
اورنگزیب نے کہا، ’’ہماری پوری کوشش ہے کہ مارکیٹ میں پانچ، سات یا 10 سال کی مدت کے لیے جائیں اور کریڈٹ حاصل کریں۔‘‘
























Comments