اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 176,846.36 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو کاروباری دن کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دونوں سمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد 1,100 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس نے ابتدائی طور پر تیزی کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں انٹرا ڈے بلند ترین سطح 178,942.31 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ تاہم یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور فروخت کے دباؤ کے باعث کاروباری سرگرمی آگے بڑھنے کے ساتھ انڈیکس بتدریج نیچے آتا گیا۔
دوپہر کے بعد فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں کاروباری سیشن کے اختتام کے قریب انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 176,638.10 پوائنٹس تک گر گیا، تاہم بعد ازاں معمولی بہتری آئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,109.14 پوائنٹس یا 0.62 فیصد کمی سے 176,846.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کاروبار کے اختتام کے بعد جاری رپورٹ میں کہا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جسے اس خبر سے تقویت ملی کہ حکومت گیس کے شعبے کے 3.6 ٹریلین روپے کے گردشی قرضے میں سے 1.49 ٹریلین روپے کے مسئلے سے نمٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ توقع ہے کہ گردشی قرضے کے تصفیے کے منصوبے کے لیے جزوی طور پر سرکاری ملکیت کی حامل ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں (ای اینڈ پی) کے زیادہ منافع اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولیوں میں اضافے سے مالی معاونت حاصل ہوگی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مثبت پہلو پر پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (پی ٹی سی)، ڈی جی خان سیمنٹ (ڈی جی کے سی)، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ (آئی ایس ایل) اور فاطمہ فرٹیلائزر (فاطمہ) نمایاں فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں شامل رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 176 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
دوسری جانب یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل)، اینگرو ہولڈنگز (اینگرو ایچ)، حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)، فاؤجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے ٹی آر ایل) نمایاں مندی کا شکار رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس کو 641 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
ایک اہم پیش رفت میں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سالانہ بنیادوں پر 38 فیصد کمی ہوئی، جسے زیادہ برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر میں مضبوط اضافے سے سہارا ملا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا، جبکہ جولائی 2025 میں یہ خسارہ 529 ملین ڈالر تھا۔ اس طرح خسارے میں 201 ملین ڈالر کی بہتری ہوئی۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل اندرونی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ رہا اور شدید فروخت دیکھی گئی۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 2,546.94 پوائنٹس یا 1.41 فیصد کمی سے 177,955.51 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 1.7 فیصد گر گیا، جبکہ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی کمی کے بعد جاپان کا نکیئی انڈیکس 2.6 فیصد نیچے آیا۔
امریکا اور یورپ کے اسٹاک فیوچرز میں تقریباً 0.1 فیصد کمی ہوئی۔
چین میں دنیا کی سب سے بڑی ہیومنائیڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی یونٹری کے حصص نے مارکیٹ میں پہلی مرتبہ لسٹڈ ہونے کے بعد 600 فیصد کی شاندار چھلانگ لگائی۔ اس کی لسٹنگ میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی طلب پیشکش سے 8,000 گنا سے بھی زیادہ رہی۔
ایشیا میں ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ میں رہے، جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر رات گئے ہونے والی کمی اور یہ رپورٹس تھیں کہ انتھروپک کی سالانہ آمدنی کی رفتار جولائی کے اختتام پر 65 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی، جو مارکیٹ کی بعض توقعات سے کم تھی۔
خطرے سے گریز کے رجحان نے کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کو معمولی سہارا دیا، تاہم مجموعی اتار چڑھاؤ محدود رہا۔
کینیڈین ڈالر میں معمولی اضافہ ہوا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ 3 روز کے لیے مؤخر کردیا اور کہا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔
یورو 1.1576 ڈالر پر رہا، جبکہ ین 159.44 فی ڈالر پر کاروبار کرتا رہا، جو 160 کی سطح کے بالکل قریب ہے۔ سرمایہ کار 160 کی سطح کو سرکاری مداخلت کے ایک اور دور کے ممکنہ محرک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی کی قدر دن کے اختتام پر 277.60 روپے فی ڈالر رہی، جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 1,038.64 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہو کر 787.89 ملین حصص رہ گیا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 50.74 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 39.57 ارب روپے رہی۔سینرجیکو پی کے 217.46 ملین حصص کے کاروباری حجم کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، جبکہ فاسٹ کیبلز لمیٹڈ کے 27.38 ملین اور عائشہ اسٹیل مل کے 27.21 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
بدھ کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 185 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 271 میں کمی جبکہ 40 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
























Comments