کئی برسوں سے پاکستان برآمدات کے اگلے بڑے شعبے کی تلاش میں ہے جس کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، زراعت اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ دی گئی۔ تاہم ملک کے لیے برآمدات کے حوالے سے سب سے زیادہ امید افزا مواقع میں سے ایک خاموشی سے ہماری نظروں کے سامنے پروان چڑھ رہا ہے۔
صنعتی ماہرین اب مؤثر انداز میں یہ مؤقف پیش کررہے ہیں کہ پاکستان بین الاقوامی معیار کی تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی خدمات اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم علاج کے اخراجات کو یکجا کرکے ایک کامیاب میڈیکل ٹورازم انڈسٹری ترقی دے سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے حجم اور اس کی مسلسل نمو کو دیکھتے ہوئے اس شعبے پر اب تک دی جانے والی توجہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وقت بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے موزوں ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے مشیر ماہرین کے مطابق عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری کا حجم 2024 میں تقریباً 144.5 ارب ڈالر تھا جو 2033 تک بڑھ کر تقریباً 705 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس مارکیٹ میں ایستھیٹک میڈیسن (حسن و خوبصورتی سے متعلق طبی علاج) سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ پاکستان کے پاس اس شعبے میں مسابقت کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے پہلے ہی کئی اہم عوامل موجود ہیں جن میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت یافتہ ماہر ڈاکٹرز، نسبتاً کم علاج کے اخراجات، بڑے شہروں میں جدید طبی سہولیات اور خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کمیونٹی سے قریبی ثقافتی و جغرافیائی روابط شامل ہیں۔
ترکیہ کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے خاصا اہم ہے۔ ترکیہ نے خود کو دنیا کے معروف میڈیکل ٹورازم مراکز میں تبدیل کرلیا ہے جہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد مریض آتے ہیں جن میں بڑی تعداد ہیئر ٹرانسپلانٹ اور کاسمیٹک طریقۂ علاج کرانے والوں کی ہوتی ہے۔ یہ کامیابی محض اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ حکومت کی مسلسل معاونت، بین الاقوامی معیار کی منظوری، بھرپور مارکیٹنگ، ویزا کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور عالمی سطح پر صحت کی سہولیات کا برانڈ بنانے کی منظم کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ماہرین کی صلاحیتیں پہلے سے موجود تھیں لیکن پالیسی فریم ورک نے اس شعبے کی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا راستہ ہموار کیا۔
پاکستان میں بھی اسی نوعیت کے مواقع موجود نظر آتے ہیں۔ ملک میں ہر سال ہزاروں میڈیکل گریجویٹس تیار ہوتے ہیں جبکہ بہت سے ماہر ڈاکٹر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ڈگریاں رکھتے ہیں یا برطانیہ، امریکا اور خلیجی ممالک سے تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹروں نے ملک کی سرحدوں سے باہر بھی پیشہ ورانہ اعتبار اور احترام حاصل کیا ہے۔ تاہم ان کی مہارت کو شاذونادر ہی ایک ایسی اسٹریٹجک برآمدی صنعت کے طور پر دیکھا گیا ہے جو زرمبادلہ کمانے، ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری راغب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ پالیسی سازی میں ایک اہم خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ موقع صرف کاسمیٹک میڈیسن تک محدود نہیں۔ دانتوں کا علاج، بانجھ پن کا علاج، موٹاپے کی سرجری (بیریاٹرک سرجری) اور دیگر خصوصی طبی طریقۂ علاج بھی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مارکیٹ کا حصہ ہیں جہاں علاج کے اخراجات مریضوں کے فیصلوں پر تیزی سے اثرانداز ہورہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم بہت سے پاکستانی پہلے ہی مانوسیت، اعتماد اور کم اخراجات کے باعث علاج کے لیے وطن واپس آتے ہیں۔ اسی طرح پڑوسی ممالک اور خلیجی خطے کے مریض بھی پاکستان کے لیے طلب کا ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہی بشرطیکہ پاکستان معیار، تحفظ اور پیشہ ورانہ ضوابط کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ساکھ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے۔
لیکن اس کے لیے محض پرامید اندازوں سے کہیں زیادہ اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ میڈیکل ٹورازم صرف تقریروں کے ذریعے فروغ نہیں پاسکتا۔ بین الاقوامی منظوری، سخت معیارِ صحت کی ضمانت، شفاف ضابطہ کاری، طبی غفلت کے خلاف مؤثر تحفظ، خصوصی مہمان نوازی کی خدمات، ویزا کے عمل میں سہولت اور مربوط بین الاقوامی مارکیٹنگ یہ سب ان ممالک کی حکمت عملی کا حصہ ہیں جو میڈیکل ٹورازم میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہزاروں میل کا سفر کرکے علاج کے لیے آنے والے مریض صحت کی سہولت کے ساتھ اعتماد بھی خریدتے ہیں۔ اس لیے ساکھ اس صنعت کا سب سے قیمتی اثاثہ بن جاتی ہے۔
حکومت کا اس سلسلے میں اہم کردار ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس معاملے پر صنعتی ماہرین سے مشاورت کا عمل شروع کرکے قابلِ تحسین اقدام کیا ہے تاہم اب اس مشاورت کو عملی پالیسی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیکل ٹورازم کو پاکستان کی وسیع تر برآمدی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے جس کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں، بین الاقوامی معیار کی منظوری حاصل کرنے والے اسپتالوں کے لیے مراعات دی جائیں، غیر ملکی مریضوں کے لیے داخلے کے طریقۂ کار کو آسان بنایا جائے اور منتخب بین الاقوامی مارکیٹوں میں مربوط تشہیری مہم چلائی جائے۔ایئرلائنز، ہوٹلوں اور نجی طبی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی پاکستان کی مسابقتی صلاحیت مزید بہتر بنا سکتی ہے۔
پاکستان نے زرمبادلہ کے نئے ذرائع کی تلاش میں کئی دہائیاں گزار دی ہیں جبکہ اپنے ہی انسانی سرمائے سے پیدا ہونے والے مواقع کو نظر انداز کیا ہے۔ میڈیکل ٹورازم اگرچہ ملک کے تمام معاشی مسائل حل نہیں کرسکتا تاہم یہ ایک ایسا شعبہ ضرور ہے جہاں پاکستان کو پہلے ہی حقیقی تقابلی برتری حاصل ہے، اب ان فوائد کو محض ایک غیر استعمال شدہ امکان کے طور پر نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں قومی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ پاکستان اپنی طبی مہارتیں برآمد کرے، بجائے اس کے کہ مریض اور ان کے ساتھ آنے والے معاشی مواقع دوسرے ممالک کا رخ کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments