اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کا اضافہ
- کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 180,502.44 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت زون میں ہوا جس کی بدولت بینچ مارک 100 انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔
بینچ مارک انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 181,000 پوائنٹس کی سطح سے تجاوز کرگیا، بعد ازاں اس کے بیشتر اضافے میں کمی آگئی۔ دوپہر کے اوقات میں تیزی کے باعث انڈیکس دوبارہ 181,158.86 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، تاہم اختتامی مرحلے میں فروخت کے دباؤ نے اس کے بیشتر گین ختم کردیے۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 397.83 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 180,502.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ ریفائنری سیکٹر آج بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا، کیونکہ طویل انتظار کے بعد ریفائنری پالیسی کی ممکنہ دستخطی تقریب سے متعلق مارکیٹ میں گردش کرنے والی خبروں نے اس شعبے میں بھرپور خریداری کو متحرک کیا۔
رپورٹ کے مطابق اٹک ریفائنری، پاکستان ریفائنری (پی آر ایل)، نیشنل ریفائنری (این آر ایل) اور سینرجیکو کے حصص مثبت زون میں بند ہوئے اور مجموعی مارکیٹ کے مقابلے میں نمایاں بہتر کارکردگی دکھائی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مثبت رجحان کے دوران پی ایس او، پی پی ایل، اے ٹی آر ایل، سنرجی اور او جی ڈی نمایاں اضافے والے حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 721 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج دباؤ میں رہا کیونکہ امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا تاہم ملکی مالیاتی اور بیرونی شعبے کے مضبوط اشاریوں نے کچھ سہارا فراہم کیا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 1,325.41 پوائنٹس یا 0.7 فیصد کمی سے 180,104.61 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی حصص کی منڈیوں میں پیر کو محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہیں۔ گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا کیونکہ ایران جنگ کے خاتمے کی جانب پیشرفت نہ ہونے کے باعث افراطِ زر کے خطرات بدستور بڑھنے کا خدشہ برقرار رہا۔
امن مذاکرات کی جانب پیشرفت نہ ہونے اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی آمدورفت بدستور معطل رہنے کا سلسلہ جاری رہا۔
ایران نے ہفتے کو امریکا سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ جنگ جاری رہنے کے دوران پٹرول کی بلند قیمتوں کو قبول کریں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 88.50 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی جو گزشتہ ہفتے 6 فیصد اضافے کے بعد کی سطح ہے جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 82.12 ڈالر فی بیرل ہوگئی تاہم گزشتہ ہفتے اس کی قیمت میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
پیر کو ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک جاپان کے علاوہ شیئرز انڈیکس مستحکم رہا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پیر کو اپنی معمولی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا اور 0.01 فیصد مزید مضبوط ہوا۔ مقامی کرنسی 277.62 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جو گزشتہ کاروباری سیشن کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 891.33 ملین حصص سے بڑھ کر 1,047.68 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 36.69 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 48.32 ارب روپے ہوگئی۔
سینرجیکو پی کے 312.52 ملین حصص کی خرید و فروخت کے ساتھ کاروباری حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ ڈی ایس انڈسٹریل لمیٹڈ کے 124.77 ملین جبکہ کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 30.72 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
اسی طرح پیر کو مجموعی طور پر 498 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں 197 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 276 میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

























Comments