ایس این جی پی ایل کے بڑھتے واجبات، پاور ڈویژن سے ادائیگی پلان طلب
- ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کو واجب الادا رقوم کی ری کنسیلیشن کے بعد 30 جون 2026 تک پیٹرولیم ڈویژن کو ادائیگی کا منصوبہ فراہم کرنا تھا۔
وزیر پٹرولیم کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے بڑھتے ہوئے واجبات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاور ڈویژن سے مقامی گیس اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے بقایاجات کی ادائیگی کا قابلِ عمل منصوبہ اور اس کی ٹائم لائن طلب کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کو واجب الادا رقوم کی ری کنسیلیشن کے بعد 30 جون 2026 تک پیٹرولیم ڈویژن کو ادائیگی کا منصوبہ فراہم کرنا تھا۔
ایس این جی پی ایل، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جاری کردہ مربوط لائسنس کے تحت قدرتی گیس کی ترسیل، تقسیم اور فروخت کا کاروبار کرتی ہے۔ اوگرا لائسنس کی شرائط، نیچرل گیس ٹیرف رولز 2002 اور اوگرا آرڈیننس 2002 کی متعلقہ شقوں کے تحت کمپنی کی سالانہ ریونیو ضرورت کا تعین کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایس این جی پی ایل سسٹم پر پرانے پاور پلانٹس، جن میں سیف پاور، سیفائر الیکٹرک، اورینٹ پاور، ہالمور پاور، فوجی کبیر والا، روش پاور، کوٹ ادو پاور اور جی ٹی پی ایس فیصل آباد شامل ہیں، کے گیس سپلائی معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں آر ایل این جی مختص کی گئی اور ان پلانٹس نے ایس این جی پی ایل کے ساتھ اس کی فراہمی کے معاہدے کیے۔
نندی پور پاور پلانٹ کو بھی دسمبر 2015 میں 100 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی مختص کی گئی تھی۔ جبکہ بلوکی، حویلی بہادر شاہ، بھکی اور پنجاب تھرمل سمیت 4 سرکاری آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس نے ایس این جی پی ایل سے آر ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں خلیج میں بحران کے بعد قطر انرجی نے ایل این جی کارگو کی فراہمی پر فورس میجر نافذ کردی تھی۔ آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے دوران نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) نے فیصلہ کیا کہ اپریل، مئی اور جون 2026 کے دوران دستیابی کی صورت میں آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی گیس فراہم کی جائے۔
پاور سیکٹر کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایس این جی پی ایل نے خیبر پختونخوا میں سی این جی صارفین سے 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی، جہاں گیس کا ٹیرف 3,750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھا۔
پیٹرولیم ڈویژن نے نشاندہی کی کہ اگر پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی قیمت مقررہ آر ایل این جی ٹیرف کے مطابق وصول کی جاتی تو بجلی گھروں کو متعلقہ مہینوں میں فی یونٹ ایف سی اے میں 0.50 سے 1 روپے تک اضافے کی ضرورت پڑتی، جس سے بجلی صارفین پر اضافی بوجھ پڑتا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے فیصلے کے مطابق پاور ڈویژن نے تجویز دی کہ اپریل تا جون 2026 آر ایل این جی پاور پلانٹس کو فراہم کی جانے والی مقامی گیس کی قیمت 2,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی جائے، نہ کہ اعلان کردہ آر ایل این جی قیمت۔
پیٹرولیم ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس رعایتی قیمت کے باعث گیس سیکٹر کو ریونیو نقصان ہوگا، جبکہ دسمبر 2025 تک گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تقریباً 1.8 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ایس این جی پی ایل سے آر ایل این جی فروخت کی مد میں 301 ارب روپے کے واجبات بھی ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو تجویز دی کہ مقامی گیس کی فراہمی پر 2,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت لاگو کی جائے اور پاور سیکٹر کے مزید واجبات جمع ہونے سے روکنے کے لیے ہفتہ وار بلنگ کی بنیاد پر ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے محفوظ ادائیگی کا نظام قائم کیا جائے۔
ای سی سی نے پیٹرولیم ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دے دی، جن میں ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے ہفتہ وار بنیاد پر محفوظ ادائیگیوں کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments