پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اپنے قیام سے ہی سندھ کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے پُرعزم رہی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی کی آنے والی حکومتوں نے صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تعلیم کے فروغ، معیاری صحت کی سہولیات، توانائی کے تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے پالیسیاں اختیار کی ہیں۔
مالی مشکلات اور ملک کو درپیش متعدد چیلنجز کے باوجود پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت سندھ حکومت نے ایسے اہم منصوبے شروع کیے ہیں جنہوں نے صوبے کے معاشی اور سماجی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ غیر فعال صنعتوں کی بحالی سے لے کر جامعات کے قیام، صحت کی سہولیات میں بہتری، مقامی توانائی کے وسائل سے استفادے اور سڑکوں کے نیٹ ورک میں توسیع تک پیپلز پارٹی کے ترقیاتی ایجنڈے کا مقصد سندھ کے ہر خطے کے لیے مواقع پیدا کرنا رہا ہے۔
معاشی ترقی کا انحصار صنعتی ترقی پر ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے دو اہم صنعتی یونٹس، دادو شوگر ملز اور نوڈیرو شوگر ملز کی بحالی میں معاونت کی۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں 1970 کی دہائی میں قائم کی گئی دونوں شوگر ملز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران آپریشنز بند ہونے کے بعد کئی سال تک غیر فعال رہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے آفیشل اسائنی کی جانب سے کرائی گئی نیلامی اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں دونوں ملز کامیابی سے بحال ہوگئیں۔
دونوں ملز کی دوبارہ بحالی سے صنعتی پیداوار بحال ہوئی، براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے، گنے کی معیشت کو تقویت ملی اور ملحقہ اضلاع میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی ملی۔
پاکستان کے مستقبل کے لیے توانائی کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کے وافر قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات شروع کیے۔
تھر کول ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام پاکستان کے بڑے توانائی منصوبوں میں سے ایک کا آغاز ثابت ہوا۔ بجلی کی پیداوار کے لیے کوئلے کے چار بلاکس مختص کیے گئے، جس سے دنیا کے بڑے لگنائٹ کوئلے کے ذخائر میں شمار ہونے والے تھر کے ذخائر سے استفادے کی بنیاد رکھی گئی۔
آج تھر کول ایک اہم قومی اثاثہ بن چکا ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور پاکستان کے توانائی کے مجموعی نظام میں نمایاں حصہ ڈالنے میں مدد مل رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے صاف اور قابلِ تجدید توانائی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ جھمپیر کو پاکستان کا اہم ترین ونڈ انرجی زون قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری متوجہ ہوئی۔
گزشتہ برسوں کے دوران جھمپیر جنوبی ایشیا کی بڑی ونڈ پاور راہداریوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں صاف بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جارہا ہے اور معاشی مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔
پانی کا تحفظ اور زرعی ترقی بھی اہم ہے۔ زراعت بدستور سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے پائیدار ترقی کے لیے پانی کا مؤثر انتظام ناگزیر ہے۔
دراوت ڈیم بھی اہمیت کا حامل ہے، تھانو احمد خان کے قریب دراوت ڈیم کی تکمیل پانی ذخیرہ کرنے اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ منصوبے کو مکمل طور پر فعال کیے جانے کے بعد پانی کی بہتر دستیابی کے ذریعے قریبی علاقوں، بشمول ضلع ملیر کے بعض حصوں میں زراعت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئی گاج ڈیم : سندھ کے اہم ترین آبپاشی منصوبوں میں ضلع دادو میں واقع نئی گاج ڈیم بھی شامل ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد توقع ہے کہ کاچھو کے علاقے میں تقریباً 3 لاکھ ایکڑ زرخیز اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا، جبکہ کوہِ کیرتھر سے آنے والے موسمی پہاڑی ندی نالوں کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ منصوبے میں تقریباً 4 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈنگ میں اپنا حصہ معطل کیے جانے کے بعد تعمیراتی کام میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم یہ منصوبہ زراعت، سیلاب سے بچاؤ اور دیہی ترقی کے لیے سندھ کی اہم طویل مدتی سرمایہ کاری میں شمار ہوتا ہے۔
جدید ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچہ : معاشی خوشحالی کا انحصار مؤثر ذرائع نقل و حمل پر ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جامشورو کو کندھ کوٹ سے ملانے والی ایک اہم بائی پاس سڑک تعمیر کی، جس سے بالائی اور زیریں سندھ کے درمیان آمدورفت بہتر ہوئی اور تجارت و کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملی۔ دریائے سندھ پر کئی بڑے پل بھی تعمیر کیے گئے جن سے صوبے کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوا، ان میں شامل ہیں:
٭ لاڑکانہ-خیرپور پل
٭ امری-قاضی احمد پل
٭ سر آغا خان پل، جھِرک، جو ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان کو ملاتا ہے
٭ گھوٹکی-کندھ کوٹ پل منصوبہ
ان منصوبوں سے سفر کا وقت کم ہوا، علاقائی رابطوں میں بہتری آئی اور عوام کو مارکیٹوں، صحت کی سہولیات اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں آسانی ہوئی۔
گڈاپ، خیرپور میرس اور کاکڑ (ضلع دادو) میں مزید کیڈٹ کالجز قائم کیے گئے، جبکہ کیڈٹ کالج مٹھی پر بھی کام جاری ہے۔
ایلیویٹڈ لائٹ ریل منصوبہ (1993-96) ایک ضائع ہونے والا موقع ہے، ابتدائی اور انتہائی اہم منصوبوں میں سے ایک ایلیویٹڈ لائٹ ریل منصوبہ تھا، جو سہراب گوٹھ سے ٹاور تک تعمیر کیا جانا تھا۔ یہ منصوبہ 1993-96 کی پیپلز پارٹی حکومت کے دور میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے تحت تیار کیا گیا تھا۔
منصوبہ ابتدائی طور پر 30 سال کے لیے بلڈ، آپریٹ، ٹرانسفر (بی او ٹی) ماڈل کے تحت تیار کیا گیا تھا، جس میں مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ اسے عالمی بینک کی معاونت حاصل تھی جبکہ ایک کینیڈین ملٹی نیشنل کمپنی نے بین الاقوامی بولی کا عمل جیتا تھا۔ مجوزہ انتظام کے تحت سندھ حکومت کی ذمہ داری صرف مطلوبہ زمین فراہم کرنے تک محدود تھی، جبکہ نجی کمپنی کو منصوبے کی مالی معاونت، تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کرنا تھی۔
مگر جدید مالیاتی ماڈل اور جامع منصوبہ بندی کے باوجود وفاقی حکومت نے منصوبہ معطل کردیا۔ نتیجتاً کراچی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل جدید ریل پر مبنی ٹرانزٹ نظام قائم کرنے کا ایک اہم موقع کھو بیٹھا۔
لیاری ایکسپریس وے : لیاری ایکسپریس وے کراچی کی ایک اہم کنٹرولڈ ایکسس شاہراہ ہے جو دریائے لیاری کے کنارے سے گزرتی ہوئی مائی پور روڈ (کراچی بندرگاہ کے قریب) کو سہراب گوٹھ سے ملاتی ہے، جہاں یہ ایم-9 موٹروے سے منسلک ہوجاتی ہے۔ اسے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور بندرگاہ جانے والی اور شہر سے گزرنے والی ٹریفک کے لیے تیز تر راستہ فراہم کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا گیا۔
شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے : شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سندھ حکومت کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت شروع کیے گئے بڑے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 39 کلومیٹر طویل، چھ لین اور کنٹرولڈ ایکسس والی یہ ایکسپریس وے کورنگی کریک ایونیو/ڈی ایچ اے کو کاٹھور کے قریب کراچی، حیدرآباد موٹروے (ایم-9) سے ملاتی ہے۔ اس سے کراچی کے جنوبی اضلاع، صنعتی علاقوں اور قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کے درمیان رابطے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
منصوبے کا مقصد سفر کا وقت کم کرنا، شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ گھٹانا اور کراچی بندرگاہ و صنعتی علاقوں سے تجارتی ٹریفک کی آمدورفت آسان بنانا ہے۔ منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 55 سے 60.7 ارب روپے ہے اور اس کا افتتاح مئی 2026 میں کیا گیا، جو کراچی کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ایک وژن جو عملی شکل اختیار کر رہا ہے : 1990 کی دہائی کے مجوزہ ایلیویٹڈ لائٹ ریل منصوبے سے لے کر پیپلز بس سروس، گرین لائن، اورنج لائن، ریڈ لائن، یلو لائن، الیکٹرک بسوں اور اب شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے تک سندھ حکومت کراچی کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی وژن پر عمل پیرا رہی ہے۔ مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد محفوظ، تیز تر اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
جدید عوامی ٹرانسپورٹ کی بحالی : شہر کی بڑھتی ہوئی سفری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت سندھ حکومت نے عوامی ٹرانسپورٹ کے کئی بڑے منصوبے شروع اور ان کی معاونت کی ہے۔
شہری آمدورفت میں بہتری کے لیے سندھ حکومت نے کراچی کے عوامی ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے جدید، محفوظ اور مؤثر ماس ٹرانزٹ نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ پیپلز بس سروس، بس ریپڈ ٹرانزٹ کوریڈورز میں توسیع اور الیکٹرک بسوں کے آغاز کے ذریعے حکومت شہر کو طویل عرصے سے درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے اور لاکھوں شہریوں کی آمدورفت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
جدید عوامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے کراچی میں تبدیلی : اس تبدیلی کا ایک اہم منصوبہ پیپلز بس سروس ہے، جسے 10.734 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کیا گیا۔ یہ سروس کراچی میں 14 روٹس پر تقریباً 240 بسیں چلا کر شہری آمدورفت میں نمایاں بہتری لارہی ہے، جبکہ مزید 50 بسیں حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، شہید بینظیرآباد، لاڑکانہ، شکارپور اور خیرپور میں چلائی جارہی ہیں۔
فلیٹ میں پنک بس سروس بھی شامل ہے جو خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص ہے، تاکہ انہیں محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کی جاسکے۔ آج پیپلز بس سروس روزانہ 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ صوبے کے کامیاب ترین عوامی ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔
مربوط ماس ٹرانزٹ نیٹ ورک کی ترقی کے لیے حکومت کا عزم بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) نظام سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ گرین لائن بی آر ٹی، جس کی تخمینی لاگت 35 سے 40 ارب روپے رہی اور اورنج لائن بی آر ٹی، جس کی نظرثانی شدہ لاگت 4.29 ارب روپے ہے، فعال ہوچکی ہیں اور روزانہ ہزاروں مسافروں کو قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ ریڈ لائن بی آر ٹی پر بھی تعمیراتی کام جاری ہے، جس کی تخمینی لاگت 140 ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ یلو لائن بی آر ٹی کی مالیت 120 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ دونوں منصوبوں کی تکمیل سے کراچی کی عوامی ٹرانسپورٹ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے عزم کے تحت سندھ حکومت نے کراچی میں پانچ روٹس پر 50 الیکٹرک بسیں بھی متعارف کرائی ہیں، جنہیں سالانہ 825 ملین روپے کے رینٹ ٹو اون انتظام کے تحت چلایا جارہا ہے۔ الیکٹرک بس سروس روزانہ 5 ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے، جبکہ ماحول دوست بسوں کے ذریعے اس سروس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات حالیہ تاریخ میں کراچی کے ٹرانسپورٹ شعبے میں ہونے والی اہم ترین سرمایہ کاری میں شامل ہیں۔ سستی عوامی ٹرانسپورٹ تک رسائی بڑھانے، ٹریفک کے دباؤ میں کمی، صاف ستھری سفری سہولیات کے فروغ اور شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطے بہتر بنانے کے ذریعے یہ منصوبے روزمرہ سفر میں تبدیلی لارہے ہیں اور کراچی کی طویل مدتی شہری ترقی میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں سندھ حکومت جدید، مربوط اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی ترقی کے لیے پرعزم ہے جو تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کی ضروریات پوری کرسکے۔ ماس ٹرانزٹ، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ذریعے حکومت کراچی کے سفری نظام کو تبدیل کرنے کے ساتھ معاشی ترقی اور لاکھوں شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہے۔ پیپلز بس سروس، بی آر ٹی نیٹ ورک، لیاری ایکسپریس وے، شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مربوط، قابلِ رسائی اور معاشی طور پر متحرک سندھ کے اسی طویل مدتی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے علاوہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ترقیاتی سفر عوامی فلاح، جامع معاشی ترقی اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ توانائی، آبپاشی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، صنعت اور طرز حکمرانی میں سرمایہ کاری کے ذریعے پیپلز پارٹی کی مختلف حکومتوں نے طویل مدتی سماجی و معاشی ترقی کے لیے پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ تھر کو ایک بڑے توانائی مرکز میں تبدیل کرنے، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور صوبے بھر میں رابطوں کو مضبوط کرنے جیسے اقدامات سندھ کی مسلسل ترقی میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔
سندھ آگے بڑھ رہا ہے اور حکومت اسٹریٹجک منصوبہ بندی، جدت اور عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی کی رفتار تیز کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس کا وژن ایک ایسے جدید، خوشحال اور جامع صوبے کی تعمیر ہے جہاں مؤثر بنیادی ڈھانچہ، معیاری عوامی خدمات اور وسیع تر معاشی مواقع تمام شہریوں کی زندگی بہتر بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کریں۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026





















Comments