بھارت کی ریلائنس لڑاکا طیاروں کے انجن کی تیاری کے لیے رولز رائس کے ساتھ شراکت کرے گی
- لڑاکا طیارے کے پروٹوٹائپ کی 2028ء میں رونمائی متوقع ہے، جو بھارت کی مستقبل کی فضائی جنگی حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کرے گا
ریلائنس انڈسٹریز نے جمعہ کو کہا ہے کہ وہ بھارت کے لڑاکا طیاروں کے پروگرام کے لیے انجن کی تیاری اور اس کی پیداوار کے لئے برطانیہ کی رولز رائس کے ساتھ شراکت داری کرے گی، کیونکہ بھارت اپنے جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیارے کی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) کے نام سے معروف اس طیارے کے پروٹوٹائپ کی 2028ء میں رونمائی متوقع ہے، جو بھارت کی مستقبل کی فضائی جنگی حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
گزشتہ برس بھارت نے اپنے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی تیاری کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دیتے ہوئے دفاعی کمپنیوں سے دلچسپی طلب کی تھی۔
درآمدی دفاعی سازوسامان پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں بھارت نے مقامی کمپنیوں کو بھی دو انجنوں والے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی تیاری میں حصہ لینے کی اجازت دی اور ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) پروگرام کے لیے عمل درآمد کے ماڈل کی منظوری دی۔
جمعہ کو اعلان کردہ مجوزہ شراکت داری کے تحت ریلائنس اور رولز رائس بھارت میں ایرو اسپیس گیس ٹربائن کمپلیکس قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں گی، جہاں دونوں کمپنیاں مشترکہ طور پر لڑاکا طیارے کا انجن تیار کریں گی۔
ریلائنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اننت امبانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’رولز رائس کے ساتھ ہماری شراکت داری کا مقصد جدید ایرو اسپیس پروپلشن کے شعبے میں اس کی عالمی سطح کی مہارت کو ریلائنس کی ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت، وسیع پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت اور منصوبوں پر عمل درآمد کی استعداد کے ساتھ یکجا کرکے بھارت میں مقامی ایرو انجن کا ایک جامع ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔‘‘
اس اعلان سے برطانوی ایرو انجن ساز کمپنی کو فرانس کی سیفران کے مدمقابل لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جس نے الگ سے بھارت کے سرکاری ادارے جی ٹی آر ای کے ساتھ مشترکہ منصوبہ قائم کرکے اے ایم سی اے لڑاکا طیارے کے بعد کے ماڈلز کے لیے زیادہ طاقتور انجن تیار کرنے کی تجویز دی ہے۔
ہندوستان ایروناٹکس 4.5 جنریشن کا تیجس لڑاکا طیارہ تیار کرتی ہے، تاہم اسے جنرل الیکٹرک کی جانب سے انجنوں کی سست ترسیل کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ امریکی کمپنی کو درپیش سپلائی چین کے مسائل ہیں۔
رولز رائس اس سے قبل بھی بھارت کے ساتھ فوجی طیاروں کے انجن سے متعلق پروگراموں میں کام کرچکی ہے اور دفاعی و سول ایرو اسپیس کے مختلف شعبوں کے لیے انجن فراہم کرتی ہے۔



















Comments