امریکا ایران امن معاہدے کی امیدیں مدھم، خام تیل ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر مستحکم
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 87.81 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہے
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے معاہدے سے متعلق امیدیں کمزور پڑنے کے بعد منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد کی بلند ترین سطح پر مستحکم رہیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 87.81 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 82.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ پیر کو دونوں عالمی بینچ مارکس میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
مارکیٹ میں یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگوں، حملوں اور مظاہروں کے دوران امریکی نقصانات اور ہلاکتوں کے بدلے معاوضہ ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مؤقف سے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہے اور اس نے اس اہم بحری گزرگاہ کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی شرائط پر واضح اختلاف موجود ہے، جس کے باعث گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں کو سہارا مل رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی آرامکو نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اتوار کو جازان ریفائنری پر دو حملوں کے دعوے کے بعد 4 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی حامل جازان ریفائنری کی بحالی 30 اگست تک مؤخر کر دی ہے۔
بارکلیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی یومیہ خالص برآمدات 3 ملین بیرل رہیں، جو اس سے ایک ہفتہ قبل 4.4 ملین بیرل یومیہ تھیں۔
ادھر عراق نے ایشیائی خریداروں کے لیے ستمبر میں بصرہ میڈیم خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت (او ایس پی) میں 2.50 ڈالر فی بیرل اضافہ کر دیا ہے، جو اب عمان/دبئی کے اوسط نرخ کے مقابلے میں منفی 4 ڈالر فی بیرل مقرر کی گئی ہے۔


Comments