ایشیا کے شہروں میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا سدباب کیسے ممکن ہے؟
- آج کیے جانے والے پالیسی اور سرمایہ کاری کے فیصلے صرف شہروں کے نقش و نگار کا تعین نہیں کریں گے، بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ خطے کی بڑھتی ہوئی شہری آبادی محفوظ زندگی گزار، پیداواری انداز میں کام، بحرانوں کا مقابلہ اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے گی یا نہیں۔
ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شہری آبادی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 2050 تک اس خطے کے شہروں میں 3.4 ارب افراد آباد ہوں گے، جبکہ آج یہ تعداد 2.2 ارب ہے۔ یہ اضافہ ہر سال تقریباً دہلی کے حجم کے دو شہروں کو خطے میں شامل کرنے کے مترادف ہے۔
خطے کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ شہری پھیلاؤ کو کس طرح منظم کیا جاتا ہے—کیا یہ مشترکہ خوشحالی اور بہتر معیارِ زندگی کا ذریعہ بنتا ہے یا محرومیوں اور عدم تحفظ میں مزید اضافہ کرتا ہے؟
خطے بھر میں بلند ہوتی عمارتیں بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور دولت کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم ان چمکتے شہری مناظر کے سائے میں شہری عدم مساوات بھی گہری ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں شہر سماجی طور پر تقسیم، سیاسی طور پر کمزور اور غیر محفوظ و غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے تیزی سے زیادہ سازگار ہوتے جا رہے ہیں۔
آج ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں تقریباً 70 کروڑ شہری کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں رہتے ہیں، جبکہ 65 فیصد سے زائد شہری کارکن غیر رسمی روزگار سے وابستہ ہیں۔ مزید برآں، 2.3 ارب افراد آلودہ اور غیر محفوظ ہوا میں سانس لے رہے ہیں، غیر منظم کچرے کی مقدار بڑھ رہی ہے اور موسمیاتی خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ان مسائل کا سب سے زیادہ بوجھ پہلے ہی نظرانداز اور محروم طبقات پر پڑ رہا ہے، جن میں مقامی آبادی سے باہر کے افراد، معذور افراد، کم آمدنی والے گھرانوں کی سربراہ خواتین، بزرگ شہری اور مستقل آمدنی سے محروم نوجوان شامل ہیں۔
غیر مساوی شہر کمزور شہر بھی ہوتے ہیں۔ جب کوئی بحران آتا ہے تو پہلے ہی مشکلات کا شکار افراد مزید غربت اور مایوسی کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں، جس سے سب کے لیے بحالی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً سماجی ہم آہنگی متاثر اور اداروں پر اعتماد کمزور ہوسکتا ہے، جس سے بحرانوں کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی اتار چڑھاؤ نے ظاہر کیا ہے کہ عالمی بحران کس تیزی سے استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں، جبکہ خطے کے شہر اکثر ان کے سب سے زیادہ متاثرین میں شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال توانائی اور غذائی اشیا کی بڑھتی قیمتوں، سپلائی چین میں خلل، ترسیلات زر اور روزگار کے ذریعے خطے کی متعدد شہری آبادیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ایشیا اور بحرالکاہل بھر میں اس کے اثرات شدید ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تخمینوں کے مطابق معاشی نقصانات 97 ارب سے 299 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں اور اندازاً 88 لاکھ افراد کے غربت میں دھکیلے جانے کا خطرہ ہے۔
مہنگائی سے کم آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، غیر محفوظ روزگار سے وابستہ کارکن روزگار سے محروم ہونے والوں میں عموماً سب سے آگے ہوتے ہیں، جبکہ شہروں کے حاشیے پر آباد وہ برادریاں بھی زیادہ متاثر ہوتی ہیں جنہیں پہلے ہی محدود اور ضرورت سے زیادہ بوجھ تلے دبے بنیادی شہری سہولیات تک کم رسائی حاصل ہے۔ غیر مساوی شہری ماحول میں عارضی رکاوٹیں بھی طویل مدتی نقصانات کا سبب بن سکتی ہیں۔
تاہم یہ صورتحال ناگزیر نہیں۔ شہر ایک مختلف مستقبل تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہتر حکمرانی والے شہر جدت، سرمایہ کاری اور مواقع کے مراکز ہوتے ہیں، جو زیادہ جامع اور مضبوط ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ہماری 2026 ایشیا پیسیفک ایس ڈی جی پارٹنرشپ رپورٹ میں ایسے عملی اقدامات اور تزویراتی ترجیحات کو اجاگر کیا گیا ہے جو رہائش، بنیادی سہولیات، روزگار اور ماحولیاتی انتظام میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مؤثر پالیسیوں و ضوابط، تزویراتی سرمایہ کاری اور عمل درآمد کی صلاحیت کے ذریعے مربوط اقدامات سے شہریوں کو بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر تھائی لینڈ کے 75 صوبوں میں جاری ایک ہاؤسنگ پروگرام میں حکومتی منصوبہ بندی کو کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والی کوششوں سے جوڑا گیا ہے، تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو محفوظ اراضی، بہتر رہائش، بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل ہوسکے۔ اس پروگرام میں مقامی آبادی کی بھرپور شمولیت نے اس کی موثریت اور پائیداری میں اضافہ کیا ہے۔
اسی طرح منگولیا میں کمیونٹیز اور مقامی حکام مل کر اولان باتور کے گیر علاقوں میں سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری منصوبہ بندی، گرین انفراسٹرکچر اور صاف توانائی کے حل کو یکجا کرنے والے اقدامات کا مقصد ماحولیاتی خطرات کم کرنا اور بالخصوص سیلاب اور فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہریوں کے رہن سہن کے حالات بہتر بنانا ہے۔
دریں اثنا، بھارت کے بعض شہروں میں غیر رسمی روزگار سے وابستہ خواتین کو قبل از وقت انتباہی نظام، حفاظتی آلات اور مائیکرو انشورنس کے ذریعے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ مائیکرو انشورنس کے تحت شدید گرمی کے دوران آمدنی میں ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے مالی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
کمزور اور محروم طبقات کی ضروریات اور تجربات کو شہری منصوبہ بندی کا محور بنا کر ایسے اقدامات پہلے ہی مثبت نتائج دے رہے ہیں۔ تاہم، خطے میں شہری عدم مساوات کے پیمانے اور پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے چند کامیاب منصوبے کافی نہیں۔
ٹیکنالوجی اور جرات مندانہ پالیسی فیصلے اس خلا کو پُر کرسکتے ہیں، جبکہ مختلف شعبوں اور حکومتی سطحوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری بھی اس مقصد میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مربوط ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز کے بہتر استعمال سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں مدد فراہم کی جاسکتی ہے، جبکہ جدید مالیاتی طریقہ کار اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے ذریعے محروم طبقات تک معاونت اور بنیادی سہولیات کی رسائی بڑھائی جاسکتی ہے۔
آج کیے جانے والے پالیسی اور سرمایہ کاری کے فیصلے صرف شہروں کے نقش و نگار اور بلند و بالا عمارتوں کا تعین نہیں کریں گے، بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ خطے کی بڑھتی ہوئی شہری آبادی محفوظ زندگی گزار، پیداواری انداز میں کام، بحرانوں کا مقابلہ اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے گی یا نہیں۔
عالمی تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہر زیادہ محفوظ، صاف ستھرے اور اپنے شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے ہوتے ہیں۔ کمزور طبقات کی ضروریات کو شہری منصوبہ بندی کا مرکز بنا کر شہر صرف اپنی شاندار بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو فراہم کیے جانے والے معیارِ زندگی سے بھی پہچانے جاسکتے ہیں۔
The writer is the United Nations Under-Secretary-General and Executive Secretary of the Economic and Social Commission for Asia and the Pacific
The writer is United Nations Assistant Secretary-General Assistant Administrator and Regional Director Regional Bureau for Asia and the Pacific (UNDP)

























Comments