BR100 Decreased By (-0.31%)
BR30 Decreased By (-0.1%)
KSE100 Decreased By (-0.25%)
KSE30 Decreased By (-0.36%)
BAFL 59.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 27.32 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 36.05 Increased By ▲ 0.05 (0.14%)
CNERGY 11.50 Increased By ▲ 0.25 (2.22%)
DFML 18.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 217.74 Decreased By ▼ -2.45 (-1.11%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.60 (-0.6%)
FCCL 57.40 Increased By ▲ 0.52 (0.91%)
FFL 16.52 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 24.12 Increased By ▲ 0.22 (0.92%)
HBL 324.00 Decreased By ▼ -1.60 (-0.49%)
HUBC 223.00 Decreased By ▼ -0.58 (-0.26%)
HUMNL 10.65 Decreased By ▼ -0.10 (-0.93%)
KEL 7.34 Decreased By ▼ -0.08 (-1.08%)
LOTCHEM 27.13 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 101.90 Decreased By ▼ -1.19 (-1.15%)
OGDC 318.50 Increased By ▲ 0.01 (0%)
PAEL 44.00 Decreased By ▼ -0.38 (-0.86%)
PIBTL 16.83 Decreased By ▼ -0.07 (-0.41%)
PIOC 274.00 Decreased By ▼ -1.86 (-0.67%)
PPL 222.20 Decreased By ▼ -0.28 (-0.13%)
PRL 63.88 Increased By ▲ 0.07 (0.11%)
SNGP 104.02 Decreased By ▼ -0.89 (-0.85%)
SSGC 27.01 Decreased By ▼ -0.24 (-0.88%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.16 (-1.82%)
TPLP 15.00 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
TRG 63.10 Increased By ▲ 0.73 (1.17%)
UNITY 11.53 Decreased By ▼ -0.37 (-3.11%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
اداریہ

ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی حوصلہ افزائی ناگزیر

حکومت کا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کرنے کا فیصلہ وسیع حمایت کا مستحق ہے۔ طویل...
شائع اپ ڈیٹ

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے حکومتی فیصلے کی بھرپور حمایت کی جانی چاہیے۔ پاکستان کے ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم شعبے کی نگرانی طویل عرصے سے وقفے وقفے سے ہونے والے معائنے، دستی رپورٹنگ اور ایسے انتظامی اقدامات پر انحصار کرتی رہی ہے جو اکثر اس وقت کیے جاتے ہیں جب مارکیٹ میں بگاڑ پہلے ہی پیدا ہوچکا ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایسا نگرانی کا نظام جو بندرگاہوں اور ریفائنریوں سے لے کر ذخیرہ گاہوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کا سراغ رکھے اس پورے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ ہر ماہ اربوں روپے مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات سے نمٹنے والے شعبے کو مزید بکھری ہوئی معلومات اور تاخیر سے کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے منظم نہیں کیا جاسکتا۔

سپلائی چین میں حقیقی وقت کی بنیاد پر نگرانی کی سہولت ریگولیٹرز کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت، اسٹاک میں غیر واضح نقل و حرکت اور رسد میں خلل جیسے مسائل کی نشاندہی کرسکیں، اس سے پہلے کہ یہ سنگین بحران کی شکل اختیار کریں۔ اگر ڈیجیٹل نگرانی کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تو اس سے نہ صرف مارکیٹ میں نظم و ضبط بہتر ہو سکتا ہے بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔

پاکستان اس معاملے میں تلخ تجربے سے سبق سیکھ چکا ہے۔ 2020 کے پیٹرولیم بحران کے بعد قائم کیے گئے آئل انکوائری کمیشن کی تحقیقات نے ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم مارکیٹ میں موجود گہری ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ کمزور نگرانی، ناکافی اعدادوشمار، اداروں کے درمیان ناقص رابطہ کاری اور ضابطہ جاتی غفلت نے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو فروغ پانے کا موقع دیا جس کے نتیجے میں بالآخر اس کے اثرات کا بوجھ صارفین کو اٹھانا پڑا۔ کمیشن کی متعدد سفارشات میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، شفافیت بہتر کرنے اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے پر زور دیا گیا تھا تاکہ ریگولیٹری نگرانی ردِعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات پر مبنی ہو۔

اس کے بعد سے پیش رفت بتدریج رہی ہے تاہم تازہ ترین اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم ان میں سے کچھ اسباق کو بالآخر پالیسی کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

تاہم ڈیجیٹلائزیشن کو منزل کے بجائے ایک معاون ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ ٹیکنالوجی بے ضابطگیوں کی نشاندہی تو کرسکتی ہے لیکن اچھی طرزِ حکمرانی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ کسی بھی نگرانی کے نظام کی افادیت کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ ریگولیٹر بروقت، مستقل مزاجی کے ساتھ اور بلاامتیاز کارروائی کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ ہے۔ اگر قوانین کا نفاذ امتیازی یا تاخیر کا شکار رہے تو اعداد و شمار کی کوئی خاص افادیت نہیں رہ جاتی۔

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ اقدام محض گاڑیوں کی ٹریکنگ تک محدود نظر نہیں آتا۔ ڈپو سے متعلق ٹیلی میٹری، ٹینکروں کی ٹریکنگ، ڈیجیٹل فروخت کی رپورٹنگ اور مرکزی نگرانی کے نظام کو یکجا کرنے سے پیٹرولیم سپلائی چین کی ابتدا سے انتہا تک مکمل صورتحال کا جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے نظام ترقی یافتہ توانائی کی منڈیوں میں عام ہیں اور رساؤ، غیر دستاویزی نقل و حرکت اور ذخیرے میں ہیر پھیر کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔

تاہم ڈیجیٹل نگرانی کو وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کے محض ایک ستون کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان نے ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم مارکیٹ کو آزاد بنانے کی سمت پہلے ہی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کی جانب پیش رفت بھی شامل ہے۔ اس اصلاحات کے نتیجے میں ملکی قیمتوں کو عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ ہم آہنگ کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہر پندرہ روز بعد قیمتوں میں ردوبدل سے پیدا ہونے والے اچانک اور بڑے قیمتوں کے جھٹکوں میں کمی آتی ہے۔

اس کا منطقی اگلا مرحلہ ایک مکمل طور پر ڈی ریگولیٹڈ پیٹرولیم مارکیٹ کی جانب پیش رفت ہے جہاں انتظامی مداخلت کے بجائے مسابقت بتدریج تجارتی نتائج کا تعین کرے۔

تاہم اس طرح کی لبرلائزیشن (آزادی) کے لیے کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ریگولیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ منڈیاں اسی وقت مؤثر انداز میں کام کرتی ہیں جب تمام فریق مساوی شرائط پر مسابقت کریں۔ لہٰذا مضبوط ڈیجیٹل نگرانی، ضابطوں کی پابندی یقینی بنا کر، ملی بھگت کی روک تھام اور مسابقت مخالف رویوں کی نشاندہی کے ذریعے ڈی ریگولیشن کے عمل کو مؤثر بنا سکتی ہے جبکہ کاروباری فیصلوں میں غیر ضروری مداخلت سے بھی گریز کیا جاسکتا ہے۔

اس شعبے میں دیگر کئی امور بھی ابھی حل طلب ہیں۔ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) جسے بنیادی طور پر ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی یکساں قیمتیں یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا کو اس کے انتظام اور استعمال کے حوالے سے اکثر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اس کے طریقۂ کار میں زیادہ شفافیت، جسے مصنوعات کی نقل و حرکت اور مال برداری کے اخراجات سے متعلق ڈیجیٹل اعداد و شمار کی مدد حاصل ہو، اس اعتماد کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوگی کہ یہ نظام صارفین کے مفادات کو پورا کرتا ہے، نہ کہ غیر ارادی طور پر مارکیٹ میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

اسی طرح پاکستان اب بھی اپنے سب سے مؤثر ذرائعِ نقل و حمل میں سے ایک کو پوری طرح بروئے کار نہیں لارہا۔ وائٹ آئل پائپ لائنیں سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی، محفوظ اور ماحول دوست ہیں، اس کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کا ایک بڑا حصہ اب بھی ٹینکروں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

جہاں پائپ لائن کی گنجائش موجود ہے، وہاں اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی سے لاجسٹکس کے اخراجات کم ہوں گے، سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ گھٹے گا، تحفظِ سلامتی میں بہتری آئے گی اور کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی۔ ڈیجیٹل نگرانی سے منسلک سپلائی چین پالیسی سازوں کو پورے نیٹ ورک میں نقل و حمل کے ذرائع کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ مؤثر اور جامع معلومات بھی فراہم کرے گی۔

اوگرا کی مجوزہ تنظیمِ نو بھی اتنی ہی اہم ہے۔ جدید ریگولیٹری نظام کے لیے روایتی انجینئرنگ اور تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل ضابطہ جاتی تعمیل، مارکیٹ کی نگرانی اور مسابقتی معاشیات میں خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ہی یہ طے کرے گا کہ ٹیکنالوجی میں کی جانے والی سرمایہ کاری بہتر ضابطہ کاری کا باعث بنتی ہے یا محض بہتر رپورٹنگ تک محدود رہتی ہے۔

پالیسی سازوں کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کو کسی الگ تھلگ اقدام کے بجائے پیٹرولیم شعبے کی جامع جدید کاری کا حصہ بنایا جائے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات نے خوش آئند رفتار پکڑی ہے جن میں ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے لے کر ڈاؤن اسٹریم مارکیٹ کو آزاد بنانے تک کے اقدامات شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط بنانا اس اصلاحاتی عمل کو مزید تقویت دے گا۔

صارفین کو بالآخر ریگولیٹری نظام کی جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔ ان کی اصل ترجیح بلا تعطل فراہمی، مناسب قیمتیں اور ایسی مسابقتی منڈیاں ہیں جو کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری سے پاک ہوں۔ اگر ڈیجیٹل نگرانی ان مقاصد کے حصول میں مدد دیتی ہے تو یہ محض تکنیکی بہتری سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ یہ ایک ایسے پیٹرولیم شعبے کی تعمیر کی جانب ایک اور اہم قدم ثابت ہوگا جو شفاف اور مؤثر ہو اور جہاں فیصلے انتظامی صوابدید کے بجائے بتدریج مارکیٹ کے اصولوں کے تحت کیے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف