BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.78%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 57.12 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 27.47 Decreased By ▼ -0.15 (-0.54%)
BOP 33.95 Decreased By ▼ -0.66 (-1.91%)
CNERGY 10.95 Increased By ▲ 0.19 (1.77%)
DFML 18.20 Decreased By ▼ -0.21 (-1.14%)
DGKC 213.33 Decreased By ▼ -0.54 (-0.25%)
FABL 100.96 Decreased By ▼ -0.51 (-0.5%)
FCCL 55.85 Decreased By ▼ -0.62 (-1.1%)
FFL 16.21 Decreased By ▼ -0.64 (-3.8%)
GGL 25.08 Decreased By ▼ -0.68 (-2.64%)
HBL 306.84 Decreased By ▼ -1.34 (-0.43%)
HUBC 223.01 Decreased By ▼ -1.38 (-0.62%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.24 (-2.24%)
KEL 7.39 Decreased By ▼ -0.08 (-1.07%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
MLCF 96.91 Increased By ▲ 0.35 (0.36%)
OGDC 321.00 Decreased By ▼ -2.45 (-0.76%)
PAEL 43.19 Decreased By ▼ -0.18 (-0.42%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.07 (-0.42%)
PIOC 287.58 Decreased By ▼ -8.31 (-2.81%)
PPL 222.84 Decreased By ▼ -1.83 (-0.81%)
PRL 59.15 Increased By ▲ 3.64 (6.56%)
SNGP 103.86 Decreased By ▼ -0.81 (-0.77%)
SSGC 25.96 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 12.76 Decreased By ▼ -0.42 (-3.19%)
TRG 60.39 Increased By ▲ 0.34 (0.57%)
UNITY 10.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.39%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.04 (-3.17%)
کاروبار اور معیشت

بڑے شہروں میں پراپرٹی کی طلب اور قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں

  • حالیہ ہفتوں کے دوران رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں اندازاً 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا، ماہرین
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے بڑے شہروں میں جائیداد کی طلب اور پراپرٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی وجہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی، مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی، حکومت کی کم مارک اَپ ہاؤسنگ فنانس اسکیم اور حالیہ عرصے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کی گئی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں اندازاً 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں جہاں خریداروں اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد دوبارہ ملکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔

رئیل اسٹیٹ ویلیوایشن کمپنی ٹرائی اسٹار انٹرنیشنل کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور حکومت کی جانب سے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسز میں کمی کے فیصلے نے مقامی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں دونوں کو ملکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث بہت سے سرمایہ کار اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو متنوع بنا رہے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے کی جانب منتقل کر رہے ہیں کیونکہ یہ شعبہ اب بھی پرکشش منافع اور نسبتاً کم لاگت میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔

ابراہیم امین کے مطابق ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)اور دیگر اعلیٰ درجے کے رہائشی علاقوں میں محدود سپلائی کے مقابلے میں طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث جائیدادوں کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو خطے کی کئی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ اور طویل مدتی سرمایہ کاری کا بہتر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

ابراہیم امین نے مزید کہا کہ حکومت کے فلیگ شپ ہاؤسنگ فنانس پروگرام نے بھی متوسط آمدنی والے خریداروں میں طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ رعایتی شرح پر مالی سہولت کی فراہمی کے ذریعے گھر کی ملکیت حاصل کرنا نسبتاً زیادہ آسان اور قابلِ استطاعت ہو گیا ہے۔

فنانس ایکٹ 2025-26 کے تحت وفاقی حکومت نے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کی بحالی کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔ ٹیکس فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیاجبکہ جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس 5.5 فیصد سے گھٹا کر 2.75 فیصد کر دیا گیا۔

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ معاذ لیاقت نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران رہائشی پلاٹس، مکانات اور اپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ کمرشل جائیدادوں کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر کراچی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں طلب میں غیر معمولی اضافے اور نئے رہائشی منصوبوں کی محدود دستیابی کے باعث تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول خریدار اب نئے لانچ ہونے والے رہائشی منصوبوں یا پلاٹس میں سرمایہ کاری کے بجائے مکمل تعمیر شدہ مکانات اور رہائشی یونٹس خریدنے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

لاہور اور اسلام آباد میں سرمایہ کار بڑی ہاؤسنگ اسکیموں اور بلند و بالا رہائشی منصوبوں میں جائیداد خریدنے میں بڑھ چڑھ کر دلچسپی لے رہے ہیں۔ اسی دوران پہلی بار گھر خریدنے والے بہت سے افراد بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بینکوں کے ذریعے مالی سہولت حاصل کر کے ان شہروں کے مضافاتی علاقوں میں گھروں کی خریداری کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت کمرشل اور مائیکرو فنانس بینکوں کو اب تک تقریباً ایک لاکھ سات ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 27 ہزار درخواستیں منظور، 13 ہزار مسترد کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی درخواستیں مختلف مراحل میں زیرِ جائزہ ہیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ رواں مالی سال اس پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ مستحق افراد کو سہولت فراہم کی جائے۔ اہل درخواست دہندگان ایک کروڑ روپے تک کی مالی معاونت حاصل کرکے گھر، اپارٹمنٹ یا پلاٹ خرید سکتے ہیں یا اپنی ملکیتی زمین پر گھر کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے حکومت پر زور دیا کہ ڈیولپرز اور بلڈرز کو بینکوں سے مالی سہولتوں تک بہتر رسائی اور سازگار پالیسیوں کے ذریعے مزید سہولت فراہم کی جائے تاکہ نئے رہائشی منصوبوں کا آغاز تیز کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہائشی منصوبوں کی فراہمی میں اضافہ پاکستان میں اندازاً ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور تعمیرات سے وابستہ دیگر صنعتوں کی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

Comments

200 حروف