BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.74 Decreased By ▼ -0.46 (-0.82%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.33 (1.23%)
BOP 32.75 Decreased By ▼ -0.23 (-0.7%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.90 Increased By ▲ 0.18 (1.02%)
DGKC 196.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.34%)
FABL 98.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.09 Increased By ▲ 0.84 (1.64%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.32 (1.98%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 292.40 Decreased By ▼ -3.09 (-1.05%)
HUBC 214.25 Increased By ▲ 0.07 (0.03%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.18 Increased By ▲ 0.12 (1.7%)
LOTCHEM 26.85 Decreased By ▼ -2.27 (-7.8%)
MLCF 88.75 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
OGDC 310.37 Decreased By ▼ -1.58 (-0.51%)
PAEL 40.95 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 15.94 Decreased By ▼ -0.02 (-0.13%)
PIOC 284.70 Increased By ▲ 1.86 (0.66%)
PPL 212.00 Decreased By ▼ -0.66 (-0.31%)
PRL 53.40 Increased By ▲ 0.86 (1.64%)
SNGP 98.70 Decreased By ▼ -0.66 (-0.66%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.36 Increased By ▲ 0.04 (0.48%)
TPLP 13.00 Decreased By ▼ -0.22 (-1.66%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.02 (1.64%)
لائف اسٹائل

16 ہزار کلومیٹر کا تنہا سفر، پاکستانی پرچم کے ساتھ امریکی چکر مکمل کرنے کا اعزاز

  • جب آپ اپنے ملک کا پرچم ساتھ لیے سفر کرتے ہیں تو آپ صرف اپنی نہیں، اپنے وطن کی بھی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

”کیا آپ واقعی پاکستان سے بائیک چلاتے ہوئے یہاں تک آئے ہیں؟“ اس شخص نے شانِ علی کی رائیڈنگ جیکٹ پر سلے پاکستانی پرچم کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔

یہ سوال بے جا نہیں تھا۔ اگرچہ علی کینیڈا سے امریکا میں داخل ہوئے تھے، لیکن ان کے پاکستانی پاسپورٹ اور جیکٹ پر لگے پاکستانی پرچم کو دیکھ کر اکثر لوگ یہی سمجھتے کہ وہ بائیک پر ہی پاکستان سے مختلف براعظموں کا سفر طے کرکے امریکا پہنچے ہیں۔

شانِ علی نے خود پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ کینیڈا سے آغاز کرتے ہوئے بائیک پر امریکا کا مکمل سولو لوپ (دائرہ نما سفر) مکمل کریں، اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے واحد پاکستانی بن گئے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے اس مہم جو کے لیے یہ سفر محض امریکا میں ہزاروں کلومیٹر بائیک چلانے کا نام نہیں تھا، بلکہ اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو آزمانے اور غیر یقینی حالات کا براہِ راست سامنا کرنے کا ایک منفرد تجربہ بھی تھا۔

33 روزہ یہ مہم کئی ماہ کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ سفر کے آغاز کے لیے علی نے سوزوکی ڈی آر 650 کا انتخاب کیا۔

انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”جب آپ اکیلے سفر کر رہے ہوں تو بائیک کے گرنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر دشوار گزار راستوں پر۔ ایسے میں سوزوکی ڈی آر 650 جیسی نسبتاً ہلکی بائیک، جسے آپ خود اٹھا سکیں، ایک بہت بڑا فائدہ ثابت ہوتی ہے۔“

سفر کے آغاز ہی سے شانِ علی جانتے تھے کہ انہیں ہر مرحلے پر حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ موسم کی بدلتی صورتِ حال، سڑکوں کی کیفیت، روزانہ طے ہونے والا فاصلہ، کیمپنگ کے مواقع اور سب سے بڑھ کر پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سفر—یہ تمام عوامل ان کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ تھے۔

انہوں نے کہا، ”تقریباً ہر شخص نے مجھے مشورہ دیا کہ ایسے غیر یقینی حالات میں، خاص طور پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے اکیلے امریکا کا سفر نہ کروں۔“

تاہم علی نے اس خوف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکا کے وسیع و عریض مناظر، کھلے میدانوں، پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بل کھاتی شاہراہوں پر سفر کے دوران جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کے بیشتر خدشات بے بنیاد تھے۔

16 ہزار کلومیٹر کے اس طویل سفر کے دوران شانِ علی کی ملاقات ایسے بے شمار لوگوں سے ہوئی جنہوں نے نہ صرف ان کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ پاکستان کے بارے میں سوالات کیے اور اپنی مقامی برادریوں کی دلچسپ کہانیاں بھی سنائیں۔

اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے، تاہم علی کا کہنا ہے کہ سیاست نے ان کے ذاتی روابط پر شاذ و نادر ہی اثر ڈالا۔ ان کے مطابق زیادہ تر امریکی صرف پاکستان کے بارے میں جاننے کے خواہش مند تھے۔

انہوں نے کہا، “جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے بہت سے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی پاکستانی سے مل رہے ہیں۔

وہ نہایت خوش اخلاق، مہمان نواز اور میرے ملک کے بارے میں جاننے میں حقیقی دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسری جانب میں بھی ان کی زندگی، ثقافت اور مقامی برادریوں کے بارے میں جاننے کے لیے اتنا ہی پرجوش تھا۔

یوں یہ سفر ایک خوبصورت ثقافتی تبادلے میں بدل گیا، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مثبت تاثر چھوڑنے کی خواہش نمایاں تھی۔

شانِ علی کا یہ سفر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں موٹر سائیکل پر سیاحت کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ابرار حسن اور زینت عرفان جیسے بائیک سواروں اور ٹریول کریئیٹرز نے موٹر سائیکل کے ذریعے طویل سفروں کو نمایاں مقام دلایا ہے۔

زینت عرفان، جنہیں ”موٹر سائیکل گرل“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، محض 20 برس کی عمر میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا تنہا موٹر سائیکل سفر مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں۔

تاہم امریکا بھر کا یہ سولو سفر شانِ علی کے لیے جلد ہی عزم، استقامت اور برداشت کا کڑا امتحان ثابت ہوا۔ سب سے مشکل مرحلہ ییلو اسٹون نیشنل پارک میں پیش آیا، جہاں بارش اچانک برفانی طوفان میں بدل گئی اور انہیں جولائی کے مہینے میں برفباری کے دوران موٹر سائیکل چلانا پڑی۔

علی نے بتایا، ”اس رات میں مکمل بھیگے ہوئے خیمے میں سویا۔ اگلی صبح بارش ہی میں اپنا سامان سمیٹا اور یخ بستہ سردی کے باعث نیلی پڑ جانے والی انگلیوں کے ساتھ دوبارہ سفر پر نکل کھڑا ہوا۔“

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ لمحات تھے جو ان کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہیں گے۔

ایک بالکل مختلف تجربے کا ذکر کرتے ہوئے علی نے بتایا کہ امریکا کی ریاست ایریزونا میں انہیں کئی گھنٹوں تک تپتے سورج اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہوئے بائیک چلانی پڑی۔

علی نے بتایا، “امریکا کے جنوبی صحرائی علاقے انتہائی جھلسا دینے والی گرمی سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر مجھے ایریزونا کے تپتے سورج تلے تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کئی گھنٹوں تک مسلسل بائیک چلانا پڑی۔

میں پسینے میں شرابور تھا، بار بار پانی پی رہا تھا اور محفوظ انداز میں سفر جاری رکھنے کے لیے پوری طرح ذہنی طور پر یکسو تھا۔

یہ پوری مہم کے دوران میرے لیے جسمانی لحاظ سے سب سے کڑا امتحان تھا۔“

علی نے بتایا کہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وہ ہمت ہار کر سفر ادھورا چھوڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔

اس مہم کا سب سے خوفناک لمحہ خراب موسم نہیں بلکہ ایریزونا کے صحرا میں مانیومنٹ ویلی کے قریب پیش آنے والا ایک حادثہ تھا۔ زمین پر گرنے کے بعد ان کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ ان کا سفر یہیں ختم ہو گیا ہے۔

”بس، اب سفر ختم ہو گیا۔“

تاہم خود کو اور موٹر سائیکل کو چیک کرنے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا، ”میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اس مہم کو اسی انداز میں مکمل کروں گا جس طرح اس کا خواب دیکھا تھا، اور میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔“

تمام مشکلات کے باوجود علی کے مطابق کیلیفورنیا کی ہائی وے ون اس پوری مہم کی سب سے یادگار منزل ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا، ”ہر موڑ پر بحرالکاہل کا ایک نیا دلکش منظر سامنے آ جاتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی خوبصورت تصویری پوسٹ کارڈ کے اندر سفر کر رہا ہوں۔“

علی نے کہا کہ پورے سفر کے دوران انہیں اس بات کا بھرپور احساس رہا کہ وہ جہاں بھی جا رہے ہیں، پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کی جیکٹ پر لگا پاکستانی پرچم اکثر ثقافت، سیاست اور روزمرہ زندگی سے متعلق دلچسپ گفتگو کا آغاز بن جاتا تھا۔

انہوں نے کہا، ”جب آپ اپنے ملک کا پرچم ساتھ لیے پھرتے ہیں تو آپ اپنے ہر عمل کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہو جاتے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے آپ ہی ان کے ملک میں ملنے والے پہلے پاکستانی ہوتے ہیں۔“

اپنے اس منفرد سفر پر نظر ڈالتے ہوئے علی نے کہا کہ اگر انہیں کچھ تبدیل کرنے کا موقع ملتا تو وہ صرف ایک چیز بدلتے۔

انہوں نے کہا، ”میں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بجائے کچھ مقامات پر زیادہ وقت گزارتا۔ امریکا بے حد وسیع اور حیرت انگیز طور پر متنوع ملک ہے۔ چند سو میل کا سفر طے کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نئے ملک میں داخل ہو گئے ہوں۔ امریکا کے تمام رنگوں اور تجربات کو ایک ہی زندگی میں سمیٹنا ممکن نہیں۔“

علی کا ماننا ہے کہ مثالی حالات کا انتظار ہی اکثر کسی بھی سفر کے آغاز میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

دنیا کی سیر اور نئی منزلیں سر کرنے کا خواب دیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام نہایت سادہ مگر حوصلہ افزا ہے: اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار نہ ہوں۔

انہوں نے کہا، ”اپنے قدم رکتے نہ دیں، آگے بڑھتے رہیں، چاہے آپ کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ درست موقع کب مل جائے، لیکن جب وہ موقع آئے تو خود کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رکھیں۔“

Comments

200 حروف