میڈرڈ اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کی فاتحانہ واپسی کا منتظر
- اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کی واپسی پر میڈرڈ میں بڑے جشن کی تیاریاں عروج پر
ورلڈ کپ میں دوسری بار چیمپئن بننے والی ہسپانوی ٹیم کی وطن واپسی پر پیر کو میڈرڈ میں تقریباً 10 لاکھ پُرجوش شائقین اپنے ہیروز کا استقبال کریں گے۔
اتوار کو نیوجرسی میں کھیلے گئے فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو اضافی وقت میں فیران ٹوریس کے واحد گول کی بدولت 1-0 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد فٹبال کے دیوانے ملک میں قومی فخر اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسپین نے اس سے قبل اپنا واحد ورلڈ کپ 2010 میں جیتا تھا۔
لوئس ڈی لا فوئنٹے کی زیرِ قیادت ہسپانوی ٹیم کے اصل شیڈول کے مطابق 12:50 بجے (1050 جی ایم ٹی) میڈرڈ پہنچنا تھا، تاہم اب ان کی آمد ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے متوقع ہے۔
ہسپانوی روزنامے مارکا کے مطابق اسپین کی ٹیم شاندار کارکردگی اور ”مکمل برتری“ کے ساتھ ”بے بس ارجنٹائن“ کو شکست دے کر سنہری ورلڈ کپ ٹرافی اپنے ساتھ وطن واپس لا رہی ہے۔
آج کے بہت سے نوجوان شائقین اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب آندرس انیئستا نے 2010 کے ورلڈ کپ فائنل میں نیدرلینڈز کے خلاف اضافی وقت میں فیصلہ کن گول کر کے اسپین کو جنوبی افریقا میں پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بنایا تھا۔
پیر کی صبح میڈرڈ کی مرکزی شاہراہ کاستیانا گزشتہ رات کی جشن کی محفل کے آثار پیش کر رہی تھی، جہاں سڑک پر جگہ جگہ کچرا، بیئر کے خالی کین اور ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے ہوئے تھے۔
چند آخری رہ جانے والے شائقین میں سے کچھ فٹ پاتھوں اور بینچوں پر مسکراتے ہوئے سو رہے تھے، جبکہ دوسرے لڑکھڑاتے ہوئے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ دوسری جانب صفائی کا عملہ علی الصبح ہی سڑکوں کی صفائی میں مصروف تھا تاکہ رات کی تقریبات کے لیے راستہ تیار کیا جا سکے۔
میڈرڈ کے میئر خوسے لوئس مارٹینیز-المیڈا نے آر این ای ریڈیو سے گفتگو میں کہا، ”میں زیادہ نہیں سو سکا، ایک تو جشن تھا اور پھر میچ کا دباؤ بھی، اس لیے میرے خیال میں ہم سب کے لیے نیند آنا کچھ مشکل تھا۔“
میئر کے مطابق ٹیم کی میڈرڈ آمد کے بعد بادشاہ فیلیپ ششم زرزویلا محل میں کھلاڑیوں کا استقبال کریں گے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز سرکاری رہائش گاہ لا مونکلوا میں ٹیم سے ملاقات کریں گے یا نہیں، کیونکہ انہیں اچانک الجزائر کا دورہ کرنا پڑا۔
اسپین کی ورلڈ کپ فاتح ٹیم کھلی چھت والی بس میں فتح کی پریڈ کرے گی، جو مونکلوا سے شروع ہو کر سیبیلس اسکوائر تک جائے گی۔ یہ بات میڈرڈ میں مرکزی حکومت کے نمائندے فرانسسکو مارٹن نے ہسپانوی سرکاری ٹیلی وژن کو بتائی۔
بعد ازاں سیبیلس اسکوائر پر کھلاڑیوں کی شرکت سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جہاں ہسپانوی قومی ٹیم اور اس کے شائقین روایتی طور پر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں۔
پریڈ کے راستے پر تقریباً 10 لاکھ افراد کی موجودگی متوقع ہے، جبکہ ہجوم کو سنبھالنے کے لیے اضافی سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ انتظامات کیے گئے ہیں۔
فرانسسکو مارٹن کے مطابق تقریب کی سکیورٹی کے لیے 2,050 پولیس اہلکار اور 400 سول گارڈ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
کئی شائقین، جنہوں نے گزشتہ رات بمشکل چند گھنٹے ہی نیند کی، آج دوبارہ جشن منانے کے لیے تیار ہیں۔ انہی میں 32 سالہ مالیاتی شعبے سے وابستہ برونو گونزالیز ڈیل یرو بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، ”کسی نہ کسی انداز میں جشن تو منانا ہی ہوگا، کیونکہ یہ موقع صرف ہر چار سال بعد آتا ہے اور اسپین نے بھی تقریباً سولہ برس بعد ورلڈ کپ جیتا ہے، اس لیے یہ کامیابی بھرپور جشن کی مستحق ہے۔“
اسپین کی خواتین کی ٹیم بھی 2023 میں ورلڈ کپ جیت چکی ہے، جس کے بعد تاریخ میں پہلی بار کسی ایک ملک کے پاس مردوں اور خواتین، دونوں کے عالمی کپ ایک ہی وقت میں موجود ہیں۔
اب 2030 میں اسپین اپنے ہی میدانوں پر عالمی اعزاز کا دفاع کرے گا، جب وہ پرتگال اور مراکش کے ساتھ مل کر ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔























Comments