BR100 Increased By (1.75%)
BR30 Increased By (1.81%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.61%)
BAFL 57.85 Increased By ▲ 0.82 (1.44%)
BIPL 27.33 Increased By ▲ 0.52 (1.94%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.47 (1.39%)
CNERGY 9.66 Increased By ▲ 0.09 (0.94%)
DFML 18.67 Increased By ▲ 0.34 (1.85%)
DGKC 213.50 Increased By ▲ 6.70 (3.24%)
FABL 100.67 Increased By ▲ 1.70 (1.72%)
FCCL 54.22 Increased By ▲ 2.34 (4.51%)
FFL 16.84 Increased By ▲ 0.15 (0.9%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.52 (2.21%)
HBL 308.81 Increased By ▲ 5.49 (1.81%)
HUBC 221.81 Increased By ▲ 4.29 (1.97%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 7.60 Increased By ▲ 0.17 (2.29%)
LOTCHEM 30.35 Decreased By ▼ -0.23 (-0.75%)
MLCF 98.16 Increased By ▲ 2.49 (2.6%)
OGDC 323.36 Increased By ▲ 2.37 (0.74%)
PAEL 42.29 Increased By ▲ 0.91 (2.2%)
PIBTL 16.88 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
PIOC 285.00 Increased By ▲ 22.15 (8.43%)
PPL 224.73 Increased By ▲ 0.53 (0.24%)
PRL 41.50 Increased By ▲ 0.10 (0.24%)
SNGP 110.25 Increased By ▲ 6.12 (5.88%)
SSGC 29.40 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
TELE 9.00 Increased By ▲ 0.31 (3.57%)
TPLP 12.77 Increased By ▲ 0.64 (5.28%)
TRG 60.45 Increased By ▲ 2.82 (4.89%)
UNITY 10.28 Increased By ▲ 0.57 (5.87%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.04 (3.23%)
دنیا

بھارت نے اپنے جہاز رانوں کو آبنائے ہرمز کے سفر سے گریز کی ہدایت کردی

  • آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی جہاز رانوں کی تعیناتی نہ کی جائے، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ
شائع اپ ڈیٹ

بھارت نے خطے میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے پیشِ نظر جہاز مالکان، جہازوں کا انتظام سنبھالنے والی کمپنیوں اور بھرتی کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی جہاز رانوں کو تعینات نہ کریں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں جہاز ران فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں سے 3 لاکھ سے زائد جہاز ران عالمی بحری بیڑوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بدھ کی شب جاری کردہ حکم نامے میں کہا ہے، ”آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری سفر پر روانہ ہونے والے جہازوں پر کسی بھی بھارتی جہاز ران کو تعینات نہ کیا جائے۔“

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران گزشتہ تین روز میں خطے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل بھی متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

بھارت کے بحری جہاز رانی کے نگران ادارے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث تنازع سے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے جہاز رانوں اور تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے، ”خلیج فارس میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ڈائریکٹوریٹ نے ضروری سمجھا ہے کہ خطے میں خدمات انجام دینے والے بھارتی جہاز رانوں کے مفادات اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید احتیاطی اقدامات اختیار کیے جائیں۔“

حکم نامے میں بحری جہازوں کے کپتانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھیں، جبکہ بحری جہاز رانی سے متعلق جاری ہونے والی حفاظتی وارننگز کی مسلسل نگرانی بھی یقینی بنائیں۔

نئی دہلی نے منگل کو پیش آنے والے ایک واقعے میں بھارتی جہاز ران کی ہلاکت پر ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری منوج یادو کے مطابق اس وقت بھی 15 ہزار سے زائد بھارتی جہاز ران آبنائے ہرمز کے مغربی جانب مختلف بحری جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔

منوج یادو نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم نئے بحری عملے کو ان علاقوں میں بھیجنے سے تو روک سکتے ہیں، لیکن ان ہزاروں جہاز رانوں کا کیا ہوگا جو اب بھی ان خطرناک سمندری علاقوں میں اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں؟ حکومت انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟“

Comments

200 حروف