ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ
- مقامی طلب میں سست روی کے باوجود ہائی ویلیو سوئچ گیئر مصنوعات، برآمدات میں توسیع اور لاگت میں کمی کی حکمتِ عملی ایمکو کی آئندہ نمو کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ای ایم سی او) پاکستان میں 1954 میں ایک جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے طور پر قائم کی گئی۔ ابتدا میں کمپنی کا نام الیکٹرک ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ تھا۔ 1983 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا اور اسی سال اس کا نام بدل کر ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار ہائی اور لو ٹینشن برقی پورسلین انسولیٹرز اور سوئچ گیئر کی تیاری اور فروخت ہے۔
حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ
30 جون 2025 تک ایمکو انڈسٹریز لمیٹڈ کے 3 کروڑ 50 لاکھ جاری شدہ حصص تھے، جو 761 شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں تھے۔
کمپنی میں سب سے بڑا حصہ مقامی عام سرمایہ کاروں کا ہے، جو 54.54 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ان کے اہلِ خانہ کی ملکیت 29.65 فیصد ہے۔
منسلک کمپنیوں، اداروں اور متعلقہ فریقوں کے پاس کمپنی کے 15 فیصد حصص ہیں، جبکہ باقی حصص دیگر اقسام کے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہیں۔
تاریخی مالیاتی کارکردگی (2021 تا 2025)
ایمکو کی فروخت میں 2024 تک مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم 2025 میں اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، کمپنی کا خالص منافع 2024 اور 2025 میں کم ہوا۔
کمپنی کے منافع کے مارجن میں 2021 کے دوران بہتری آئی، تاہم 2022 میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2023 میں کمپنی نے مجموعی منافع (گراس مارجن) اور آپریٹنگ مارجن میں بہتری دکھائی، جبکہ خالص منافع کا مارجن تقریباً گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔ اس کے بعد 2024 اور 2025 میں منافع کے مارجن دوبارہ سکڑ گئے۔
ان مالیاتی رجحانات کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔
ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، نظام میں موجود خامیوں کے خاتمے اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے کی کوششوں کے باعث 2021 میں ایمکو کی فروخت میں سال بہ سال 30 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2.077 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
کمپنی نے 2021 میں 4794 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ تھے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 96 فیصد تک پہنچ گیا۔
تاہم برآمدی فروخت میں 2021 کے دوران کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔
اسی عرصے میں فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.21 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آر ایل این جی کی بلند قیمتیں تھیں۔
تاہم فروخت کے حجم میں نمایاں اضافے اور بہتر قیمتوں کے باعث 2021 میں مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 38.94 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گراس مارجن گزشتہ سال کے 23.75 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 25.40 فیصد ہو گیا۔
2021 میں انتظامی اخراجات میں 10.97 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ افرادی قوت میں اضافہ تھا۔ ملازمین کی تعداد 2020 کے 455 سے بڑھ کر 2021 میں 462 ہو گئی، جس کے نتیجے میں تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔
اسی طرح مارکیٹنگ اخراجات میں 4.64 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ مال برداری کے بڑھتے اخراجات اور سال کے دوران فروخت کے فروغ کے لیے چلائی گئی بھرپور مہمات تھیں۔
دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف، ای سی ایل اور متروک ذخائر کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 394.46 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔
اس کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافے کے باعث دیگر آمدن میں 515.25 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 2021 میں سالانہ بنیاد پر 41 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ مارجن 2020 کے 16.30 فیصد سے بڑھ کر 17.70 فیصد ہو گیا۔
مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث 2021 میں مالیاتی اخراجات میں 10.12 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 71.27 فیصد بڑھ کر 201.93 ملین روپے تک پہنچ گیا۔
اس دوران خالص منافع کا مارجن 9.72 فیصد جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 5.77 روپے رہی، جبکہ 2020 میں ای پی ایس 3.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 7.38 فیصد تھا۔
سیاسی و معاشی بے یقینی، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ڈسکاؤنٹ ریٹ اور توانائی کی لاگت میں غیر معمولی اضافے جیسے متعدد چیلنجز کے باوجود 2022 میں بھی ایمکو کی ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔
کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 24.50 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2.586 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
2022 میں ایمکو نے 5288 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کا استعمال 106 فیصد تک پہنچ گیا۔ ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی، جس سے کمپنی کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سب اسٹیشن آلات کے شعبے میں نئی مصنوعات متعارف کرانے سے بھی فروخت کو تقویت ملی۔
2022 میں آر ایل این جی اور بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 27.42 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی نے شمسی توانائی پر مبنی قابلِ تجدید توانائی منصوبے میں بروقت سرمایہ کاری کر کے اس لاگت میں اضافے کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا۔
اس کے باوجود مجموعی منافع سالانہ بنیاد پر 15.90 فیصد بڑھا، البتہ گراس مارجن معمولی کمی کے ساتھ 23.63 فیصد رہ گیا۔
انتظامی اخراجات میں 17.58 فیصد اضافہ زیادہ تنخواہوں کے اخراجات کی وجہ سے ہوا، جبکہ مارکیٹنگ اخراجات میں 61.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مال برداری اور سفری اخراجات میں اضافہ، فروخت کے حجم میں وسعت اور سال بھر جاری رہنے والی اشتہاری و تشہیری مہمات تھیں۔
اسی دوران تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں کے باعث دیگر اخراجات میں بھی 42.92 فیصد اضافہ ہوا۔
ان عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع میں صرف 3.79 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن کم ہو کر 14.74 فیصد رہ گیا۔
سرمایہ جاتی منصوبوں کے لیے زیادہ قرض لینے اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 18 فیصد بڑھ گئے۔
اس کے باوجود خالص منافع 7.42 فیصد اضافے کے ساتھ 216.902 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ خالص منافع کا مارجن 8.4 فیصد اور فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.20 روپے رہی۔
2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 37 فیصد بڑھ کر 3.546 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
اسی سال کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت 5000 ٹن سے بڑھا کر 6500 ٹن انسولیٹرز سالانہ کر دی، جسے خصوصی طور پر برآمدی منڈی کے لیے مختص کیا گیا۔
تاہم درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداوار اور فروخت کا حجم محدود رہا۔ 2023 میں کمپنی نے 5032 ٹن انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.8 فیصد کم تھے، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 77.42 فیصد رہ گیا۔
اس کے باوجود فروخت میں اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں میں اضافے اور کمپنی کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ہائی وولٹیج سوئچ گیئر کی مضبوط فروخت کے باعث ممکن ہوا۔
کمپنی کی مؤثر لاگت پر قابو پانے کی حکمت عملی اور شمسی توانائی کے منصوبے کی بدولت فروختی لاگت میں صرف 30.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 57.78 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور گراس مارجن بڑھ کر 27.20 فیصد ہو گیا، جو زیرِ جائزہ مدت کی بلند ترین سطح تھی۔
آپریٹنگ اخراجات میں 29.38 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے باعث مال برداری کے بڑھتے اخراجات تھے۔ مہنگائی کے دباؤ نے تنخواہوں کے اخراجات بھی بڑھا دیے، حالانکہ ملازمین کی تعداد 2022 کے 448 سے کم ہو کر 2023 میں 429 رہ گئی تھی۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 75.22 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 18.84 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔
تاہم ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے اور بی ایم آر منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 140.10 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
2023 میں ایمکو کا گیئرنگ ریشو 2022 کے 23.81 فیصد سے بڑھ کر 35.75 فیصد ہو گیا۔ اس کے ساتھ ٹیکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے خالص منافع کی رفتار کو محدود کر دیا، جس کے نتیجے میں 2023 میں خالص منافع میں سالانہ بنیاد پر 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 292.92 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فی حصص آمدن (ای پی ایس) 8.37 روپے اور خالص منافع کا مارجن 8.26 فیصد رہا۔
2024 میں کمپنی کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 18.25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.192 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات قیمتوں میں اضافہ اور کمپنی کی ہائی وولٹیج سوئچ گیئر مصنوعات کو مارکیٹ میں ملنے والا حوصلہ افزا ردِعمل تھیں۔
کمپنی مقامی مارکیٹ میں کمزور طلب کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنی مصنوعات اور جغرافیائی منڈیوں میں تنوع لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
تاہم سال کے دوران پیداواری حجم میں 34.40 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3300 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جس کے باعث پیداواری صلاحیت کا استعمال کم ہو کر 50.77 فیصد تک محدود رہا۔
پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی ایک بڑی وجہ نئی مشینری اور آلات کی تنصیب تھی، جس سے کمپنی کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم یہ اقدام کمپنی کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ مستقبل میں سوئچ گیئر مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔
پیداوار میں کمی کی ایک اور وجہ نقدی کے بہاؤ کے مسائل تھے، کیونکہ کمپنی تیار شدہ مصنوعات کا ذخیرہ فروخت کرنے اور اپنی فروخت کا تناسب زیادہ منافع بخش سوئچ گیئر مصنوعات کی جانب منتقل کرنے میں مشکلات کا شکار رہی۔
بڑھتے ہوئے لاگتی دباؤ کے باعث گراس مارجن معمولی کم ہو کر 26.80 فیصد رہ گیا، اگرچہ مجموعی منافع مالیت کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 16.52 فیصد بڑھا۔
آپریٹنگ اخراجات میں 34.71 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں برآمدات میں اضافے کے باعث مال برداری کے زیادہ اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ایکسل لوڈ ضوابط کا نفاذ اور مجاز سرمایہ بڑھانے پر ایس ای سی پی کی یکمشت فیس شامل تھیں۔
اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 12.31 فیصد اضافہ ہوا، تاہم آپریٹنگ مارجن معمولی کم ہو کر 17.89 فیصد رہ گیا۔
دوسری جانب ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے، بی ایم آر منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے طویل مدتی قرضوں میں اضافے اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قلیل مدتی قرض لینے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 58.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
2024 میں ایمکو کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 25.24 فیصد کم ہو کر 218.998 ملین روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 6.26 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 5.22 فیصد رہا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح تھی۔
2025 میں کمپنی کی خالص فروخت میں 13.96 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 3.607 ارب روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے مالیاتی اخراجات میں سختی کے باعث انسولیٹرز کی طلب میں کمی تھی۔
اس کے نتیجے میں مقامی فروخت میں 21.82 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 3.713 ارب روپے تک محدود رہی۔
مقامی طلب میں کمی کے ازالے کے لیے کمپنی نے اپنی توجہ بالخصوص امریکی برآمدی منڈی پر مرکوز کی۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی نے ایمکو کے لیے امریکی منڈی میں رسائی کا ایک اہم موقع پیدا کیا، جس کے باعث کمپنی کی برآمدی فروخت 174 فیصد اضافے کے ساتھ 462.798 ملین روپے تک پہنچ گئی۔
2025 میں پیداواری حجم مزید 2.30 فیصد کم ہو کر 3224 ٹن انسولیٹرز رہ گیا، جبکہ پیداواری صلاحیت کا استعمال گھٹ کر 49.60 فیصد تک آ گیا۔
پیداواری صلاحیت کے کم استعمال کی وجہ کمپنی کی جانب سے ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز کے لیے سوئچ گیئر، اپریٹس انسولیٹرز اور برآمدی منڈی کے لیے نئی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔
فروختی لاگت میں صرف 2.68 فیصد کمی آئی، کیونکہ مقررہ اخراجات کی کم تقسیم اور سال کے اختتام پر تیار شدہ مصنوعات کے زیادہ ذخیرے نے لاگت کو بلند رکھا۔
اس کے نتیجے میں مجموعی منافع میں 44.78 فیصد کمی آئی اور گراس مارجن گھٹ کر 17.20 فیصد رہ گیا، جو 2019 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
انتظامی اخراجات میں 8.93 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مہنگائی کے باعث تنخواہوں کے بڑھتے اخراجات تھے، حالانکہ کمپنی نے ملازمین کی تعداد 2024 کے 463 سے کم کر کے 2025 میں 425 کر دی تھی۔
دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 13 فیصد کمی آئی، کیونکہ اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں کمی کی گئی اور سفری اخراجات بھی محدود رکھے گئے۔
2025 میں دیگر اخراجات میں 79.29 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو پی پی ایف اور ای سی ایل کے لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم رقوم مختص کی گئیں۔
مزید برآں، 2025 میں نہ تو زرِ مبادلہ کے نقصان کا اندراج ہوا اور نہ ہی کسی واجب الادا رقوم کو ختم کیا گیا۔ سپلائی چین میں بہتری آنے سے تاخیر سے ترسیل کے جرمانوں پر بھی قابو پا لیا گیا۔
دوسری جانب دیگر آمدن میں 65.65 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی جائیدادوں کی منصفانہ قدر میں اضافہ تھا، جبکہ برآمدی رعایت، زرِ مبادلہ سے منافع اور کرایے کی آمدن نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کے باوجود آپریٹنگ منافع میں 51 فیصد کمی آئی اور آپریٹنگ مارجن سکڑ کر 10.19 فیصد رہ گیا۔
مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 17.12 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کا خالص منافع پھر بھی 74.55 فیصد گھٹ کر صرف 55.74 ملین روپے رہ گیا۔
اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.59 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن 1.55 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
حالیہ مالیاتی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)
جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ایمکو کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 28.36 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 3.758 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
حکومت کی جانب سے بجلی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور مالیاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب کے نتیجے میں ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی کی مالی پوزیشن بہتر ہوئی، جس سے زیرِ جائزہ عرصے میں انسولیٹرز کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ حکومت کی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ نے بھی ایمکو کی مصنوعات کی طلب کو تقویت دی۔
کمپنی نے مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 2890 ٹن پورسلین انسولیٹرز تیار کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ تھے۔
کمپنی نے عالمی منڈی میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی، جس کے نتیجے میں برآمدی فروخت 53 فیصد اضافے کے ساتھ 527 ملین روپے تک پہنچ گئی۔
تاہم عالمی منڈی میں رسائی بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر سکی، جس کے باعث گراس مارجن مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں 17.25 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 18.85 فیصد تھا۔
انتظامی اخراجات میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا دباؤ تھا۔
دوسری جانب تقسیمی اخراجات میں 43.37 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ مختلف جغرافیائی منڈیوں میں کاروبار کے پھیلاؤ پر زیادہ لاگت آئی۔
اسی طرح ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ڈبلیو پی پی ایف کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 130.66 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔
دیگر آمدن میں 33.57 فیصد کمی آئی، جس کا غالب امکان مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی ہے۔
ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی کا آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 5.19 فیصد کم ہوا، جبکہ آپریٹنگ مارجن گھٹ کر 7.70 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 10.43 فیصد تھا۔
اگرچہ بقایا قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں 24.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے نتیجے میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 64.49 ملین روپے ہو گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 140.86 فیصد زیادہ ہے۔
اس عرصے میں فی حصص آمدن (ای پی ایس) 1.84 روپے اور خالص منافع کا مارجن 1.72 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ای پی ایس 0.77 روپے اور خالص منافع کا مارجن 0.91 فیصد تھا۔
مستقبل کا منظرنامہ
ہائی ویلیو سوئچ گیئر مصنوعات کی حوصلہ افزا فروخت اور برآمدی منڈیوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باعث آئندہ عرصے میں ایمکو کی فروخت میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
تاہم برآمدی منڈیوں میں سخت مسابقت کے باعث منافع کے مارجن پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود کمپنی لاگت کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں شمسی توانائی پر مبنی بجلی گھر کی تنصیب اور خام مال کی مقامی سطح پر دستیابی (لوکلائزیشن) شامل ہیں، جس سے آئندہ برسوں میں منافع بخش کارکردگی میں بہتری کی امید ہے۔
























Comments