BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.63 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 28.20 Increased By ▲ 0.19 (0.68%)
BOP 36.10 Increased By ▲ 0.14 (0.39%)
CNERGY 9.69 Increased By ▲ 0.29 (3.09%)
DFML 19.81 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
DGKC 224.49 Increased By ▲ 1.19 (0.53%)
FABL 101.63 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
FCCL 55.88 Increased By ▲ 0.41 (0.74%)
FFL 17.58 Increased By ▲ 0.10 (0.57%)
GGL 25.01 Increased By ▲ 0.20 (0.81%)
HBL 313.78 Increased By ▲ 4.89 (1.58%)
HUBC 227.05 Increased By ▲ 0.12 (0.05%)
HUMNL 11.16 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.16 (2.02%)
LOTCHEM 31.46 Increased By ▲ 1.03 (3.38%)
MLCF 104.24 Increased By ▲ 1.47 (1.43%)
OGDC 334.13 Increased By ▲ 0.58 (0.17%)
PAEL 45.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.09%)
PIBTL 17.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.28%)
PIOC 272.59 Increased By ▲ 0.75 (0.28%)
PPL 236.55 Increased By ▲ 0.93 (0.39%)
PRL 42.07 Increased By ▲ 0.22 (0.53%)
SNGP 112.40 Decreased By ▼ -1.83 (-1.6%)
SSGC 30.83 Decreased By ▼ -0.24 (-0.77%)
TELE 9.17 Increased By ▲ 0.17 (1.89%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
TRG 65.58 Increased By ▲ 0.41 (0.63%)
UNITY 10.26 Increased By ▲ 0.06 (0.59%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے لیے پن بجلی سے پیدا ہونے والی بجلی کا اوسط ٹیرف 55 فیصد (1.70 روپے فی یونٹ) بڑھا کر 4.81 روپے فی یونٹ مقرر کردیا ہے جو مالی سال 2023-24 میں 3.11 روپے فی یونٹ تھا۔

نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سماعت میں شریک فریقین نے مالی سال 2025-26 کے لیے 11.56 روپے فی یونٹ کے بظاہر زیادہ ٹیرف پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ شرح موجودہ مؤثر اوسط ٹیرف 3.11 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، نہ کہ 6.11 روپے فی یونٹ، جیسا کہ بعض تحریری گزارشات میں ذکر کیا گیا ہے۔

6.11 روپے فی یونٹ سے 3.11 روپے فی یونٹ تک کمی اس لیے ہوئی کہ اس میں ہائیڈل لیویز اور گزشتہ برسوں کے ریونیو گیپ کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ یہ اخراجات واپڈا کے پن بجلی کے آپریشنز کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ لیویز محض پاس تھرو چارجز ہیں، یعنی حکومت کی جانب سے وصول کی جاتی ہیں اور بغیر کسی منافع یا تبدیلی کے متعلقہ ادارے کو منتقل کر دی جاتی ہیں۔

اس وضاحت سے قبل نیپرا نے نشاندہی کی کہ وہ واپڈا کے زیرِ انتظام 21 فعال پن بجلی گھروں میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ پلانٹ کی بنیاد پر ٹیک یا پے نظام کے تحت ٹیرف مقرر کرتا ہے۔ ہر پاور پلانٹ کے ٹیرف میں متغیر اخراجات (ویری ایبل چارجز)، مقررہ آپریشن و مرمت (او اینڈ ایم) اخراجات اور متعلقہ پلانٹ کے لیے مخصوص ہائیڈل لیویز کو الگ الگ شامل کیا جاتا ہے۔

واپڈا اپنے تمام پن بجلی گھروں کے لیے سی پی پی اے-جی سے کوئی ایک مشترکہ یا مجموعی ٹیرف وصول نہیں کرتا بلکہ 21 میں سے ہر پن بجلی گھر کے لیے نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ الگ ٹیرف کے مطابق بل وصول کیا جاتا ہے۔

نیپرا کے مطابق یہ موازنہ صرف وضاحتی مقصد کے لیے تمام پن بجلی گھروں کے اوسط ٹیرف کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور موجودہ ریگولیٹری نظام کے تحت یہ نہ تو وہ حقیقی ٹیرف ہے جو وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ایسا ٹیرف ہے جو قابلِ وصول ہو۔

نیپرا نے مزید کہا کہ پیشگی زیرِ غور نکات پر کیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر موازنے کی غرض سے منظور کردہ اوسط ٹیرف 10.76 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

نیپرا نے واضح کیا ہے کہ 10.76 روپے فی یونٹ کی یہ شرح واپڈا کی حقیقی اور مستقل آمدنی کی ضرورت کی عکاس نہیں ہے۔ اس میں سے 4.24 روپے فی یونٹ صرف ایک مرتبہ وصول کیے جانے والے ریونیو گیپ (جس میں ہائیڈل لیویز کے بقایاجات بھی شامل ہیں) سے متعلق ہے۔ یہ رقم اس عرصے کے دوران پیدا ہونے والے جمع شدہ مالی خسارے کی نمائندگی کرتی ہے جب نئے ٹیرف کے تعین تک سابقہ ٹیرف برقرار رہا جس کے باعث واپڈا کی منظور شدہ آمدنی کی ضرورت اور سی پی پی اے-جی سے موصول ہونے والی حقیقی ادائیگیوں کے درمیان فرق پیدا ہو گیا تھا۔

مزید 1.71 روپے فی یونٹ باقاعدہ ہائیڈل لیویز پر مشتمل ہیں جبکہ بقیہ صرف 4.81 روپے فی یونٹ ہی واپڈا کی حقیقی اور مستقل آمدنی کی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔

نیپرا کے مطابق، اگر مالی سال 2023-24 میں نافذ 3.11 روپے فی یونٹ کے اوسط ٹیرف کا موازنہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجوزہ 4.81 روپے فی یونٹ کے مستقل ٹیرف سے کیا جائے تو تین سال کے دوران یہ اضافہ تقریباً 55 فیصد بنتا ہے۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مرکب سالانہ شرح نمو کے حساب سے تقریباً 16 فیصد سالانہ بنتا ہے جسے ادارہ اس عرصے میں لاگت میں ہونے والے اضافے کے پیشِ نظر غیر معمولی یا غیر مناسب نہیں سمجھتا۔

ٹیک یا پے نظام سے متعلق معاملے پر نیپرا نے کہا کہ وہ اس مسئلے کا پہلے ہی تفصیلی جائزہ لے چکا ہے اور موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف