BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.64 Decreased By ▼ -0.40 (-0.64%)
BIPL 28.47 Increased By ▲ 0.44 (1.57%)
BOP 36.85 Increased By ▲ 0.08 (0.22%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.59 Increased By ▲ 0.66 (3.31%)
DGKC 226.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
FABL 101.56 Increased By ▲ 1.38 (1.38%)
FCCL 58.66 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 26.62 Increased By ▲ 1.42 (5.63%)
HBL 305.91 Increased By ▲ 0.27 (0.09%)
HUBC 233.61 Increased By ▲ 1.06 (0.46%)
HUMNL 11.28 Decreased By ▼ -0.14 (-1.23%)
KEL 8.24 Decreased By ▼ -0.05 (-0.6%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.91 (3.2%)
MLCF 107.17 Decreased By ▼ -1.12 (-1.03%)
OGDC 345.43 Increased By ▲ 6.33 (1.87%)
PAEL 45.39 Increased By ▲ 0.04 (0.09%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.56 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
PPL 248.71 Increased By ▲ 2.76 (1.12%)
PRL 36.29 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
SNGP 118.77 Increased By ▲ 0.07 (0.06%)
SSGC 31.37 Decreased By ▼ -0.30 (-0.95%)
TELE 9.21 Decreased By ▼ -0.06 (-0.65%)
TPLP 11.64 Increased By ▲ 0.41 (3.65%)
TRG 67.62 Decreased By ▼ -0.22 (-0.32%)
UNITY 10.93 Decreased By ▼ -0.08 (-0.73%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

پاکستان کا توانائی بحران وسائل کی نہیں، پالیسیوں کی ناکامی ہے

  • پاکستان میں مہنگے ایندھن کے باعث صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ آبی بجلی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے
  • تھر کے کوئلے کی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، نئے گیس ذخائر پیداوار میں شامل نہیں کیے گئے اور شیل گیس کے امکانات کو بھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا۔
شائع اپ ڈیٹ

ٹیکنالوجی کی بنیاد پر استوار موجودہ دنیا میں توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بیشتر ممالک نے سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کر رکھے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ تیل اور گیس کی ترسیل میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی، تاہم اب اس اہم آبی گزرگاہ سے ایندھن کی فراہمی معمول پر آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

1978 میں ایک نوجوان انجینئر کی حیثیت سے مجھے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع سوئی گیس فیلڈز کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ قدرتی گیس کا یہ وسیع ذخیرہ قدرت کا انمول تحفہ تھا۔ 1952 میں دریافت ہونے والے اس ذخیرے کا حجم تقریباً 12 ٹریلین کیوبک فٹ (ٹی سی ایف) تھا اور اسے اپنے دور کی بڑی دریافتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو حکومتِ پاکستان اور ایک برطانوی ادارے کا مشترکہ منصوبہ تھا، یہاں سے گیس نکال رہی تھی، جبکہ ملک بھر میں گیس کی ترسیل اور تقسیم کے لیے دو سرکاری کمپنیاں قائم کی گئیں۔

سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے سب سے پہلے اس صاف ایندھن کو ملک کے تجارتی مرکز کراچی تک پہنچایا، جبکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے فیصل آباد کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کیا، جس کے بعد لاہور تک فراہمی کا دائرہ بڑھایا گیا۔ آج پاکستان زیرِ زمین گیس پائپ لائنوں کے ایک وسیع جال کا حامل ہے۔ اس وقت یہ ایک انتہائی متاثر کن منصوبہ تھا۔ میری دلچسپی بنیادی طور پر زیرِ زمین بچھائی گئی اسٹیل پائپ لائنوں کو زنگ سے محفوظ رکھنے کے نظام سے متعلق تھی۔ ہم سوئی سے رحیم یار خان تک سڑک کے راستے سفر کرتے ہوئے پائپ ٹو سوائل پوٹینشل (پی ایس پی) کا جائزہ لیتے رہے۔ اس وقت امید زندہ تھی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا تھا۔

پاکستان تقریباً 2002 تک توانائی کے اعتبار سے خود کفیل رہا، لیکن اس کے بعد قلت کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے۔ قدرت کے اس تحفے کو بدانتظامی اور بے جا استعمال کے باعث وقت سے پہلے ہی بڑی حد تک استعمال کر لیا گیا۔ نئے گیس ذخائر کی تلاش یا متبادل ایندھن کی ترقی پر سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ کوئلے کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، حالانکہ مغربی دنیا کا صنعتی انقلاب بڑی حد تک اسی ایندھن کی مرہونِ منت تھا۔

اسی پس منظر میں پلاننگ کمیشن نے ایک انرجی فارسائٹ کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی ایم بی احمد کر رہے تھے، جو اس وقت ایس ایس جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے، اور دھاتوں اور معدنیات کے شعبے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر، مجھے توانائی کے ذریعے کے طور پر کوئلے کی ترقی سے متعلق ذمہ داری سونپی گئی۔

تھر میں موجود تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کوئلہ محض ڈیڑھ سو میٹر گہرائی میں موجود تھا، لیکن اس کے اوپر پانی کی تہہ موجود ہونے کے باعث اس کی کان کنی ایک مشکل مرحلہ تھی۔ اس وقت دنیا کوئلے سے دور جا رہی تھی، مگر توانائی میں خود انحصاری کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا گیا۔

متعدد رکاوٹوں کے باوجود بالآخر تھر کا کوئلہ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ آج اس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ کوئلے کی کامیاب گیسفیکیشن بھی ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ ایک یوریا پلانٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے، جہاں گیسفیکیشن سے حاصل ہونے والی سنگیس (Syngas) کو کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔

مصنف کے مطابق، وسائل اور بے پناہ صلاحیت کے باوجود پاکستان کا توانائی بحران بنیادی طور پر ناقص پالیسی سازی، سمت کے فقدان اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چند برس قبل انہیں چین کے توانائی کے بڑے سرکاری ادارے شین ہوا کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں جدید کنٹرول روم اور مربوط نظام دیکھنے کو ملا۔ یہ ادارہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہاز، ریلوے اور کانوں سمیت مکمل انفرااسٹرکچر کا مالک ہے۔

امریکہ میں 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد صدر جمی کارٹر نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک دوبارہ ایندھن کے بحران کا شکار نہیں ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے محکمہ توانائی (ڈی او ای) قائم کیا گیا، جس نے تمام ممکنہ توانائی ذرائع پر تحقیق کا آغاز کیا۔ آج امریکہ نسبتاً سستے توانائی ذریعے کے طور پر شیل گیس استعمال کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے حال ہی میں اپنے کوئلے کے ذخائر کی گیسفیکیشن پر مبنی ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں مہنگے ایندھن کے باعث صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ آبی بجلی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے، تھر کے کوئلے کی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، نئے گیس ذخائر پیداوار میں شامل نہیں کیے گئے اور شیل گیس کے امکانات کو بھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا۔

مصنف کے مطابق، جس طرح 1952 میں سوئی گیس قدرت کا ایک عظیم تحفہ تھی، اسی طرح آج تھر کا کوئلہ پاکستان کے لیے ایک قیمتی نعمت ہے۔ اگر ان وسائل سے بھی درست منصوبہ بندی کے ذریعے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ ایک قومی ناکامی ہوگی۔ اسی تناظر میں انہیں معروف شاعر منیر نیازی کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے قوم پر طاری ”آسیب کے سائے“ کا ذکر کیا تھا۔ ان کے بقول، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، پاکستان کو سنجیدہ خود احتسابی اور درست پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

Comments

200 حروف