امریکی اعلانِ آزادی کے 250 برس، ٹرمپ نیشنل مال میں بڑا عوامی جلسہ کریں گے
- امریکہ بھر میں شہری یومِ آزادی کے موقع پر آتش بازی، پریڈ اور دیگر تقریبات میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز امریکہ کے اعلانِ آزادی کے 250 برس کی تقریبات کا اختتام واشنگٹن میں نیشنل مال پر ایک سیاسی جلسے سے کیا۔ کئی ہفتوں پر محیط ان تقریبات کو ناقدین نے بڑے پیمانے پر تقسیم پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔
امریکہ بھر میں شہری یومِ آزادی آتش بازی، پریڈوں اور دیگر تقریبات کے ذریعے منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فلاڈیلفیا، جہاں 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی کے اعلان پر دستخط کیے گئے تھے، میں مفت کپ کیکس تقسیم کیے گئے اور چھ گھنٹے پر مشتمل پاپ موسیقی کا کنسرٹ منعقد ہوا، جبکہ نیویارک میں دنیا بھر سے آنے والے بلند قامت بادبانی جہاز توجہ کا مرکز بنے۔
وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ خود ان تقریبات کا محور رہے۔
انہوں نے تاریخی یادگاروں کے درمیان اپنی شام کی تقریب کو ”اب تک کا سب سے شاندار ٹرمپ جلسہ“ قرار دیا، جس میں فوجی طیاروں کی فضائی پروازوں اور بڑے پیمانے پر آتش بازی کا بھی اہتمام کیا گیا۔
واشنگٹن میں ہر سال 4 جولائی کی تقریبات میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں، تاہم اس بار شرکا کو سخت حفاظتی انتظامات، ممکنہ گرج چمک کے طوفان اور 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتی گرمی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ماضی کے امریکی صدور عام طور پر ان تقریبات کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھتے تھے، تاہم ٹرمپ نے سرکاری یادگاری تقریب اور انتخابی طرز کی سیاست کے درمیان حد کو مزید دھندلا دیا۔
اعلانِ آزادی کے 250 برس کی تقریبات کے لیے 2016 میں قائم ایک غیر جانب دار ادارہ ٹرمپ انتظامیہ کے فریڈم 250 گروپ کے سامنے پس منظر میں چلا گیا، جس نے تقریباً ڈیڑھ میل طویل نیشنل مال کے بڑے حصے کو ”گریٹ امریکن اسٹیٹ فیئر“ کے لیے مختص کر دیا۔ اس میلے میں دیوہیکل جھولا (فیرس وہیل) سمیت مختلف تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ قدامت پسند تنظیموں اور دفاعی کمپنیوں کی نمائشیں بھی شامل تھیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام کئی ریاستوں نے ان تقریبات میں اپنے وفود بھیجنے سے انکار کر دیا، جبکہ متعدد فنکاروں نے سیاسی جانبداری کے خدشات کے باعث اپنی شرکت منسوخ کر دی۔ اگرچہ بعض مواقع پر تقریبات میں عوامی شرکت توقع سے کم رہی، تاہم 24 جون کو ٹرمپ کی افتتاحی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔
فریڈم 250 کے تحت منعقد ہونے والی دیگر سرگرمیوں میں قدامت پسند عیسائی مقررین کی شرکت سے مذہبی اجتماع، مختلف کھیلوں کے مقابلے، وائٹ ہاؤس کے احاطے میں ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے اور اگست میں واشنگٹن میں ہونے والی انڈی کار ریس بھی شامل ہیں۔
تنظیم نے ”فریڈم ٹرکس“ کی بھی سرپرستی کی، جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ ان میں امریکی تاریخ کو حد سے زیادہ مذہبی رنگ میں پیش کیا گیا اور غلامی اور نسلی ناانصافی جیسے اہم موضوعات کو نظر انداز کیا گیا۔
رائٹرز/اِپسوس کے ایک جائزے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت، جن میں تقریباً تین چوتھائی ڈیموکریٹس اور نصف ریپبلکن بھی شامل ہیں، کا خیال ہے کہ ملک کے اعلانِ آزادی کے 250 برس کی تقریبات ضرورت سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ان تقریبات سے قبل وفاقی دارالحکومت واشنگٹن کے بڑے حصے کو بھی نئے انداز میں سجانے اور سنوارنے کی کوشش کی، تاہم اس کے نتائج ملے جلے رہے۔
اگرچہ شہر کے متعدد فواروں اور مجسموں کی تزئین و آرائش کی گئی، لیکن لنکن میموریل کے سامنے واقع ریفلیکٹنگ پول کی ڈیڑھ کروڑ ڈالر لاگت سے ہونے والی تزئین و آرائش مختلف مسائل کا شکار رہی۔ صورتِ حال یہ تھی کہ ایک طرف سکیورٹی کیمروں اور فوجیوں کی کڑی نگرانی موجود تھی، تو دوسری جانب تالاب کی اکھڑتی ہوئی سطح اور کائی آلود پانی انتظامی دعوؤں پر سوالیہ نشان بنے رہے۔


























Comments