BR100 Decreased By (-0.28%)
BR30 Increased By (0.14%)
KSE100 Decreased By (-0.31%)
KSE30 Decreased By (-0.37%)
BAFL 59.60 Decreased By ▼ -0.24 (-0.4%)
BIPL 27.19 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.96 Decreased By ▼ -0.32 (-0.91%)
CNERGY 13.38 Increased By ▲ 0.25 (1.9%)
DFML 18.75 Increased By ▲ 0.67 (3.71%)
DGKC 214.77 Decreased By ▼ -2.24 (-1.03%)
FABL 99.99 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
FCCL 57.83 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
FFL 16.37 Decreased By ▼ -0.05 (-0.3%)
GGL 24.20 Decreased By ▼ -0.16 (-0.66%)
HBL 324.25 Decreased By ▼ -1.96 (-0.6%)
HUBC 211.15 Decreased By ▼ -2.27 (-1.06%)
HUMNL 10.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 7.65 Increased By ▲ 0.17 (2.27%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 101.37 Decreased By ▼ -1.61 (-1.56%)
OGDC 324.67 Increased By ▲ 0.89 (0.27%)
PAEL 44.15 Increased By ▲ 0.25 (0.57%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
PIOC 274.97 Decreased By ▼ -1.22 (-0.44%)
PPL 232.50 Increased By ▲ 3.03 (1.32%)
PRL 71.90 Increased By ▲ 1.79 (2.55%)
SNGP 104.13 Increased By ▲ 0.47 (0.45%)
SSGC 27.30 Increased By ▲ 0.19 (0.7%)
TELE 8.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.11%)
TPLP 15.44 Decreased By ▼ -0.24 (-1.53%)
TRG 61.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.21%)
UNITY 12.44 Increased By ▲ 0.40 (3.32%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
دنیا

بھارت اور یو اے ای کے درمیان سپرسونک براہموس میزائل کی فروخت پر مذاکرات جاری

  • ذرائع کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

چار بھارتی ذرائع کے مطابق بھارت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے اہم دفاعی نظاموں، جن میں سپرسونک کروز میزائل براہموس بھی شامل ہے، کی فروخت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، کیونکہ خلیجی ملک مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بعد اپنے اسلحہ کی خریداری میں اضافہ کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان بات چیت میں بھارت کے فضائی دفاعی نظام آکاش تیر کی ممکنہ فروخت بھی شامل ہے، جس کی تصدیق دو باخبر ذرائع نے کی ہے۔

ایک تیسرے ذریعے نے بتایا کہ ”یو اے ای نے ہمارے متعدد ہتھیاری نظاموں میں دلچسپی ظاہر کی ہے جن میں براہموس اور آکاش تیر شامل ہیں۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔“

بھارتی حکام اور متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

براہموس، جو بھارت اور روس نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، دنیا کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے زمینی، بحری اور فضائی پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے، جبکہ آکاش تیر بھارت کا مکمل خودکار فضائی دفاعی نظام ہے جسے سرکاری کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) اور بھارتی فوج نے تیار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے ساتھ جنگ کے دوران شدید حملوں کے بعد اب بھارت سمیت مختلف ممالک سے دفاعی سازوسامان خریدنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے آبنائے ہرمز کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے، جو اس کی توانائی کی برآمدات کا ایک اہم راستہ ہے۔

اس سے قبل رواں سال یو اے ای نے جنوبی کوریا کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کی مالیت 35 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔

سیاسی و دفاعی امور کی ماہر پرل پانڈیا کے مطابق دفاعی سپلائرز میں تنوع یو اے ای کو زیادہ اسٹریٹجک خودمختاری فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے امریکہ کو ناراض کیے بغیر تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک اتحادی ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ایس آئی پی آر آئی ) کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ رہا، جس کا حصہ 54 فیصد تھا، اس کے بعد اٹلی 12 فیصد اور فرانس 11 فیصد کے ساتھ آتے ہیں۔

براہموس میزائل کی فروخت سے قبل بھارت کو روس کی منظوری درکار ہوگی، کیونکہ یہ 290 کلومیٹر رینج والا میزائل بھارت اور روس کی مشترکہ تیاری ہے۔ تاہم ایک ذریعے کے مطابق یہ منظوری زیادہ رکاوٹ نہیں بنے گی کیونکہ ماسکو کے ابو ظہبی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ایس آئی پی آر آئی کے سینئر محقق سیمن ویزمان نے کہا ہے کہ براہموس میزائل اور آکاش تیر سسٹم دونوں ہی متحدہ عرب امارات کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، تاہم خلیجی ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے لیے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور یو اے ای پہلے ہی مختلف دفاعی سپلائرز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔

بھارت اور یو اے ای کے دفاعی تعلقات میں گہرا اضافہ

یو اے ای کے پاس پہلے ہی امریکی ساختہ MGM-168 ATACMS بیلسٹک میزائل موجود ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ رینج 300 کلومیٹر ہے۔ فضائی دفاع کے لیے اس کے پاس جدید امریکی نظام THAAD اور پیٹریاٹ بھی موجود ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق آکاش تیر سسٹم مختلف آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کو مربوط کر کے فضائی خطرات کے خلاف ایک مربوط دفاعی نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اگرچہ بھارت کے دفاعی برآمدی معاہدوں کے حوالے سے ماضی میں ایسے کئی منصوبے سامنے آئے ہیں جو مکمل نہیں ہو سکے، تاہم ویزمان کے مطابق آئندہ دنوں میں یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ممکنہ دفاعی سودوں کے امکانات موجود ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور یو اے ای کے تعلقات تجارت اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر دفاعی سازوسامان کی تیاری پر بھی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔

یہ مذاکرات خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اتحادوں کی ایک اور علامت ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی اپنی اس بڑھتی ہوئی شراکت داری کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے مقابل ایک اسٹریٹجک توازن پیدا کر سکتی ہے۔

پرل پانڈیا نے کہا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو وسیع تر علاقائی جغرافیائی سیاسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان خطے میں قیادت کے لیے جاری مسابقت کے پس منظر میں۔

ان کے مطابق بھارت اور یو اے ای کے درمیان توسیع پذیر دفاعی روابط دراصل اسٹریٹجک سگنلنگ کی ایک شکل ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کر رہے ہیں۔

بھارت کی دفاعی برآمدات میں اضافہ

بھارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران، جب بھارت نے پہلی بار میدانِ جنگ میں براہموس سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے، تو اس کے بعد دیگر ممالک کی جانب سے ان نظاموں میں دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

اسی کے بعد بھارت نے براہموس میزائل کی فروخت کے معاہدے ویتنام اور انڈونیشیا کے ساتھ کیے ہیں، جبکہ تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، برازیل اور چلی جیسے ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ان ممالک کے دہلی میں موجود سفارتخانوں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

براہموس میزائل کی اس سے قبل واحد فروخت 2022 میں فلپائن کو کی گئی تھی۔

بھارتی حکومت کے مطابق بھارت کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال مارچ 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 4 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئیں، جبکہ 2013-14 میں یہ محض 7.26 ملین ڈالر تھیں۔

دوسری جانب اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جو عالمی اسلحہ درآمدات کا 8 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے۔

Comments

200 حروف