BR100 Decreased By (-0.9%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.88%)
BAFL 60.33 Decreased By ▼ -0.77 (-1.26%)
BIPL 26.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.15%)
BOP 35.21 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 8.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
DFML 19.84 Decreased By ▼ -0.20 (-1%)
DGKC 216.59 Increased By ▲ 1.30 (0.6%)
FABL 96.96 Decreased By ▼ -0.12 (-0.12%)
FCCL 56.49 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
FFL 18.06 Decreased By ▼ -0.07 (-0.39%)
GGL 24.01 Increased By ▲ 1.32 (5.82%)
HBL 294.98 Decreased By ▼ -3.42 (-1.15%)
HUBC 231.98 Increased By ▲ 0.68 (0.29%)
HUMNL 11.19 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
LOTCHEM 28.55 Increased By ▲ 0.09 (0.32%)
MLCF 100.76 Increased By ▲ 0.24 (0.24%)
OGDC 334.25 Increased By ▲ 2.97 (0.9%)
PAEL 43.08 Increased By ▲ 0.33 (0.77%)
PIBTL 17.84 Decreased By ▼ -0.10 (-0.56%)
PIOC 274.71 Decreased By ▼ -3.14 (-1.13%)
PPL 242.63 Increased By ▲ 0.69 (0.29%)
PRL 35.87 Decreased By ▼ -0.10 (-0.28%)
SNGP 122.86 Increased By ▲ 6.02 (5.15%)
SSGC 32.23 Increased By ▲ 0.91 (2.91%)
TELE 9.11 Increased By ▲ 0.04 (0.44%)
TPLP 10.95 Increased By ▲ 0.71 (6.93%)
TRG 65.95 Decreased By ▼ -0.73 (-1.09%)
UNITY 11.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.03 (-2.33%)
رائے

چارٹر آف اکانومی: ایک غیر ضروری تصور

  • موجودہ صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں
  • ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے
  • اور غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے
شائع June 22, 2026 اپ ڈیٹ June 22, 2026 04:19pm

وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔

ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔

اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔

مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔

تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔

آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔

بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔

بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔

رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔

اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘

پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔

اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔

پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔

آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔

ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔

چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔

تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟

تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟

ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف