BR100 Decreased By (-0.83%)
BR30 Decreased By (-1.36%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.79%)
BAFL 61.10 Decreased By ▼ -0.26 (-0.42%)
BIPL 26.85 Decreased By ▼ -0.20 (-0.74%)
BOP 35.20 Decreased By ▼ -0.85 (-2.36%)
CNERGY 8.22 Decreased By ▼ -0.22 (-2.61%)
DFML 20.04 Decreased By ▼ -0.85 (-4.07%)
DGKC 215.29 Decreased By ▼ -3.81 (-1.74%)
FABL 97.08 Decreased By ▼ -0.32 (-0.33%)
FCCL 56.90 Decreased By ▼ -1.17 (-2.01%)
FFL 18.13 Decreased By ▼ -0.24 (-1.31%)
GGL 22.69 Decreased By ▼ -0.27 (-1.18%)
HBL 298.40 Decreased By ▼ -6.02 (-1.98%)
HUBC 231.30 Decreased By ▼ -2.15 (-0.92%)
HUMNL 11.18 Decreased By ▼ -0.32 (-2.78%)
KEL 8.15 Decreased By ▼ -0.29 (-3.44%)
LOTCHEM 28.46 Decreased By ▼ -0.25 (-0.87%)
MLCF 100.52 Decreased By ▼ -1.95 (-1.9%)
OGDC 331.28 Decreased By ▼ -5.92 (-1.76%)
PAEL 42.75 Decreased By ▼ -0.98 (-2.24%)
PIBTL 17.94 Decreased By ▼ -0.28 (-1.54%)
PIOC 277.85 Decreased By ▼ -6.84 (-2.4%)
PPL 241.94 Decreased By ▼ -7.12 (-2.86%)
PRL 35.97 Decreased By ▼ -0.67 (-1.83%)
SNGP 116.84 Increased By ▲ 2.89 (2.54%)
SSGC 31.32 Increased By ▲ 0.69 (2.25%)
TELE 9.07 Decreased By ▼ -0.25 (-2.68%)
TPLP 10.24 Decreased By ▼ -0.80 (-7.25%)
TRG 66.68 Decreased By ▼ -3.16 (-4.52%)
UNITY 11.29 Decreased By ▼ -0.20 (-1.74%)
WTL 1.29 Decreased By ▼ -0.02 (-1.53%)
پاکستان

وزیر خزانہ کا مالی سال 2026-27 کے بجٹ کا بھرپور دفاع

  • محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے سرکاری معاشی اعداد و شمار میں تضادات کے الزامات کو مسترد
شائع June 21, 2026 اپ ڈیٹ June 21, 2026 10:54am

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے سرکاری معاشی اعداد و شمار میں تضادات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور 2026-27 کا وفاقی بجٹ ترقی پر مبنی پالیسی کا عکاس ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، برآمدات بڑھانا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔

قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بجٹ کی مجموعی سمت پر مثبت ردعمل ملا ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ گزشتہ دو برسوں کی معاشی بہتری کو مزید مستحکم بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی اشاریوں کی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور جی ڈی پی سمیت تمام پیمائشیں تسلسل کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی جو 2015-16 کے مستقل قیمتوں کے بیس سال کے مطابق ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی مختلف تصورات ہیں جبکہ فی کس آمدنی کا حساب قومی آمدنی (جی این آئی)، موجودہ قیمتوں اور 2023 کی مردم شماری کے بعد کی آبادیاتی تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برائے نام جی ڈی پی مالی سال 2025 کے 408.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی ہے۔ ٹیکس نظام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات جاری ہیں، ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت بڑھائی جائے گی اور ٹیکس افسران و ٹیکس دہندگان کے درمیان براہِ راست رابطہ کم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے 14 ارب ڈالر کی اضافی آمدن حاصل کی جو 1988 کے بعد ریکارڈ ہے۔ زراعت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کسانوں کے لیے مختلف ریلیف پیکجز اور سبسڈی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں زرخیز اسکیم کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کھاد پر 15.8 ارب روپے کا سبسڈی پیکج دیا گیا ہے جبکہ زرعی مشینری پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے سے شعبے کی جدید کاری میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ زرعی کولڈ اسٹوریج اور ویلیو چین منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، پنشن اصلاحات، اور ضروری ادویات پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی 6.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ترسیلات زر 4.25 ارب ڈالر تک ریکارڈ کی گئیں جبکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

آخر میں انہوں نے پاکستان کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کردار کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ معاشی استحکام کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف